اصلاح ا حوال کا نقطہ آغاز؟

 اصلاح ا حوال کا نقطہ آغاز؟
 اصلاح ا حوال کا نقطہ آغاز؟

  

12ستمبر2021ء کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں حکمران جماعت نے اس کے لئے فوج تعینات کرنے کی درخواست کی تھی جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیا ہے۔ پچاس کی دہائی میں ہونے والے صوبائی انتخابات کے بارے میں ہم نے پڑھا ہے کہ ان میں جھرلو پھیرا گیا تھا پہلے ہی انتخابات میں ”جھرلو“ کی دریافت نے ہماری قومی تاریخ میں انتہائی گھناؤنا کردار ادا کیا اور ہنوز اس کے سائے ہماری قومی  سیاست پر چھائے ہوئے ہیں۔

7دسمبر1970ء کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اولین عام انتخابات جس میں 300 ممبران قومی اسمبلی کا انتخابات ہونا تھا حیران کن حد تک عوامی لیگ نے شیخ مجیب الرحمان کی قیادت میں مشرقی پاکستان کی 162میں سے 160سیٹیں جیت کر ریکارڈ قائم کر دکھایا۔  مغربی پاکستان کے چار صوبوں کے لئے قومی اسمبلی کی 138میں سے ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی  81نشستیں جیت سکی۔ پنجاب اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی اکثریت تھی سرحد میں پیپلزپارٹی کی ایک نشست تھی بلوچستان میں ایک بھی نہیں تھی۔ اب کہا جاتا ہے کہ یہ انتخابات بھی فیئر نہیں تھے،بلکہ عوامی لیگ نے بندوق کی نوک پرووٹ لئے تھے۔دو نشستیں راجہ تری دیو رائے اور نورالامین کو صرف اس لئے دے دی گئیں کہ ریکارڈ درست رہے کہ انتخابات ہوئے۔

 مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد باقی ماندہ پاکستان کا اقتدار بھٹو کو مل گیا۔لیکن پاکستان میں انتخابات کا اعتبار آج تک قائم نہیں ہو سکا ہر انتخاب میں ہارنے والوں نے انتخاب کا نتیجہ تسلیم نہیں کیا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصلاح احوال کا نقطہ اول کیا ہونا چاہیے؟ ویسے تو اصلاح احوال کے دو مروجہ طریقے ہیں ایک انقلابی طریقہ اور دوسرا اصلاحی و تدریجی طریقہ جدید تاریخ اقوام عالم کی ابتداء ہی انقلاب فرانس سے ہوتی ہے جب عوام الناس نے طبقہ اشرافیہ کے خلاف بغاوت کی اور بادشاہی نظام کو الٹ کر رکھ دیا اسی انقلاب کے بطن سے اصلاحی  تبدیلی کے عمل کی شروعات ہوئیں اور جدید دنیا کی تشکیل ہوئی یہ مغربی افکار و نظریات عالمی سطح پر چھائے ہوئے نظر آتے ہیں پہلے برطانیہ پھر امریکہ اس جدید تہذیب وتمدن کی نمائندگی کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

پھر ہمارے سامنے انقلاب روس بھی ہے، جس نے وسیع و عریض سر زمین روس پر طاری زار شاہی کا خاتمہ کیا۔ایسے ہی انقلاب ایران ہے،جس کے ذریعے پہلوی بادشاہت کا خاتمہ ہوا۔عرب دنیا میں بھی چھوٹے موٹے انقلابات کی مثالیں موجود ہیں، لیکن دوسری طرف تدریجی انداز میں بھی اصلاح احوال کی کامیاب کہانیاں نہیں بلکہ عملی صورتیں ہمارے سامنے موجود ہیں ملائیشیا اور سنگا پور کی مثالیں دیکھیں مہاتیر محمد اور لیکوان نے تدریجی انداز میں اپنے ملکوں کو کامیابی و کامرانی کی زندہ مثالیں بنایا،تدریجی انداز میں نظام کی تبدیلی کی ایک اہم مثال ہانگ کانگ ہے چین نے کھلے نظام معیشت اور جمہوری معاشرے کو بڑے خوبصورت انداز میں سوشلسٹ طرز حکمرانی میں بدلا ہے اور اصلاح احوال کی سب سے کامیاب مثال چین ہے ماؤز ے تنگ اور چو این لائی کے چین کو 60ء کی دہائی میں جدید عالمی معیشت میں بدلنے کا عمل تدریجی انداز میں ہی تکمیل کے مراحل طے کرتے کرتے آج یہاں تک پہنچا ہے، جس میں چین ترقی کرتے کرتے دنیا کی عظیم طاقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے  اور آگے ہی آگے بڑھ رہا ہے۔

گویا تبدیلی یا بہتری کے لئے دونوں ماڈل قابل عمل دکھائی دیتے ہیں لیکن ہمارا ملک ہمارا خطہ،ساؤتھ ایشیاء،برصغیر پاک و ہند کسی انقلابی تبدیلی کے عمل سے نہ کبھی گزرا ہے اور نہ یہاں اس کے گزرنے کے احوال پائے جاتے ہیں۔یہاں اصلاح احوال کے لئے تدریجی عمل ہی کامیاب ہو سکتاہے یہ خطہ سیاسی و مذہبی اصلاحی تحریکوں کی تاریخ سے بھرا ہوا ملے گا تقسیم ہند کی مثا ل ہی دیکھ لیں قیام پاکستان سر سید احمد کی فکری تحریک علی گڑھ اور قائداعظم کی قیادت میں علامہ اقبال کے دوقومی نظریے کی سیاسی تشکیل کے نتیجے میں ممکن ہوا۔قائد اعظم نے ایک بھی گولی چلائے بغیر ایک بھی دن جیل میں گزارے بغیر سب سے بڑی مسلم ریاست قائم کر کے دکھائی یہی ریاست آگے چل کر عالم اسلام کی اولین ایٹمی طاقت بن کر عالمی منظر پر چھائی ہوئی ہے۔

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان مسائل کا شکار ہے ہمہ جہتی مسائل نے یہاں ڈیرے جما رکھے ہیں پاکستان وہ ترقی نہیں کر سکا، جو اس کا مقدر ہونا تھا قدرت نے پاکستان کو انسانی و قدرتی وسائل سے مالال مال کر رکھا ہے پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بھی مسلم  ہے، لیکن ہم اپنے آپ کو ترقی کرتی ہوئی،خوشحال اور باوقار اقوام کی صف میں کھڑا نہیں کر پا رہے ہیں معاملات بگاڑ کا شکار ہیں۔بگاڑ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے عامہ الناس شدید مایوسی اور کرب کا شکار نظر آتے ہیں حکمران اور با اختیار طبقات معاملات کو بہتری کی طرف پہنچانے میں یا تو سنجیدہ نظر نہیں آتے یا انہیں راہ دکھائی نہیں دیتی ہے ہمارے ہاں کسی انقلابی تبدیلی کی گنجائش ہر گز نہیں بہتری کی صورت تدریجی ہو سکتی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تبدیلی،بہتری اور اصلاح احوال کی ابتدا کہاں سے کی جائے۔؟

ریاست کے لئے آئین  ہی ایک ایسی مقدس دستاو یز ہوتی ہے،جو اس کی فکری و عملی رہنمائی کا کردار ادا کرتی ہے  پوری قوم 1973ء کے دستور پر متفق ہے اسی دستور کی بنیاد پر ہم نے سقو ط مشرقی پاکستان کے بعد ایک عزم نو کے ساتھ قومی تعمیرو ترقی کے سفر کا آغاز کیا تھا اب اسی دستور کو اس کے تقدس کو گواہ بنا کر ہم عہد کریں کہ ہم سب اس کی قولاً و فعلاً پیروی کریں گے ہر فریق ریاست کا ہر ادارہ اس آئین کی پیروی کا عہد کر ے تو ہم بطور قوم ایک بار پھر صراطِ مستقیم پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ اب اس کے سوا ہمارے پاس اور کوئی لائحہ عمل موجود ہی نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -