سید علی گیلانی کی جدوجہد کو سلام 

سید علی گیلانی کی جدوجہد کو سلام 
سید علی گیلانی کی جدوجہد کو سلام 

  

بھارت جس طرح سید علی گیلانی سے ان کی زندگی میں خوفزدہ رہا اس سے بڑھ کر خوفزدہ ان کی وفات پر ہوا،یہی وجہ ہے کہ اس کے سیکیورٹی اداروں نے رات کے اندھیرے میں ان کے جسد خاکی کو جبراً دفنا دیا۔ سید علی گیلانی جس طرح اپنی زندگی میں بھارت کے لئے درد سر تھے، وفات کے بعد بھی وہ ان سے ڈرتا رہا۔ سید علی گیلانی مرحوم 29 ستمبر 1929ء کو بارہمولہ کے قصبے سوپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز جماعت اسلامی ہند سے کیا اور اس کے رکن بنے۔بعد ازاں سید علی گیلانی سوپور ہی سے کشمیر کی اسمبلی کے تین مرتبہ 1972ء، 1977ء اور 1987ء میں رکن منتخب ہوئے تھے۔پھر جب مزاحمتی تحریک شروع ہوئی تو انہوں نے تحریک حریت کے نام سے اپنی الگ جماعت بنائی جو کل جماعتی حریت کانفرنس نامی اتحاد کا حصہ تھی۔ سید علی گیلانی ”رابطہ عالم اسلامی“ کے بھی رکن تھے،حریت رہنماء یہ رکنیت حاصل کرنے والے پہلے کشمیری حریت رہنماء ہیں۔مجاہد آزادی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ علم و ادب سے شغف رکھنے والی شخصیت بھی تھے اور علامہ اقبال کے بہت بڑے مداح تھے۔ انھوں نے اپنے دور اسیری کی یادداشتیں ایک کتاب کی صورت میں تحریر کیں جس کا نام ”روداد قفس“ ہے۔انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ بھارتی جیلوں میں گزارا۔سید علی گیلانی کو نشانِ پاکستان کا اعزاز دیا گیا۔ سید گیلانی ”ہم پاکستانی ہیں اورپاکستان ہماراہے“کے نعرے کے موجد تھے اور آزادی کشمیر کی ایک توانا آواز تھے۔اسی لئے ان کی وفات کے وقت بھی ان کے اہل خانہ نے انہیں پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر سپرد خاک کیا۔

سید علی گیلانی نے اپنی زندگی کا مشن اسلام اور پاکستان سے محبت کو بنا رکھا تھا اور اسی مقصد کے حصول کیلئے وہ 92 سال کی عمر میں بھی نوجوانوں کی طرح کام کرتے تھے اور مرتے دم تک تحریک آزادی سے لمحہ بھر بھی غافل نہ ہوئے۔پیرانہ سالی کے باوجود مودی حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے رہے۔آج پورے کشمیر میں بھارتی جارحیت کیخلاف نوجوان پاکستانی پرچم لے کر بر سر پیکار ہیں تو اس میں بھی بنیادی کردار سید علی گیلانی مرحوم کا ہی ہے، جنہوں نے مقبوضہ کشمیر کی نوجوان نسل کو پاکستان سے روشناس کرایا اور انہیں بتایا کہ ہمارا رشتہ پاکستان کے ساتھ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر ہے اور ہمارے راستے پاکستان کی طرف جاتے ہیں ہمارا منہج قرآن اور اسلام ہے اور اسی بنیاد پر ہم پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔ اپنے اسی موقف کی وجہ سے وہ مقبوضہ کشمیر میں چلتا پھرتا پاکستان کہلائے جاتے تھے۔ ان کی جدوجہد آزادی نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کیلئے  بلکہ پوری دنیا کے حریت پسندوں کیلئے ایک رول ماڈل اور رہنماء کی حیثیت رکھتی ہے جنہوں نے پوری زندگی ایک مشن کے تحت گزاری اور دنیا کو بتلایاکہ جب تک مشن کی راہ میں آنے والی ہر تکلیف اور مصائب کو مسکرا کر اور دشمن کے اوچھے ہتھکنڈوں کا پامردی کے ساتھ مقابلہ نہ کیا جائے تب تک منزل کا حصول ممکن نہیں۔

سید علی گیلانی مرحوم کی ہمیشہ خواہش رہی کہ ان کی زندگی میں کشمیر کا فیصلہ ہو جائے اور کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو جائے لیکن زندگی نے ان کے ساتھ وفا نہ کی لیکن جس طرح وہ اپنے موقف پر کھڑے رہے اور بھارتی مصائب کا مقابلہ کیا یقینا حریت قیادت اور کشمیری رہنماؤں کیلئے آنے والے وقت میں آسانیاں پیدا کر گئے ہیں اور انہیں ایک راہ بتلا گئے ہیں کہ اس راہ پر چلو گے تو کامیاب ہو گے وگرنہ بھارت جس نے دو سال سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے اور حریت قیادت سمیت ان رہنماؤں کو بھی پابند سلاسل کر رکھا ہے جو بھارتی موقف کے حامی ہیں ان کیلئے یہ ایک سبق ہے کہ دشمن پر کبھی اعتبار نہیں کرنا چاہئے۔آنے والے وقت میں جب مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا تو سید علی گیلانی مرحوم کا نام جدو جہد آزادی کی صف میں سر فہرست ہو گا اور مجاہد آزادی کا نام اور ان کی کوششوں کو سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ کشمیری سیدعلی گیلانی کو آزاد فضاؤں میں کھڑے ہو کر سلام پیش کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -