تین سالہ کارکردگی کی رپورٹ

تین سالہ کارکردگی کی رپورٹ
تین سالہ کارکردگی کی رپورٹ

  

اردو بازار لاہور کے قریب ایک مداری ہوا کرتا تھا وہ ہر روز بازار میں نکلتا عوام کا مجمع لگاتا اور انہیں نئی سے نئی کہانی سناتا تھا   وہ سٹیل  کا گلاس زمین پر زور سے رکھتا اور عوام سے کہنا شروع کردیتا کہ دیکھنا ابھی اس گلاس میں سے خرگوش نکلے گا جب  عوام کی توجہ حاصل کر لیتا تو وہ مختلف بیماریوں،جن میں دانت کا درد، معدے جگر کی خرابی، بے وجہ تھکاوٹ، اعصابی کمزوری کا علاج بتانا شروع کر دیتا لوگوں کو بستے سے رنگ برنگی بوتلیں نکال نکال کر دکھاتا جونہی وہ محسوس کرتا کہ لوگوں کا دھیان بھٹک رہا ہے تو پھر سے نعرہ لگاتا کہ دیکھنا ابھی گلاس میں سے خرگوش نکلے گا جب وہ عوام کی توجہ دوبارہ سے حاصل کر لیتا تو پھر کالے جا دو کے وار، اولاد کا نہ ہونا یا ہو کر مر جانا، محبت میں ناکامی،من پسند شادی، روٹھا محبوب تین دن کے عمل سے آپ کے قدموں میں، شوہر آپ کی مٹھی میں،اور داماد بنے گا تابعدار، بیٹا کے تعویذ بیچنا شروع کر دیتا، لیکن اس ایک گھنٹے کی اعصاب شکن نشست کے بعد بہت سے عقلمند یہ اندازہ لگا لیتے کہ یہ محض ایک مداری ہے، جو گزشتہ ایک گھنٹے سے ہمیں دھوکہ دے رہا ہے یہ صرف ہمارا وقت ضائع کر رہا ہے۔

وزیراعظم کوکچھ دن پہلے اپنی تین سالہ کارکردگی قوم کے سامنے پیش کرنے کی سوجھی،  انہیں اپنی قوت گویائی پر بہت یقین تھا اور جناب کو لگتا تھا کہ کوئی نئی بات سنا کر عوام کی توجہ کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور مزید دو سال تک اپنا چورن بیچ سکیں گے، اب میری قوم اعداد و شمار مانگتی ہے یہ سوشل میڈیا کا دور ہے،اب لوگ مداری کے مکر و فریب کا یقین نہیں کرتے تو طفل تسلیوں کا  کیسے کریں گے۔اب ہر بندہ جانتا ہے کہ گھی کا ٹین تیس سو روپے سے چون سو روپے کا ہو گیا ہے، ایک کلو آٹا پچیس روپے سے ستر کا ہوگیا ہے ایک کلو چینی پچپن سے ایک سو دس، دال پچاس سا ٹھ سے ایک سو ساٹھ،سبزیاں  دس پندرہ  روپے سے سو روپے کلو ہوگئی ہیں، مرغی کا گوشت دو سو روپے سے  تین سو ساٹھ روپے کلو تک پہنچ گیا ہے۔ایک لیٹر پٹرول پینسٹھ سے ایک سو بیس روپے فی لیٹر،بجلی کا ایک یونٹ آٹھ سے تیس روپے،گیس کا بل دو سو سے چھ سو روپے،ڈالر ایک سو بیس سے ایک سو انہتر، سونا پچا س ہزار سے ایک لاکھ دس  ہزار روپے فی تولہ،پانچ سو روپے والا سوٹ دو ڈھائی ہزار میں،ایک ہزار والا جوتا تین ہزار میں، ادویات کی قیمتوں میں دو سو  فیصد تک اضافہ، ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت تقریباً ختم۔

میرا دیس ایک زرعی ملک ہے ڈی اے پی کی بوری تین ہزار سے پینسٹھ سو، یوریا  تیرہ سو سے اٹھارہ سو روپے،زرعی ادویات کی قیمتوں میں دو سو  فیصد تک اضافہ کنسٹرکشن سیکٹر کھولنے  کا کہا،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیمنٹ کی بوری تین سو سے چھ سو ساٹھ، سر یا ستر روپے سے ایک سو ستر، بجری پینتالیس روپے سے اسی روپے، اینٹ آٹھ ہزار سے با رہ ہزار، ریت کی ٹرالی چھ ہزار سے بارہ ہزار تک قرضہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ملک میں کوئی ایک میگا پروجیکٹ شروع نہ ہو سکا،رشوت کے ریٹ میں تین سو فیصد اضافہ۔ یہ ایک چھوٹا سا موازنہ تھا جو غیور عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی۔ سوال صرف یہ ہے کہ عوام کب تک مداری کے گلاس سے خرگوش نکالنے کا انتظار کریں گے، کب تک عوام کے ساتھ دھوکہ دہی جھوٹ مکر و فریب اور طفل تسلیوں کا کھیل کھیلا جاتا رہے گا، بس کر جائیے، میری قوم میں اب سکت نہیں رہی، میری قوم کا بچہ بچہ یہ جان گیا ہے کہ حکمران غلط اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں۔

حکومت نے اپنی تین سالہ کارکردگی ٹیلی ویژن پر پیش کر دی ہے، لیکن کسی وزیر مشیر کے مشورے پر یہ کارکردگی لے کر عوام میں نہ آ جایئے گا  وہ بہت غصے میں ہیں، حوصلہ افزا نتائج برآمد نہیں ہو سکیں گے،لوگ بہت کڑوے سوال پوچھتے ہیں اور ان کا جواب دینے کے لئے آپ کے پاس کچھ نہیں اللہ کریم سے دعا ہے کہ میری قوم پر رحم فرما دے۔ یااللہ ہمیں مہنگائی کے ہاتھوں ذلیل ہونے سے بچا آمین

مزید :

رائے -کالم -