نئے آئی جی پولیس کو کئی چیلنجزکا سامنا

نئے آئی جی پولیس کو کئی چیلنجزکا سامنا
نئے آئی جی پولیس کو کئی چیلنجزکا سامنا

  

پنجاب پولیس بہت بد نام ہے،کرپٹ ہے،سیاسی ہے طرح طرح کے القبات سے نوازا جاتا ہے،اور شائد سچ بھی ہے. چند ماہ قبل،عثمان بزدارکی پنجاب پولیس کو آرڈر ملا،ڈسکہ الیکشن میں نوں لیگ کے ایک سابق ناظم کو اگر گرفتار کرلیا جائے تو حکمران جماعت یہ الیکشن جیت سکتی ہے، پولیس نے اسے گرفتار کیا،حالات خراب ہوئے نتیجہ کیا نکلا الیکشن کے روز حکمران پارٹی اور پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدواروں کے حامیوں کے درمیان جھگڑے نے دو افراد کی جان لے لی،پولیس کی اس کارروائی کی وجہ سے حکمران بھی الیکشن چوری کے الزام  میں بدنام ہوئے ا،محکمہ پولیس کا اپنا داراہ بھی بری طرح بدنام ہوا  الیکشن کمیشن کو نوٹس لینا پڑا،ڈی پی او، ڈی سی او،اے سی اور دو ڈی ایس پی معطل، آرپی او اور کمشنر کو تبدیل کرنا پڑا،وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قوم سے یہ پختہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ایسی پولیس اصلاحات کریں گے جن کے نتیجے میں پولیس ایک مثالی ادارہ بن جائے گی اور اسے عوام کا اعتماد حاصل ہوجائے گا مگر افسوس تین سال گزر جانے کے باوجود وہ ابھی تک پولیس میں اصلاحات لانے کے سلسلے میں وہ کامیاب ثابت نہیں ہوئے پنجاب میں گزشتہ تین سال کے دوران چھ آئی جی پولیس تبدیل کرکے ساتواں تعینات کیا گیا ہے جس سے حکومت پنجاب کی کوتاہی ظاہر اور باہر ہو جاتی ہے-

محکمہ پولیس میں ایسے متعدد اعلیٰ پولیس افسران گزرے ہیں اور یقینی طور پر اب بھی موجود ہیں جنھیں عوام کی نظروں میں عزت و احترام حاصل تھا اور لوگ ان سے دور نہیں بھاگتے تھے بلکہ ان کے قریب جاتے تھے اور ایسے پولیس افسروں اور عوام کے درمیان اچھے تعلقات تھے اور ایسے افسروں کو جن میں متعدد باعزت طور پر ریٹائر یا تبدیل ہوگئے انھیں اب بھی عزت واحترام سے یاد کیا جاتا ہے۔تبدیل ہونے والے آئی جی پولیس انعام غنی بھی ایسے افسروں میں ایک مثال ہیں۔ پنجاب سے جب بھی کسی آئی جی پولیس کو تبدیل کیا گیاکبھی کوئی خاص وجہ سامنے نہیں آئی، اور نہ ہی آئی جی پولیس کے تبدیل ہونے سے ادارے میں بہتری آئی ہے ہمیشہ مورال پہلے سے ڈاؤن ہوا ہے ہے،موجودہ حالات کی اگر بات کی جائے تو اس وقت  لاہور سمیت پنجاب بھر میں خوبصورت ٹیم تعینات ہے،سی سی پی او غلام محمود ڈوگر اور ڈی آئی جی آپریشنز کیپٹن ریٹائرڈ سہیل چوہدری سے لے تمام تر آرپی اوز اور سی پی اوز انتہائی اچھی شہرت کے حامل آفیسرز ہیں کوئی بھی ایسا آفیسر نہیں ہے جسے آپ کرپٹ،نااہل یا کام چور قرار دے سکیں،سبھی کے سبھی محب الوطن اور ان کی دیانت داری پر شک کرنا میں سمجھتا ہوں کسی بڑے گناہ سے کم نہیں،

ان حالات میں ایک ایماندار اور انتہائی پروفیشنل پولیس آفیسر انعام غنی کا تبادلہ حکومت کی بو کھلاہٹ اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت دکھائی دیتاہے  بہت سے سینئر آفیسرز،دانشور اس سوچ میں گھم ہیں کہ حکمران آخر کونسا ایسا کام اس آئی جی سے کروانا چاہتے ہیں جو انعام غنی نے نہیں کیا۔ ماضی میں ملنے والے سی ایم آفس کے احکامات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں،اس کے باوجود ادارے کی سر بلندی کا کریڈٹ انعام غنی کو ضرور جاتا ہے آئی جی پولیس کی تبدیلی نے بہت سے سوالات کو جنم دیاہے،راؤ سردار کامن 18کے آفیسرز جبکہ پنجاب میں کامن 16 اور 17کے آفیسرز بھی موجود ہیں  جنہیں ان کی ماتحتی میں اپنے فرائض سرانجام دینا ہوں گے،کسی بھی پولیس آفیسریا عام شخص کو موجودہ آئی جی کی ایمانداری یا قانون کی بالا دستی پر کوئی شک نہیں ہے مگر اب تک کی تبدیلیوں سے تو ایسے دکھائی دیتا ہے کہ حکمرانوں کا مقصد آئی جی بار بار تبدیل کرنا کچھ اور ہی پیغام دیتا ہے جنرل الیکشن میں دوسال باقی ہیں، توجہ طلب بات یہ ہے کہ کیا موجودہ آئی جی پولیس یہ عرصہ پورا کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے یا دیگر آئی جی صاحبان کی طرح انھیں بھی چلتا کیا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں جب تک کسی آفیسرز کو SOPکے مطابق کام کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا  اس وقت تک  پولیس کلچر اور گورننس کے مسائل حل نہیں کئے جا سکیں گے۔جب کوئی بھی ریاست بنیادی اصولوں کو فراموش یا نظرانداز کر دیتی ہے تو پولیس کا نظام ناکام بن کر رہ جاتا ہے اور عوام کا اعتماد ہی پولیس فورس سے اٹھ جاتا ہے جس کی وجہ سے سربراہ پولیس کو امن و امان قائم رکھنے اور جرائم پر قابو پانے کے لیے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے-قیام پاکستان کے بعد پولیس میں انقلابی اصلاحات ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے تھی مگر افسوس کہ کسی بھی حکمران نے اس کی جانب کوئی سنجیدہ توجہ نہ دی- وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب صورتحال حال یہ ہو چکی ہے کی پولیس حکمران اشرافیہ کے مفادات کی محافظ بن چکی ہے جسے عوام کے مفادات کا ہرگز کوئی خیال نہیں ہے- یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مستقل اور پائیدار امن و امان قائم نہیں ہو سکا اور جرائم کی رفتار بھی روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -