رقص بسمل اور انصاف کے متلاشی

رقص بسمل اور انصاف کے متلاشی
رقص بسمل اور انصاف کے متلاشی

  

کتنا ہی شور مچالیں، تین سالہ کارکردگی کا جتنا بھی ڈھونڈرا پیٹ لیں،یا پھر کامیابی کے کتنے ہی قلابے ملا لیں،ریاست خدادِ پاکستان کی عوام کی اکثریت کے لئے یہ تین سال گویا رقص ِ بسمل سے کم نہ ہیں۔ ایسے حالات کی قتیل شفائی مرحوم نے کیا خوب تصویر کشی کی ہے۔

رقصِ بسمل ہی نہ تھا نغمہ زنجیر بھی تھا

مرگ انبوہ میں اک جشن ہمہ گیر بھی تھا

سچ تو یہ ہے کہ عام پاکستانی کے لئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہی نہیں، بلکہ ناممکن ہو چکا ہے۔ ملک کے انتہائی قلیل تاہم طاقتور اور اکثریت میں ہونے کے باوجود، لیکن محروم طبقہ کے درمیان خلیج اس قدر وسیع ہوچکی ہے کہ پاٹنے سے بھی نہیں پٹتی۔ عام آدمی کے لئے جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھنا گویا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوچکا ہے۔ بنیادی ضروریات سے محروم طبقہ آہ و بقا کر رہا ہے جبکہ اہلِ اقتدار ترقی و خوشحالی کے جعلی اعدادو شمار کے ساتھ خوب کھیل رچائے بیٹھے ہیں۔ حسرت و مایوسی کی تصویر بنے محروم طبقہ کی خلیج کے اْس پار موجود اہل ثروت و اختیار تک یا تو رْندھی ہوئی آوازیں پہنچ ہی نہیں رہیں یا پھر یہ طبقہ انکی دادو فریاد سننا ہی نہیں چاہتا۔ بے حسی اور سفاکی کا دور دورہ ہے۔

ارباب اختیار مکر و ڈھٹائی کے عروج کمال پر ہیں۔ لگے ہیں نیرو کی طرح’سب اچھاہے‘کی بانسری بجانے۔  اگر حکمرانوں کی مانیں تو خزانہ بھرا ہوا اور تمام دیگر معاشی اعدادو شمار اپنی بلندیوں کو چھورہے ہیں تاہم جب ایک عام پاکستانی کی جانب دیکھیں تو آٹا، گھی اورچینی سمیت اشیاء خوردونوش ہوں یا پھر بجلی، گیس اور صاف پانی، انکے لئے ان بنیادی ضروریات کو حاصل کرنا گویا ایک ایسی جنگ بنتا جارہا ہے جس میں ہر روز انہیں ایک نئی شکست کا سامناہوتا ہے۔ سستا انصاف، تعلیم اور صحت کی سہولیات انکے لئے ایک حسرتِ ناتمام اور خواب بنتے جارہے ہیں۔ اونٹ رے اونٹ تیری کون سے کل سیدھی کے مصداق وزیر اعظم عمران خان پہلے یہ بیان دیتے ہیں کہ مہنگائی کی وجہ سے انہیں نیند نہیں آتی اور اگلے ہی روز یہ بیان داغ دیتے ہیں کہ پاکستان دْنیا کا سب سے سستا ترین ملک ہے۔ یوٹرن پر یوٹرن لینے کیلئے منفرد مقام کے حامل وزیر اعظم عمران خان کے اس طرزِ عمل پر بھلا اب ہم کیا کہیں۔

ایسے میں حال ہی میں امریکہ کو اڈے دینے کے سوال پرکورا جواب دینے والے وزیر اعظم عمران خان اس وقت واشنگٹن کے دباؤ و پر گویا چاروں شانے چت نظر آتے ہیں۔ ’بالکل بھی نہی‘ کہنے والے اس وقت سارا آنگن ہی امریکہ کے سامنے فرشِ نظر کرچکے ہیں۔ وفاقی وزیر شیخ رشید احمد اپنے بیانات میں امریکی فوجیوں کی پاکستان کی سرزمین پر موجودگی کا لاکھ انکار کریں، اسلام آباد ائیرپورٹ پر امریکی طیاروں کی مسلسل آمد اور اْڑان اورہوٹلوں اور دیگر سرکاری اداروں میں انکا قیام کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں۔ پاکستانی قوم کو اس ضمن میں مکمل طور پر اندھیرے میں رکھا جارہا ہے۔ اہل بصیرت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں امریکی فوجیوں کے قیام کے بڑھنے کی صورت میں افغان جنگ کا پاکستان کی سرزمین پر منتقل ہونے کا قوی امکان موجودہے جو اپنے ساتھ دہشت گردی کی ایک نئی لہر بھی لاسکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ حکومت جلد از جلد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر پاکستانی قوم کو اعتماد میں لے۔ اب کچھ بات نظام ِانصاف کی بھی کرلیتے ہیں۔ امن و امان کے قیام اور عوام کو انصاف کی فراہمی میں پولیس کا بنیادی کردار ہے۔

تاہم ان تین سالوں میں جہاں دیگر حکومتی دعووٗں کی خوب قلعی کھلی ہے وہاں پولیس اصلاحات کی ہنڈیا بھی بیچ چوراہے میں پھوٹ چکی ہے۔ عوام کو کیا انصاف ملنا تھا طبقاتی نظام کا شکار خود پولیس اہلکاروافسران بھی انصاف کے متلاشی نظر آتے ہیں۔ حکومتی زعماء  ہوں یا پھر اعلیٰ پولیس افسران، انہیں کہیں سے بھی انصاف ملتا نظر نہیں آتا۔ ایسے میں نا انصافی کا شکار پولیس اہلکار بھلا عوام کو کیونکر انصاف فراہم کرسکیں گے۔ ماتحت پولیس افسران و اہلکاروں میں اضطراب مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ ان کی بڑھتی ہوئی بے چینی ومایوسی کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ پنجاب پولیس کے اے ایس آئی عہدہ کے ماتحت پولیس اہلکاروں نے اپنے حقوق کے حصول کے لئے صوبہ بھر میں باقاعدہ احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے۔ اس حوالے سے چھوٹے تھانیداوں کی جانب سے لاہور پریس کلب کے سامنے 12ستمبر کو احتجاجی مظاہرہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جاچکی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ وہ تیرہ سال سے ایک ہی عہدہ پر فائز ہیں اور انہیں ترقی نہیں دی جارہی جبکہ دوسری جانب پی ایس ای افسران ہیں جو اے ایس پی بھرتی ہونے کے بعد تین سے چار سال میں مختلف اضلاع کے ڈی پی او تک بن جاتے ہیں۔ قبل ازیں ایسی ہی ایک عرضداشت میں ایس پی عہدہ کے کئی رینکر افسران نے خود کو پی ایس پی کیڈر میں شامل کیے جانے کے فیصلے پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔ گریڈ 18کے ان پولیس افسران نے چیف سیکرٹری پنجاب کو اپنے خط میں یہ واضح کیا کہ وہ کسی بھی صورت میں پولیس سروس آف پاکستان کیڈر کے خواہشمند نہیں ہیں۔

بلکہ یہ ان کے ساتھ سخت زیادتی و الا معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف انکی سینیارٹی متاثر ہوگی بلکہ  یہ اقدام اس امر کی بھی غمازی بھی کرتا ہے کہ پی ایس پی افسران محکمہ پولیس کو عوامی اْمنگوں کے مطابق ڈھالنے میں بذات خود ایک بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس آڈر 2002ء  کے مطابق کسی ضلع کے پولیس افسر کو کم از کم ڈی آئی جی اور آرپی او اور سی سی پی و عہدہ کے افسران کو ایڈشنل آئی جی ہونا چاہیے تاہم پولیس آڈر کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے پنجاب بھر میں ان عہدہ پر جونئیر افسران کو تعینات کیا گیا ہے۔ انکا کہناتھا کہ محکمہ پولیس کو پی ایس پی افسران کی جنت بنانے کی بجائے اسے منصفانہ اور پروفیشنل بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ ایک رینکر ایس پی کا کہنا تھا پولیس آڈر 2002ء  سے قبل اے ایس آئی، سب انسپکٹر اور انسپکٹر تک کے عہدہ کے حامل ماتحت پولیس اہلکاروں کے لئے ڈی آئی جی اور آئی جی بننے تک کے امکانات موجود رہتے تھے اور ان میں سے چند باوجود تمام تر مشکلات کے ان عہدوں پر پہنچنے میں کامیاب بھی رہتے تھے۔ تاہم اب ایسا ہرگز بھی ممکن نہیں رہا۔ پی ایس پی افسران نے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت پولیس سروس سٹرکچر کو اس بْری طرح سے اپنے حق میں کیا ہے کہ جسکے باعث پیشتر پولیس اہلکار انسپکٹر کے عہدے تک پہنچنے سے قبل ہی ریٹائر کردیے جاتے ہیں جبکہ ان میں سے کچھ ڈی ایس پی کے عہدے تک اور بہت ہی کم ایس پی کے عہدہ تک پہنچ پاتے ہیں۔ پی ایس پی کیڈر میں شامل ہونے کا مطلب ہے کہ انہیں سینارٹی لسٹ میں سب سے نیچے لگا دیا جا ئے جس کے باعث انکے مزید ترقی کے امکانا ت تقریباً معدوم ہوجائیں گے۔ یوں وہ مزید ترقی سے قبل ہی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ ریٹائر کردیے جائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -