طالبان کی فتح، اسلام آباد سفارتی مرکز بن گیا،دنیا بھر سے وزراء خارجہ کی آمد شروع!

 طالبان کی فتح، اسلام آباد سفارتی مرکز بن گیا،دنیا بھر سے وزراء خارجہ کی آمد ...

  

اسلام آباد سے سہیل چودھری

افغانستان کی سنسنی خیز صورت حال کے باعث اسلام آباد ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔جس غیر معمولی تیزی سے امریکہ نے افغانستان سے یکایک انخلا کیا بلکہ دم دبا کر بھاگ گیا اس نے امریکہ کے اتحادیوں کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ اقوام عالم کے لئے یہ ایک غیر معمولی پیش رفت تھی بلکہ شاید دنیا تو کیا امریکہ کے اپنے حلیف بھی اس صورت حال کا سامنا کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ یہی وجہ تھی کہ امریکی افواج کے  افغانستان سے نکلنے کے بعد مغربی ممالک کے سفارتکاروں کے لئے نہ صرف غیر متوقع صورت بنی بلکہ جنہیں کابل میں سلامتی کا مسئلہ درپیش تھا انہیں بھی وہاں سے نکلنے میں مشکلات کا سامناکرنا پڑا، تاہم پاکستان نے افغانستان میں ہر لمحہ بنتی بگڑتی صورت حال میں ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا، بلکہ اگر یہ  کہا جائے کہ شورس زدہ کابل سے مغربی ممالک کے سفارتکاروں اور شہریوں کو نکالنے میں ایک قائدانہ کردار ادا کیا۔ حتیٰ کہ امریکی فوجی دستوں کو نکلنے میں معاونت فراہم کی تو یہ بے جا نہ ہوگا۔ اس وقت اسلام آباد افغانستان میں بے یقینی کی فضا کے تناظر میں دنیا کے لئے ایک ”گیٹ وے“ بنا ہوا ہے۔ پاکستان نے پہلے بھی کئی بار نہایت ذمہ دارانہ انداز میں عالمی کردار ادا کیا۔ گزشتہ 4دہائیوں سے افغانستان ایک وار تھیٹر بنا ہوا ہے اس طویل عرصہ میں نہ صرف افغانستان کی صورت حال سے سب سے متاثرہ ملک پاکستان ہی رہا ہے۔ پاکستان گزشتہ 40سال سے افغانستان کی صورت حال کے حوالے سے ایک دودھاری تلوار پر کامیابی سے چل رہا ہے۔ اگرچہ اس میں امریکہ اور مغربی ممالک کے حوالے سے اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں۔ بالخصوص جب سے امریکہ نے اس خطے میں چین کا راستہ روکنے کے لئے بھارت کو ایک کلیدی کردار عطا کیا ہے اس سے پاکستان کے لئے پیچیدگیوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن مجموعی طور پر پاکستان اس پُرکٹھن سفر میں رواں دواں ہے۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے تو اقتدار میں آتے ہی افغانستان کی صورت حال اور وہاں امریکہ کی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی بھونڈی کوشش کی تھی اس حوالہ سے نئے سال کے موقع پر ایک بدنام ٹویٹ کرکے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی مذموم حرکت کی تھی لیکن وقت نے ثابت کیا کہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے تمام اندازے و تخمینے مکمل طور پر غلط ثابت ہوئے پاکستان کا موقف درست رہا۔ اگرچہ پاکستان کا افغانستان کی صورت حال کے حوالے سے اندازہ امریکی سوچ کے برعکس تھا لیکن پاکستان نے اس کے باوجود اقوام مغرب کو افغانستان میں ان کے ایجنڈے کی تکمیل میں معاونت فراہم کی۔ اس کا کلائمکس افغان طالبان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھانا تھا۔ وہی ٹرننگ پوائنٹ تھا جس کی بدولت ان کٹھن مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد امریکہ نے یہ اندازہ لگا لیا کہ اس کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ جتنی جلد ہو سکے امریکہ سے نکل جائے۔یعنی بالآخر دو دھائیوں کے بعد امریکہ بھی اس نتیجہ پر پہنچ گیا جہاں پاکستان پہلے سے پہنچا ہوا تھا۔

پاکستان کے تعاون سے اب تک 12ہزار مغربی و امریکی شہریوں کو افغانستان سے باحفاظت نکالا گیا۔ ہندوستان افغانستان میں بری طرح پٹ گیا ہے۔ ہندوستان کے اندر ان کی افغان پالیسی پر تنقید ہو رہی ہے۔ بھارت نے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ صرف پاکستان کو زک پہنچانے کے لئے قائم کیا تھا اور اس کی بھاری مالی قیمت ادا کر رہا تھا لیکن اسے افغانستان میں منہ کی کھانا پڑی۔ حال ہی میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے دورۂ کابل کا چرچا ہے۔ افغانستان میں استحکام اور قیام امن کے حوالے سے ان کے دورے پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ان کے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور خان کے ساتھ تصویر پوری دنیا میں وائرل ہو گئی اور وفاقی دارالحکومت کے سفارتی حلقوں میں بھی اس کا خوب چرچا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ افغان طالبان نے وادی پنج شیر میں بھی اپنے قبضے اور فتح کا اعلان کر دیا ہے، تاہم امریکہ اور اس کے اتحادی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں نئے سیٹ اپ میں تمام افغان سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے، انسانی حقوق بالخصوص عورتوں کے حقوق کی پاسداری ہو اور افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ دوسری جانب افغان طالبان نے نہایت قلیل وقت میں انتہائی غیر متوقع طور پر پورے افغانستان پر قبضہ کرکے پوری دنیا کو حیران تو کر دیا ہے۔ شاید اتنی جلدی فتح تو پاکستان کے اندازے میں بھی نہیں تھی لیکن اب اسے کسی خانہ جنگی سے بچاتے ہوئے ایک پُرامن انداز میں ایک حکومت قائم کرنا اور اسے چلانا ایک کٹھن چیلنج ہے۔ دنیا پاکستان کے افغانستان کی حوالے سے اہم کردار کو نہ صرف سراہ بھی رہی ہے بلکہ پاکستان کی وساطت ہی سے افغان طالبان سے پیغام رسانی کر رہی ہے۔ پاکستان اس وقت ایک پل کاکردار ادا کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک کے وزرائے خارجہ پاکستان کا رخ کر رہے ہیں حال ہی جرمن، برطانیہ، نیدر لینڈ اور اٹلی کے وزرائے خارجہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔

پاکستان کے لئے سفارتی بارگینگ کا یہ نادر موقع ہے۔ پاکستان ”فیٹف“ سے اپنی جان چھڑا سکتا ہے  جبکہ پاکستان بھارت کی چیرہ دستیوں کو بھی دنیا کے سامنے اجاگر کر رہا ہے۔ اس ضمن میں برطانوی وزیرخارجہ کا دورہ پاکستان غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ مقبوضہ کشمیر کے عظیم ترین مرد مجاہد سید علی گیلانی کے انتقال کے بعد مودی سرکار کی جانب سے جو ناروا سلوک اپنایا گیا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔جڑواں شہر راولپنڈی میں واقع جی ایچ کیو میں یوم دفاع کے حوالے سے ایک ولولہ انگیز تقریر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان اور خطے کی صورت حال کے حوالے سے کلیدی ایشوز کا احاطہ کرتے ہوئے ایک پرفکر تقریر کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی گروہ کو ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے 5اگست کے اقدامات کو مسترد کر دیا۔ صدر عارف علوی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے اس تقریب سے خطاب خطے کی ترقی کو مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا قرار دیا۔ یوم دفاع کی منفرد تقریب نہایت پروقار انداز میں منعقد ہوئی جس میں اپوزیشن رہنما شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سمیت اراکین کابینہ اور اعلیٰ عسکری حکام، میڈیا اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کلیدی افراد نے شرکت کی۔ ملک کی عسکری و سیاسی قیادت ایک جگہ پر نظر آئی۔ وفاقی دارالحکومت میں مطلع ابر آلود ہونے کا امکان ہے لیکن سیاسی مطلع حکومت کے لئے صاف نظر آ رہا ہے کیونکہ اپوزیشن داخلی انتشار کا شکار ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی اپنے بیانیے کی تلاس میں ہے۔ جڑواں شہروں میں کرونا کی لہر جاری ہے۔ ڈیلٹا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ عوامی مقامات اور بازاروں میں عوام حفاظتی اقدامات سے ماروا نظر آ رہے ہیں جو حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔

یوم دفاع و شہدا،جی ایچ کیو میں پروقار تقریب، صدرِ مملکت و آرمی چیف کے اہم خطاب

طالبان نے پورے افغانستان پر قبضہ کر کے دنیا بھر کو حیران کر دیا

مزید :

ایڈیشن 1 -