آئین کی پاسداری کیوں ضروری ہے؟

آئین کی پاسداری کیوں ضروری ہے؟

  

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ آئین کی پاسداری سب پر لازم ہے، فوج کی کامیابی بڑی حد تک عوام کی حمایت پر منحصر ہے، عوام کے تعاون کے بغیر کوئی بھی فوج ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے جیسا کہ ہم نے اپنے ہمسایہ ملک میں دیکھا، پاک فوج اور عوام کا رشتہ وہ مضبوط ڈھال ہے جس نے دشمن کی پاکستان کے خلاف تمام چالوں اور ہتھکنڈوں کو ہمیشہ ناکام بنایا ہے اور اس یکجہتی نے ہمیشہ ہر مشکل میں سرخرو کیا ہے، کچھ لوگ پاکستان مخالف عناصر کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں،اس کا مقصد پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا ہے، منفی عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ملک سے ہر طرح کی انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا ہے،جب تک ٹی ٹی پی ہے دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے، کسی گروہ کو بھی ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔دہشت گردی کے عفریت سے نپٹنے کے لئے بیرونی آلہ کار اندرونی دشمنوں کا قلع قمع کرنا ہو گا۔اُن کا کہنا تھا کہ جنرل فیض حمید کا دورہئ کابل تعمیری تھا تخریبی نہیں۔افغانستان میں امن قائم ہو گا،کابل سے اچھی خبریں آئیں گی۔انہوں نے اِن خیالات کا اظہار راولپنڈی جی ایچ کیو میں یوم دفاع و شہدا کی مناسبت سے مرکزی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کیا،جس میں صدر ڈاکٹر عارف علوی مہمانِ خصوصی تھے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئین کی پاسداری کا ذکر کر کے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے اگر ہم ہر سطح پر،اوپر سے نیچے تک آئین کی پاسداری کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں تو ہمارے تمام مسائل کی شاہ کلید ہمارے ہاتھ میں رہے گی،اس کے بعد تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں اپنے فرائض انجام دینے میں آزاد ہوں گے اور کسی دوسرے ادارے کے امور میں مداخلت نہیں کریں گے۔ معاملات اُسی وقت خرابی کی جانب مائل ہوتے ہیں جب شخصیات اور ادارے آئین کو نظر انداز کر کے غیر آئینی اقدامات کا سہارا لیتے ہیں، اور اپنے فرائض منصبی آئین کی روشنی میں ادا کرنے کی بجائے ذاتی خواہشات کو پیش ِ نظر رکھتے ہیں،اور اپنی رائے کو کسی جواز کے بغیر پوری قوم پر مسلط کرنے پر تُل جاتے ہیں۔ہماری پوری تاریخ اِس امر کی شاہد ِ عادل ہے کہ جب کبھی ہمارے رہنماؤں نے آئین کو نظر انداز کیا اور غیر آئینی اقدامات کا سہارا لیا،ہمارے لئے مشکلات پیدا ہوئیں،ہمارے بعض حکمران آئین کی پاسداری کو اپنی ہتک خیال کرتے رہے،اور آئینی شقوں کی من مانی تشریحات کر کے آگے بڑھتے رہے تو قومی معاملات الجھتے چلے گئے۔ایسے مواقع بھی آئے جب شخصیات اور ادارے آئین کو پس ِ پشت ڈال کر ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئے۔

حالیہ تاریخ میں آئین کو نظر انداز کرنے کی بدترین مثال جنرل پرویز مشرف نے اُس وقت قائم کی جب انہوں نے طاقت اور اقتدار کے نشے میں چیف جسٹس کو اپنے دفتر طلب کر کے اُن سے استعفا طلب کیا،کہا جاتا ہے کہ اُس وقت کئی دوسرے اعلیٰ افسران بھی موقع پر موجود تھے،اُن کی موجودگی میں کچھ کاغذات چیف جسٹس کے سامنے رکھے گئے جن میں اُن کے خلاف ”فردِ جرم“ موجود تھی اور جنرل پرویز مشرف کا خیال تھا کہ اسے دیکھتے ہی چیف جسٹس کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں گے اور وہ استعفا دے کر خوشی خوشی گھر چلے جائیں گے،لیکن جب چیف جسٹس نے انکار کیا تو ان کا پارہ چڑھ گیا اور انہوں نے برہم ہوتے ہوئے ساتھیوں سے کہا کہ ”اس سے استعفا لو“، لیکن جو چیف جسٹس، صدر  اور آرمی چیف کو انکار کر چکا تھا وہ اُن کے ماتحتوں کو کیوں کر استعفا پیش کر دیتا؟ اِس لئے انہوں نے معاملے کو طول دینے سے گریز کیا،البتہ جب چیف جسٹس واپس اپنی سرکاری رہائش پر آئے تو انہیں سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا اور بدسلوکی کی گئی،حالانکہ اگر اُن سے کوئی شکایت تھی تو آئین میں اس کا حل موجود تھا، آئینی راستہ اختیار کر کے اُن پر سپریم جوڈیشل کونسل میں الزامات ثابت  ہونے پر انہیں برطرف کیا جا سکتا تھا،لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ بعدازاں غیر آئینی ایمرجنسی نافذ کر کے عدلیہ کو نشانہ بنا لیا گیا، یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت آنے والا تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ اُن کے خلاف مقدمہ سنا جائے،اس غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کے خلاف وکلا نے عدلیہ بحالی کے نام سے تحریک چلائی،جس کے نتیجے میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چیف جسٹس اپنے منصب پر بحال ہوئے اور بحالی کے بعد اپنی مدتِ ملازمت پوری کی اور اِس دوران بہت سے ایسے فیصلے بھی کئے،جو ہماری سیاست اور معیشت پر براہِ راست اثر انداز ہوئے۔ خود جنرل پرویز مشرف کو بھی اپنے اس اقدام کے پیدا کردہ بحران ہی کے نتیجے میں صدارت چھوڑنی پڑی، جو انہوں نے بزعم خویش پانچ سال کے لئے پکی کر لی تھی اور پیپلزپارٹی سے اس کی ”ضمانت“ بھی حاصل کر لی تھی۔یہ حوالہ دینے کی ضرورت ہم نے اس لئے محسوس کی کہ آج بھی عدلیہ کے ساتھ ایسی چھیڑ چھاڑ جاری ہے، حکومت کو اگر کسی کے خلاف کوئی شکایت ہے تو وہ آئین میں اس کا حل تلاش کرے اور آئین جن اقدامات کی اجازت دیتا ہے وہی اختیار کئے جائیں، تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا، لیکن وکلا اور اُن کی پیشہ ور تنظیموں کو شکایت ہے کہ حکومت غیر قانونی اقدامات کر رہی ہے۔بعض سینئر وکلا نے بڑی تفصیل کے ساتھ ان اقدامات کا ذکر کیا ہے جو عدلیہ کو دباؤ میں رکھنے کے لئے کئے  جا رہے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے اگرچہ کسی سیاق و سباق کے بغیر آئین کی پاسداری کی بات کی ہے، لیکن یہ  اصول عام ہے اور ہر ایسے موقع کے لئے ہے جب کوئی بڑا یا چھوٹا آئین کی مخالفت پر تُل جائے، آئین بالاتر اور مقدس دستاویز ہے اور ادارے اس کے ماتحت اور محتاج ہیں اگر انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ آئین کے سیدھے راستے پر چلتی رہیں اور آئین میں درج شقوں کی تشریح کا حق وہی ادارے استعمال کریں،جنہیں یہ حق حاصل ہے، تو ہماری ساری قومی الجھنیں ختم ہو جائیں اور ہمارا راستہ صاف ہو جائے،آرمی چیف نے یوم دفاع کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک و قوم کو درپیش جن چیلنجوں کا ذکر کیا،اُن کا حل بھی آئین و قانون میں ڈھونڈا جائے تو مشکلات خودبخود راستے سے ہٹتی چلی جائیں گی اور کسی کو کسی سے شکایت بھی نہیں ہو گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -