یوم دفاع و شہداء کی تقریبات، لہو گرم ہو گئےجی ایچ کیو میں صدر مملکت و آرمی چیف کے خطاب،واہگہ پر شاندار پریڈ، یادگاروں پر رش!

 یوم دفاع و شہداء کی تقریبات، لہو گرم ہو گئےجی ایچ کیو میں صدر مملکت و آرمی ...

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

پاکستان بھر میں اس سال یوم دفاع بھرپور طریقے سے منایا گیا۔ اس بار دفاع وطن کے ساتھ شہدا وطن کی یاد بھی منسلک کی گئی اور انٹرسروسز پبلک ریلیشنز ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے بہترین پروگرام ترتیب دیئے گئے۔ یوم دفاع ہر سال 6 ستمبر اور یوم فضائیہ 7 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ تاہم کچھ عرصے سے یہ یادگار دن روائتی انداز کا ہو گیا تھا تاہم اس بار اسے تبدیل کر کے نئی روح پھونکی گئی۔ شہدا کو یاد کرنے اور ان کے وارثات کی دلجوئی اور اہمیت کی روشنی میں عوامی دلچسپی بھی بڑھ گئی تھی۔ روایت کے مطابق ہر سال جی ٹی روڈ جلو موڑ اور سائیفن کے علاوہ برکی کی یادگاروں کی صفائی کر کے پاک فوج کے دستے صبح صبح سلام کے لئے آتے ہیں اور لوگ آکر فاتحہ خوانی کرتے ہیں اس بار چونکہ یوم شہدا بھی منسلک تھا اس لئے مناواں، جلو موڑ اور سائیفن والی یادگاروں کو صاف کرنے کے بعد سجایا بھی گیا۔ ہر یادگار پر متعلقہ بٹالین کی تاریخ شجاعت بھی درج ہے، شہریوں نے یہ دلچسپی سے پڑھیں، دوسری طرف شہر میں بھی شہدا اور نمازیوں کو یاد کیا گیا اور جتنے نشان حیدر کے حامل فوجی جوان اور افسر ہیں ان سب کی تصاویر اور تصاویر والے بینرز شاہراہ قائد اعظم پر آویزاں کئے گئے۔ صبح کے وقت توپوں کی سلامی دی گئی۔ نماز فجر کے بعد شہدا کے لئے بلندی درجات کی دعائیہ تقریبات ہوئیں اور یادگاروں پر بھی قرآن خوانی کی گئی، مزار اقبالؒ پر گارڈز کی تبدیلی ہوئی اور جناح ہال کے سبزہ زار میں پرچم ہلال استقلال لہرایا گیا، ایسی ہی پرچم کشائی سیالکوٹ میں بھی ہوئی۔ ہر دو شہروں کو ان کی بہادری، حب الوطنی اور تعاون کے احترام میں یہ پرچم ہلال استقلال عطا کئے گئے تھے۔

غروب آفتاب سے کچھ عرصہ قبل واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی معمول کی کارروائی بھی ایک پر جوش تقریب کی حیثیت اختیار کر گئی اور رینجرز کے جوانوں سے روایتی انداز سے بھی بڑھ کر جذبے اور جوش کا اظہار کیا۔ شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو نعرہ تکبیر، پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے پر جوش نعرے لگاتے رہے۔

ستمبر 65ء کی 17 روزہ جنگ کے حوالے سے میڈیا نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ پرنٹ میڈیا نے ایڈیشن شائع کئے تو الیکٹرونک میڈیا نے محافل کا انعقاد کیا اس سلسلے میں ایک گزارش ہے کہ بعض لکھنے والوں نے ”جوش قلم“ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بعض واقعات کو گڈمڈ کر دیا ہے۔ میری عرض ہے کہ اگر پڑھ کر نہیں لکھا جا سکتا تو شہدا کی یادگاروں پر جا کر ”بٹالین ہسٹری“ بڑھ لی جائے تاکہ تحریر مصدقہ ہو جائے۔

این سی او سی اور حکومت کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا کی وباء کی موجودہ لہر تا حال موجود ہے، اس سے نبرد آزما ہونے کے لئے جہاں سمارٹ لاک ڈاؤن میں اضافہ کیا گیا۔ وہاں ویکسی نیشن کی مہم بھی چلائی جا رہی ہے اور بہت سے امور ویکسی نیشن سے منسلک کر دیئے گئے ہیں تعلیمی اداروں کی بندش میں 12 ستمبر تک اضافہ کر دیا گیا، یوں بچوں کا تعلیمی سلسلہ پھر سے رک گیا۔ اسے اب ڈیڑھ سال سے زیادہ ہو گیا ہے۔ چھوٹے بچوں اور ہائی سکول کے طلباء کے لئے صورت حال خراب ہے اور نفسیاتی الجھنیں پیدا ہو رہی ہیں۔  حکومت کو اس صورت حال پر سنجیدگی سے غور کر کے تعلیمی سلسلہ بحال کرنا ہوگا کہ بچوں کی مناسب تربیت بھی جاری رہے۔

لاہور میٹروبس سروس کو بند ہوئے دوسرا عشرہ شروع ہونے والا ہے۔ یہ بندش کارکنوں کی طرف سے واجبات کی ادائیگی کے مطالبے پر پڑتال کے باعث شروع ہوئی اور اب ٹھیکیدار کی تبدیلی کے باعث بسیں سڑک پر نہیں آ سکیں، کافی دنوں قبل لاہور ٹرانسپورٹ بھی بند ہو چکی اور بسیں کھڑی کھڑی کوڑے میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ عوام شدید پریشان ہیں اور ویگنوں، رکشاؤں کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔ حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ان دنوں جنوبی پنجاب کے سات روزہ دورے پر ہیں۔ اس کے بعد وہ اگلے ہفتے لاہور بھی آ رہے ہیں ان کی آمد پر نئے نامزد صدر جنرل سیکریٹری اور سیکریٹری اطلاعات بھی آئیں گے۔ ان کی آمد پر پُر جوش استقبال ہوگا، وہ یہاں بھی قیام اور ملاقاتیں کریں گے۔ تا حال کسی ورکرز کنونشن کی کوئی اطلاع نہیں۔ تاہم ملاقاتیں شیڈول ہو رہی ہیں، دیگر صوبائی عہدیداروں اور لاہور تنظیم کی طرف سے ان کا اور نئے عہدیداروں کا استقبال بھی ہوگا۔

وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کے مطابق وہ خود عوامی مسائل حل کرنے کے لئے پر عزم ہیں اس سلسلے میں انہوں نے کھلی کچہریوں کا سلسلہ شروع کیا اور موقع پر ہی احکام بھی دیئے۔ وہ اب چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس بھی تبدیل کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جو کام کرے گا وہی رہے گا اور پیارا ہے۔ انہوں نے جرائم کی شرح پر تشویش کا اظہار کیا اور پولیس سے بھرپور توجہ کے لئے کہا ہے۔ 

کورونا کی نئی لہر جاری، سمارٹ لاک ڈاؤن میں اضافہ، تعلیمی ادارے مزید بند، یہ درست نہیں، یہ مسئلہ حل کرنا ہوگا

لاہور ٹرانسپورٹ کے بعد میٹرو بس کی بندش، شہری مسافر رل گئے

بلاول کی آمد متوقع، وسطی پنجاب کی نئی قیادت بھی آئے گی، پرجوش استقبال کی تیاریاں 

مزید :

ایڈیشن 1 -