آزادی کی اجلی صبح 

آزادی کی اجلی صبح 
آزادی کی اجلی صبح 

  

ڈاکٹر صاحب مریضہ کا بلڈ پریشر چیک کرتے ہوئے حیرانی سے اس کی طرف دیکھ رہے ہیں اور مریضہ کہتی ہے زیادہ ہے ناں؟ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں زیادہ نہیں بہت زیادہ ہے(230) ساتھ بیٹھی مریضہ کی بیٹی بولی ڈاکٹر صاحب انہیں دوا نہ دیجئے گا دوائی ہمارے پاس ہے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں آپ کو اس حالت میں ہسپتال ایڈمٹ ہونا چاہئے مریضہ کہتی ہے ڈاکٹر صاحب یہ تو اکثر اتنا ہی رہتا ہے کیا کیجئے؟ ہم حیران کہ اتنا بلڈ پریشر وہ علاج معالجہ سے گریزاں ہے۔ مریضہ کہتی ہے ڈاکٹر صاحب ایک ہفتہ کی دوا ہزاروں میں ہے کہاں سے لائی جائے مریضہ کے اس سوال کا ڈاکٹر صاحب کے پاس کوئی جواب نہیں میں یہ منظر دیکھ رہا ہوں، لیکن تصور ایک عظیم کشمیری قائد سید علی گیلانی کی طرف ہے،جو بھارتی جبر کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک عدم رخصت ہوئے سید علی گیلانی بوڑھے ہو کر بھی جوان تھے ان کی امنگیں جوان تھیں آرزوؤں پہ شباب تھا اور جذبے صادق تھے ان کے جوان اور پہاڑ حوصلوں کے سامنے بھارت کے تمام مظالم دم توڑ چکے تھے وہ زندگی بھر پاکستان کی محبت کا دم بھرتے رہے انہیں کامل یقین تھا مقبوضہ کشمیر ان شاء اللہ ایک روز پاک سر زمین کا حصہ بنے گا،جس پر بھارت نے بندوق کی نوک پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے بھارتی افواج اور آر ایس ایس کے غنڈے جہاں خواتین کی عصمتیں پامال کر رہے ہیں کشمیر کی بیٹیاں اپنے چہروں کو بد صورت بنا کر گھروں سے محض اس خیال سے نکلتی ہیں کہ کہیں وہ بھارتی وحشیوں کی ہوس کا شکار نہ ہو جائیں بالکل ایسے جیسے قیام پاکستان کے وقت مسلمان خواتین نے اپنی عزتوں کی پاسداری کرتے ہوئے کنوؤں میں چھلانگیں لگا دیں ایسے ہی آج کشمیری خواتین کی حالت ہے کشمیریوں کے بیٹوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر شہید کیا جاتا ہے کم سن بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے، لیکن افغانستان کی موجودہ صورتِ حال تو سب کے سامنے ہے کہ دنیا کی طاقتورافواج نے جدید ہتھیاروں کے ساتھ افغانستان پر چڑھائی کی، لیکن بالآخر انہیں شکست ہوئی بعید نہیں کہ کشمیر بھی بھارتی ستم سے نجات حاصل کر لے کہ کشمیر کی تحریک بھی اب بام عروج پر پہنچ چکی ہے اور سید علی گیلانی اس تحریک کے روح رواں تھے یہ وہ سید علی گیلانی ہے، جو مرکر بھی بھارت کے لئے زندہ ہے بھارتی فورسز ان سے اتنی خوفزدہ ہے کہ ان کے جسد خاکی کو تحویل میں لینے کے بعد زبردستی کسی نامعلوم مقام پر انہیں دفنا دیا گیا۔ قابض بھارتی فوج نے حریت رہنما کو ان کی خواہش کے مطابق مزار شہداء قبرستان میں تدفین کی اجازت نہ دی اور بھارتی میڈیا کے مطابق رات کے اندھیرے اور انتہائی سخت سیکیورٹی میں سینئر حریت رہنما کی حیدر پورہ کے قبرستان میں تدفین کر دی گئی۔ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ سید علی گیلانی کے نمائندہ خصوصی عبداللہ گیلانی کی جانب سے بھی اس حوالے سے ایک ویڈیو بیان جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ بھارتی فورسز نے قائد تحریک ِ آزادیِ کشمیر سید علی گیلانی کا جسد خاکی اپنی تحویل میں لے کر نامعلوم مقام پر ان کی تدفین کر دی۔وہ جموں و کشمیر میں بھارتی قبضے کے سخت مخالف اور مظلوم کشمیریوں کی توانا آواز سمجھے جاتے تھے ایسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں کہ جن کا نام کسی بھی خطے کے وقار کو بڑھاتا ہے پاکستانی پرچم میں لپٹی ان کی میت بھارت کے لئے بڑا خطرہ سمجھی گئی اور سید علی گیلانی کے خاندان کو ان کی تدفین بھی نہ کر نے دی گئی یہ بھارت کو علم ہے کہ کسی بھی وقت کشمیری آزادی کی اجلی صبح پالیں گے، لیکن دنیا ان سورماؤں کو دیکھ چکی ہے کہ ان سے بڑا بزدل شائد ہی کوئی ہو گا۔بھارت سید علی گیلانی ایسے قد آور قائد کے نام سے کانپتا ہے تو حیرت نہیں اور جمہوریت کا بڑا چمپئن کہلوانے والا بھارت میتوں کی تدفین سے روکتا ہے تو اس کی وحشتیں آشکار ہوتی ہیں بھارت جان چکا ہے کہ کشمیر کسی بھی وقت آزادی حاصل کرلے گا یہی حقیقت اسے کسی کروٹ چین نہیں لینے دیتی اور سید علی گیلانی تحریک آزادی کشمیر کے ایسے عظیم لیڈر تھے، جنہیں 23برس نظر بند رکھا گیا اور پھر بھی ان کے جذبے سلامت رہے وہ ایک نظریاتی کرشماتی اور طلسماتی شخصیت تھے جن کی وفات پر بھارت شاداں تو ہے، لیکن اسے معلوم نہیں کہ ہر کشمیری جذبہ حریت سے سرشار ہے اور سید علی گیلانی کے نظریات کا پاسدار بھی ہے مرے تصور کامیلان سید علی گیلانی کی جانب تھا کہ اچانک ڈاکٹر صاحب کے خاتون سے ہونے والے مکالموں کی آواز گونجی ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے بی بی دوا روزانہ لیا کرو اور وہ کہہ رہی ہے صرف دو وقت کی دوا رہ چکی ہے، جو میں روزانہ نہیں لے سکتی بہت مہنگی ہے بس طبیعت کے زیادہ خراب ہونے پر ہی دوا لیتی ہوں یہ بات ایسی مریضہ کہہ رہی تھی جسے فالج ہوچکا ہے اور وہ بلڈ پریشر شوگر اور دل کے عارضہ میں مبتلا ہے، سوچتا ہوں ملک میں بھڑکی مہنگائی کی آگ آخر کب ٹھنڈی ہوگی۔

مزید :

رائے -کالم -