شوکت یوسفزئی کی قیادت میں خیبرکا پارلیمانی وفد لاہور کے دورے پر!

شوکت یوسفزئی کی قیادت میں خیبرکا پارلیمانی وفد لاہور کے دورے پر!

  

خیبرپختونخوا کا 7رکنی پارلیمانی وفد آج کل لاہور کے چار روزہ دورے پر ہے، صوبائی وزیرسیاحت و محنت شوکت یوسفزئی کی قیادت میں اس وفد نے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور اور وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار  سمیت دیگر صوبائی قائدین سے ملاقاتیں کیں جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا ہ کی وزارتی سطح کی ورکشاپ کے اہم مشاورتی سیشن میں دو روز تک شرکت کی اور اس حوالے سے  منعقدہ خصوصی کانفرنسوں میں خواتین پر تشدد کی روک تھام کے لئے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔خیبرکا پارلیمانی وفد  لاہور میں اقوام متحدہ اور شرکت گاہ کے تعاون سے منعقدہ اپنی نوعیت کی پہلی لرننگ ایکسچینج ورکشاپ میں وزیر سماجی بہبود سید یاور عباس بخاری کی خصوصی دعوت پر دورہ کر رہا ہے جس میں وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی ڈپٹی سپیکر محمود جان،خیبر پختونخوا کی خاتون ارکان اسمبلی اور دیگر خواتین بھی شامل ہیں۔وزیر سماجی بہبود پنجاب نے ورکشاپ سے اپنے خیرمقدمی خطاب میں کہا کہ کے پی میں خواتین کے تحفظ کیلئے اچھا کام ہو رہا ہے دونوں حکومتیں وزیراعظم عمران خان کا ویژن لے کر آگے بڑھ رہی ہیں۔ سید یاور عباس بخاری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی طرز پر پنجاب میں بھی جینڈر سپیشلسٹس رکھے جائیں گے ملتان کے بعد لاہور اور راولپنڈی میں بھی انسداد تشدد مرکز برائے خواتین قائم ہوگا۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر خیبر اسمبلی محمود جان نے کہا کہ ہماری صوبائی اسمبلی نے خواتین سے متعلق ریکارڈ قانون سازی کی، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے درمیان تعاون میں اضافے کے لئے تیار ہیں۔ وزیر محنت و ثقافت کے پی کے شوکت یوسفزئی نے اختتامی کلمات میں کہا کہ خواتین کو ان کے قانونی حقوق اور وراثت سے محروم نہیں کرنا چاہئے، قوانین میں سختی لاکر مطلوبہ اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ غریب کیلئے جتنا موجودہ حکومت نے سوچا پہلے کبھی نہیں سوچا گیا پناہ گاہوں کے باعث آج پشاور میں کوئی فٹ پاتھ پر نہیں سوتا۔ پوری کوشش ہے کہ عوام کے مسائل میں کمی آئے۔ وفد کے اراکین نے پنجاب اسمبلی کے مختلف شعبہ جات دیکھے اور کارکردگی کا جائزہ لیا جبکہ سیف سٹی پنجاب کا دورہ بھی کیا اور متعلقہ حکام نے انہیں شہر کو محفوظ بنانے کے حوالے سے مختلف اقدامات سے آگاہ کیا، انہوں نے ادارہ دستک کی کارکردگی کا مشاہدہ بھی کیا اور شیلٹر کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کو بھی سراہا۔ وفد کے اراکین آج پاک بھارت سرحد واہگہ کا دورہ کریں گے اور دونوں ممالک کی مشترکہ پریڈ بھی دیکھیں گے۔پنجاب اور خیبر کے سوشل ویلفیئر و ویمن ڈویلپمنٹ شعبوں کے اعلیٰ حکام کا مشترکہ اجلاس بھی خوب تھا جس میں دونوں صوبوں کے ان شعبہ جات میں ہم آہنگی اور مشترکہ ورکنگ پر طویل غور و خوض کیا گیا۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد معاملات آہستہ آہستہ بہتری کی طرف جا رہے ہیں، طالبان کے کئی فیصلوں پر بعض ممالک اعتراض بھی اٹھا رہے ہیں جبکہ تعریف و توصیف کا عمل بھی جاری ہے۔ سرحد پار سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں امن دشمن کارروائیوں نے بھی سر اٹھانا شروع کر دیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں افغانستان کے مختلف مقامات کا استعمال کرکے پاکستانی علاقوں میں بدامنی پھیلانے کا باعث بن رہی ہیں۔ اس حوالے سے  وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا حال ہی میں سامنے آنے والا بیان بڑا غور طلب ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ   گوادر اور کوئٹہ دھماکوں کے خودکش بمبار افغانستان سے آئے تھے، دونوں حملہ آوروں کی شناخت ہوگئی ہے۔ پنج شیر کی فتح کے بعد بھارت افغانستان سے مکمل طور پر بے دخل ہو چکا ہے، جہاں پر اس نے دہشتگردی کے 66کیمپ پاکستان میں امن دشمن کارروائیوں کیلئے بنا رکھے تھے۔ وزیرداخلہ نے یہ اعلان بھی کیا کہ ہم 12 ستمبر سے چمن اور طورخم بارڈر کھول رہے ہیں‘ افغانستان سے جو لوگ بغیر دستاویز آئے ہیں ان کے بارے میں حکومت فیصلہ کرے گی‘آئندہ چند روز تک افغانستان کی باقاعدہ نئی حکومت بن جائے گی اس حوالے سے بھارت کا پروپیگنڈا بے بنیاد ہے۔ پاکستان میں کوئی مہاجر کیمپ موجود نہیں جبکہ طورخم سرحد پر بھی صورتحال نارمل ہے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو نئی افغان حکومت کے حوالے سے ہمارا موقف نہایت واضح ہے اور وزیراعظم عمران خان بھی اس بارے میں بارہا اعلان کر چکے ہیں،حال ہی میں آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کی قیادت میں ایک وفد نے دورہ کیا۔ ہماری عسکری قیادت نے بھی اس دوران جو موقف اختیار کیا وہ بڑا واضح اور ٹھوس ہے۔بھارت کو اس حوالے سے صاف الفاظ میں پیغام رسائی کے بعد ابہام دور ہوجانا چاہیے۔ویسے تو افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ہمسایہ ملک پاکستان کو جن معاملات پر تشویش ہے،وہ بجا ہیں اور انہیں حل کیا جائیگا، افغا ن  سر زمین پاکستان سمیت کسی ملک کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے، مختلف مسائل کے حل کیلئے پاکستانی وفد افغانستان آیا تھا، افغانستان عالمی برادری کیساتھ مل کر اقتصادی سر گرمیو ں میں حصہ لینا چاہتا ہے۔ترجمان کا یہ موقف تو خوش آئند اور قابل تعریف ہے کہ  افغانستان سی پیک منصوبے میں شمولیت کا خواہاں ہے، کاسا گیس پائپ لائن منصوبہ بھی بہرصورت پایہ تکمیل تک پہنچایا جائیگا ۔ طالبان نے ملک کی جامعات میں مردوں اور خواتین کو الگ الگ تعلیم دینے کے حوالے سے باقاعدہ قواعد و ضوابط جاری کیے ہیں۔ایک دستاویز میں کہا گیا ہے کہ تدریسی جامعات میں مرد اور خواتین طالبعلموں کو ایک ساتھ نہ بیٹھنے دیا جائے، انھیں الگ الگ بٹھایا جائے۔ یہ بھی کہا گیا بہترین صورتحال تو یہ ہونی چاہیے کہ خواتین کیلئے خاتون اساتذہ ہوں تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اچھے کردار کے حامل بزرگ مردوں کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ طالبات کو اس بات کا بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ عبایہ، چادر اور حجاب یا پھر نقاب کا لازمی استعمال کریں۔

پنجاب اسمبلی کا دورہ،مشترکہ مشاورتی سیشن، خواتین پر تشدد کی روک تھام کے لئے 

مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق،پہلی لرننگ ورکشاپ میں شرکت بھی کی

افغانستان سے پاکستان میں امن دشمن کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کا انکشاف

پاکستان کی عسکری قیادت کا دورۂ افغانستان خوش آئند،طالبان ترجمان نے پاکستانی موقف تسلیم کر لیا

مزید :

ایڈیشن 1 -