چیئرمین بلاول  کا دورہ جنوبی پنجاب،کوئی قابل ِ ذکر شخصیت شامل نہیں ہوئی،جیالے متحرک!

چیئرمین بلاول  کا دورہ جنوبی پنجاب،کوئی قابل ِ ذکر شخصیت شامل نہیں ...

  

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے ایک ایسے وقت میں جنوبی پنجاب کے اندر انٹری ڈالی ہے جب حکومتی پارٹی تحریک انصاف سیاسی انتشار کا شکار ہے‘ ان کی اپنی پارٹی کے منحرف رہنما جہانگیر ترین اور ارکان اسمبلی،سابق جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ محاذ کے ساتھ مل کر نہ صرف وفاقی حکومت، بلکہ پنجاب حکومت کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کے لئے مسلسل متحرک ہیں‘ آئندہ عام انتخابات کے لئے نئی صف بندیوں کے تناظر میں گو کہ پیپلز پارٹی نے یہ تاثر دیا کہ ان کی حکومت آنے والی ہے، مگر حقیقت کیا ہے یہ مستقبل کے عام انتخابات کے بعد ہی واضع ہو سکے گا کہ ابھی وقت نہیں آیا البتہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے طویل دورہ جنوبی پنجاب سے ایک بات سامنے آئی ہے کہ اگر انہیں وفاق میں حکومت بنانی ہے تو سرائیکی وسیب کی سیاست کو مد نظر رکھنا ہو گا جس کا بر ملا اظہار وہ مختلف وفود اور عوامی جلسوں میں کر رہے ہیں کہ وفاق سمیت پنجاب میں بھی جیالوں کی حکومت ہونی چاہئے اب یہ کیسے ممکن ہو گا اس کے لئے لازم ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت وقت کا انتظار کرے، کیونکہ انہیں اس حوالے سے جو بھی بریف کیا گیا ہے معاملات اس کے بر عکس ہیں اور اب تک، ان کا دورہ جنوبی پنجاب ابھی جاری ہے کوئی قابل ذکر وڈیرے کی شمولیت نہیں ہوئی ممکن ہے کہ کسی نے یقین دہانی کروائی ہو، مگر اب اس خطے کے حالات مختلف ہیں ہاں البتہ ایک بات بڑی انہونی ہوئی کہ چیئرمین بلاول زرداری  سے ملتان کے ایک متحرک سیاسی کارکن میاں مظہر عباس نے تفصیلی ملاقات کی جس میں انہیں حلقہ 156این اے سے پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کی یقین دہا نی کروائی گئی ہے۔یہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا حلقہ انتخاب ہے جہاں سے وہ دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں 2018ء کے انتخابات میں وہ صوبائی اسمبلی کی سیٹ ہار گئے تھے جس پر ان کے حلقے کے اندر سیاسی اختلافات میں اضافہ ہوا اور تحریک انصاف کے ایک عام کارکن نے یہ سیٹ با آسانی جیت لی گو ان کا مقدمہ تین سال تک عدالتوں میں زیر التواء رہا، لیکن اب انہیں کلیئر کر دیا گیا ہے اور اب وہ ایم پی اے ہیں۔

میاں مظہر عباس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ نوآموز ضرور ہیں، لیکن قومی اسمبلی کی اس نشست پر وہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو سیاسی طور پر ہرانے کے لئے پُرعزم ہیں اور اب پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی ان کی پشت پر ہاتھ رکھ دیا ہے کہ قومی اسمبلی میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی تنقید اور پھر اس کے جواب میں جو انکشافات ہوئے اس کے تناظر میں یہ اندازہ مشکل نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت قومی اسمبلی کے اس حلقے میں انہیں ایک غیر معروف کارکن سے سیاسی شکست دلانا چاہتی ہے، جس کے لئے حکمت عملی تقریباً تیار کر لی گئی ہے جس میں جہانگیر ترین سمیت سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی مشاورت بھی شامل ہو سکتی ہے جہانگیر ترین تو سیاسی طور پر ان کے مخالف ہیں ہی کہ وہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف اور خصوصاً وزیراعظم عمران خان سے اختلافات میں مخدوم شاہ محمود قریشی کا ہی ہاتھ ہے، جبکہ سید یوسف رضا گیلانی کے بھانجے سید ابوالحسن گیلانی کو دربار حضرت موسیٰ پاک شہید کی سجادہ نشینی سے علیحدہ کروانے میں بھی ان کی ”کارکردگی“ نمایاں رہنا دوسری بڑی وجہ ہے پیپلز پارٹی کی قیادت کا اختلافات اب سیاسی نہیں رہا ایسی صورت میں قومی اسمبلی کے اس حلقے میں جو کچھ ہو گاکہ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ میاں مظہر عباس نے نہ صرف حلقے میں ملاقاتیں شروع کر دی ہیں،بلکہ کارنر میٹنگز بھی کر رہے ہیں جس میں وہ برملا مخدوم شاہ محمود قریشی پر گرجتے اور برستے ہیں ویسے بھی اس حلقے میں اتفاق ہے کہ قبل ازیں اور اب بھی پیپلز پارٹی کے پاس کوئی ڈھنگ کا امیدوار نہیں تھا، جبکہ ن لیگ کی اس حلقے میں اندرونی کشمکش ان کی جیت میں حائل ہے اب دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے پیپلز سیکرٹریٹ میں مدیران اخبار اور کالم نویسوں کے ساتھ ایک نشست کی، جس میں ان کا کوئی نیا بیانیہ تو سامنے نہیں آ سکا، لیکن انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ صوبائی خود مختاری اور سرائیکی صوبے کے قیام کے لئے واصف اللہ بابر کمیشن کی سفارشات پر عمل کیا جائے، کیونکہ موجودہ حکومت ملک میں ثقافتی اکائیوں کی شناخت چھیننا چاہتی ہے انہوں نے پی ڈی ایم پر کڑی تنقید کی کہ وہ عمران خان اور عثمان بزدار دونوں کو ہٹانے میں سنجیدہ نہیں ہیں اِس لئے انہیں کوئی کامیابی نہیں مل سکی البتہ آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہو گی جس میں ماضی کی طرح عوامی مسائل کا خیال رکھا جائے گا، کیونکہ تحریک انصاف اور عمران خان نے عوام کے ووٹ جیب،پیٹ،اور حق روزگار پر ڈاکہ ڈالا ہے۔

شاہ محمود قریشی کے مقابلے کے لئے نو آموز مظہر عباس کو تھپکی،مذکورہ نے مہم بھی شروع کر دی

مزید :

ایڈیشن 1 -