پنجاب میں افسران کی تبدیلی، مکھی پر مکھی مارنے کا فائدہ؟

پنجاب میں افسران کی تبدیلی، مکھی پر مکھی مارنے کا فائدہ؟
پنجاب میں افسران کی تبدیلی، مکھی پر مکھی مارنے کا فائدہ؟

  

چیف سیکرٹری اور آئی جی صوبے کے دو ایسے عہدے ہیں،جن میں صوبائی حکومت کی جان ہوتی ہے۔اِن دونوں عہدوں پر تعینات افسران کی اگر وزیراعلیٰ سے اچھی ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہو جائے تو صوبے کی گورننس مثالی ہو جاتی ہے۔حالیہ برسوں میں دیکھا گیا ہے دیگر تین صوبوں کی نسبت پنجاب میں چیف سیکرٹری اور آئی جی بار بار تبدیل کئے گئے ہیں۔چیف سیکرٹری اور آئی جی تبدیل کرنا صوبے کا اختیار ہے بھی نہیں، اس کی منظوری وفاقی حکومت دیتی ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار چونکہ عمران خان کے وسیم اکرم پلس  ہیں اِس لئے ان دونوں عہدوں پر نئی تقرریوں کی منظوری لے لیتے ہیں۔اب بھی یہ خبریں گرم ہیں کہ پنجاب میں ان دونوں بڑے انتظامی عہدوں پر نئے افسروں کی تعیناتی کی جا رہی ہے اور وزیراعظم نے اُن کے ناموں کی منظوری دے دی ہے۔شہباز شریف نے اسے صوبے کے ساتھ مذاق قرار دیا ہے، حالانکہ انہیں بھی اپنے بھائی نواز شریف کے وزیراعظم ہونے کی وجہ سے سہولت حاصل تھی کہ جب چاہتے آئی جی اور چیف سیکرٹری تبدیل کرا لیتے تھے۔افسروں کی بار بار تبدیلی عوام کے ساتھ مذاق ہے یا نہیں،اس سے قطع نظر یہ بات اہم ہے کہ پنجاب  جیسا بڑا صوبہ  گڈ گورننس کے لئے ترس رہا ہے دو بڑے افسروں کی وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے بنتی نہیں یا پھر وہ اُن کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوتے، اِن دونوں میں سے ایک بات تو ضرور ہوتی ہے۔ابھی چند روز پہلے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے یہ وارننگ دی تھی سرکاری افسر کام کر کے دکھائیں صرف سب اچھا کی رپورٹوں سے کام نہیں چلے گا۔یہ بات اصولاً تو چیف سیکرٹری اور آئی جی کو اپنے ماتحوں تک پہنچانی چاہئے تھی،انہیں بائی پاس کر کے وزیراعلیٰ نے اگر براہِ راست یہ وارننگ جاری کی تو اس کا مطلب ہے اُن کا روئے سخن صوبے کے دونوں بڑے انتظامی عہدوں پر براجمان افسروں کی طرف بھی تھا۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو تین سال ہو گئے ہیں اور آثار بتاتے ہیں اگلے دو سال بھی وہی وزیراعلیٰ رہیں گے،اتنے واضح مینڈیٹ کے باوجود انہیں صوبے پر گرفت کے لئے مشکلات پیش آ رہی ہیں، تو یہ معنی خیز بات ہے۔ عثمان بزدار کی معصومیت کہیں، سادہ دِلی یا پھر کمزوری کہ انہوں نے بیورو کریسی پر اپنا ہَوا نہیں بٹھایا۔ افسروں کے بس کا روگ نہیں، وہ ایک دوسرے پر نظر رکھ سکیں، سی ایس پی افسران تو ویسے بھی ایک خاص قبیلہ ہے، جس میں ایک دوسرے کو تحفظ دینا اولین شرط ہے۔ عثمان بزدار کی سادگی یہ ہے پچھلے دِنوں انہوں نے بیان دیا بیورو کریسی کو سیاسی دباؤ سے آزاد کر دیا ہے۔ یہ ایسے افسران تو نہیں کہ انہیں سیاسی دباؤ سے آزاد کر دیا جائے تو یہ عوام کو ریلیف دینے لگیں،یہ تو مزید بادشاہ بن جاتے ہیں، خبریں تو یہ بھی گردش کر رہی ہیں پنجاب میں تعینات کئے جانے والے افسران کی فہرست وزیراعلیٰ آفس سے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو آ جاتی ہے،انہیں صرف آرڈر جاری کرنے کو کہا جاتا ہے۔اگر افسران کو سیاسی دباؤ سے آزاد کر دیا گیا ہے تو چیف سیکرٹری اور آئی جی کو افسروں کے تقرر و تبادلے کا آزادانہ اختیار بھی ملنا چاہئے۔چیف سیکرٹری اور آئی جی کے دفاتر کو صرف ایک ڈاکخانہ بنا دیا جائے گا تو صوبے میں گڈ گورننس کیسے آ سکے گی؟ یہ بات کبھی سامنے نہیں آئی کہ چیف سیکرٹری یا آئی جی کو بُری کارکردگی کی وجہ سے تبدیل کیا جاتا ہے یا اُس کی وجہ یہ ہوتی  ہے وہ حکم کی بلا چون و چرا تعمیل نہیں کرتے۔

نیا پاکستان کا نعرہ تو اپنے اندر نہ جانے کتنے خواب رکھ کر لگایا گیا تھا اس پر مستزاد مدینے کی ریاست بنانے کے دعوے کئے گئے۔ جب آپ عوام کی توقعات اتنی بڑھا دیتے ہیں اور زمین پر رائج نظام کی ایک اینٹ بھی تبدیل نہیں کرتے تو ایک طرف عوام کے خواب مایوسی میں بدلنے لگتے ہیں اور دوسری طرف خود حاکمیت کے مرتبے پر فائز افراد پر دباؤ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تھی تو یہ امید بھی پیدا ہو گئی تھی کہ پنجاب ایک مثالی صوبہ بن جائے گا،جہاں اصلاحات ہوں گی، بیورو کریسی اور پولیس کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔دفتری نظام کی اصلاح، کرپشن کا خاتمہ، پولیس کلچر میں تبدیلی، عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی، جیسے کام ہوں گے۔اچھے سے اچھا وزیراعلیٰ بھی ایک فرسودہ نظام کے ہوتے ہوئے کوئی بڑا کارنامہ سرانجام نہیں دے سکتا۔نیچے مشینری زنگ آلود اور استحصالی مزاج کی حامل ہو تو کیسی گڈ گورننس اور کہاں کی عوامی خدمت؟ آج کل وزیراعلیٰ عثمان بزدار صوبے کے دور دراز علاقوں سے لوگوں کو لاہور بُلا کر کھلی کچہریاں لگا رہے ہیں۔اس سے اُن کا ذاتی عوامی تشخص تو بن سکتا ہے، مگر گورننس کی یہی سب سے بڑی ناکامی ہے۔

اِس کا مطلب یہ ہے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ایک ایسی سرکاری مشینری سے محروم ہے جو عوام کے مسائل اُن کی دہلیز پر حل کر سکے۔ اگر لوگوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے بھی لاہور وزیراعلیٰ کی کھلی کچہری میں آنا پڑے تو اس کا مطلب یہ ہے ہم پتھر کے زمانے میں جی رہے ہیں،جہاں سائلوں کو بادشاہ کے دربار میں حاضر ہو کر اپنی فریاد سنانی پڑتی تھی۔ تحریک انصاف کی حکومت کو اپنی یہ ناکامی تسلیم کر لینی چاہئے کہ  وہ گورننس کا اچھا نظام نہیں دے سکی،کبھی وزیراعظم سٹیزن پورٹل، کبھی وزیراعلیٰ شکایت سیل، کبھی وزیراعظم کی ٹی وی پر براہِ راست عوام سے ٹیلیفونک ملاقات یہ سب ایسے ڈھکوسلے ہیں،جو اچھی حکمرانی کی عدم موجودگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ آخر وہ افسران جو فیلڈ میں موجود ہیں،سرکاری مراعات اور تنخواہیں لیتے ہیں،کام کیوں نہیں کرتے اور کیوں عوام کو اِدھر اُدھر دھکے کھانے پڑتے ہیں۔

افسران چاہے صوبے کی سطح پر لے جائیں یا ضلع کی سطح پر،یہ صرف شطرنج کے مہرے تبدیل کرنے والی مشق ہے، جس کا نتیجہ کچھ نہیں نکل سکتا۔سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے والا نعرہ بھی بڑا دِل خوش کن ہے۔حقیقت میں ایسا کبھی ممکن نہیں،اگر آئی جی اور چیف سیکرٹری کو تعینات کر کے انہیں مکمل اختیار کے ساتھ یہ ٹاسک دیا جائے کہ وہ صوبے میں گورننس بہتر بنائیں تو شاید کوئی اچھا نتیجہ نکل سکے،لیکن اگر اُن پر سیاسی دباؤ کی تلوار لٹکائے رکھنی ہے اور ضلع ڈویژن کی سطح پر افسران کی ارکانِ اسمبلی کی سفارش یا پھر چمک کے سہارے تقرری کرنی ہے تو یہ دونوں بڑے عہدیدار اُن پر بیٹھے ہوئے افسران مٹی کے مادھو ثابت ہوں گے، وہ اپنے عہدوں کی مراعات اور پروٹوکول تو انجوائے کریں گے،عوام کے لئے کچھ نہیں کر پائیں گے۔عثمان بزدار اس بار یہ نیا تجریہ کریں،اگر وہ اپنی پسند کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کی تقرری کراتے ہیں تو پھر اچھی گورننس کا ٹاسک دے کر آزاد چھوڑ دیں۔ وزیراعلیٰ آفس میں بیٹھے ہوئے کاریگروں سے اُن کی جان چھڑا دیں،جو بھی شکایت ملے براہِ راست اُن سے جواب طلب کریں،انہیں میرٹ پر افسران تعینات کرنے دیں،تاکہ بُری کارکردگی پر انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔ اگر یہ نہیں کرنا تو پھر مکھی پر مکھی مارنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -