کراچی میں کنٹونمنٹ بورڈوں کے انتخابات، سیاسی سرگرمیاں بڑھ گئیں!

کراچی میں کنٹونمنٹ بورڈوں کے انتخابات، سیاسی سرگرمیاں بڑھ گئیں!

  

کراچی۔ ڈائری۔ مبشر میر

کنٹونمنٹ بورڈز کے الیکشن کی وجہ سے شہر میں سیاسی سرگرمیاں قدرے تیز ہو گئی ہیں۔ کراچی کے چھ کنٹونمنٹ بورڈز میں تین سو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف بھی کراچی کا دورہ کرچکے ہیں اس دوران انہوں نے پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت بھی کی اور اس دوران اپنے پارٹی راہنماؤں سے اہم مشاورت بھی کی تھی۔ 

میاں شہباز شریف کی بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلی فونک گفتگو بھی ہوئی ہے۔ جس  سے اندازہ ہورہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک مرتبہ پھر پارلیمنٹ میں مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہوگئی ہیں۔ دونوں راہنماؤں نے الیکشن کمیشن کے اراکین کے تقرر پر بات چیت کی ہے، تعاون کا یہ سلسلہ آگے بھی بڑھ سکتا ہے۔پاکستان میں اکتوبر سے مارچ تک کا عرصہ سیاسی جلسوں اور ریلیوں کے لیے موسمی اعتبار سے بہتر تصور کیا جاتا ہے۔ 

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ایک مرتبہ پھر نیب اسلام آباد میں پیش ہوئے ہیں۔ ابھی بھی تحقیقات کے حوالے سے ان کے تحفظات ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ نیب کے 66 والیم پر مشتمل ریفرنس ہے جس میں سے چار والیم ابھی تک نہیں دیئے گئے، جب تک وکلاء سارے ریفرنس کا جائزہ نہ لے لیں معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ وزیراعلیٰ سندھ پر الزام ہے کہ توانائی کے منصوبے میں ادائیگیاں بینک اکاؤنٹ میں کی گئی ہیں۔ اس ریفرنس میں مزید 17 افراد بھی شامل ہیں جبکہ اومنی گروپ کے سربراہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

وزیرتوانائی سندھ امتیاز شیخ نے وفاقی حکومت پر بھی الزام لگایا ہے کہ وہ مہنگی ایل این جی خرید رہی ہے جس کی وجہ سے مہنگی بجلی پیدا ہورہی ہے۔ توانائی کے منصوبوں میں شفافیت ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ہر حکومت اس طرح کے مسائل اورالزامات کی زد میں رہی ہے۔ اس کے لیے شفافیت پر مبنی طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ 

کراچی میں بلوچستان کے پہلے وزیراعلیٰ سردراعطاء اللہ مینگل کا انتقال ہوگیا۔ آپ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے والد تھے۔ آپ 1929ء کو پیدا ہوئے اور بچپن کے ایام لسبیلہ میں گزارے۔ 25برس کی عمر میں شاپیزئی قبیلے کے سردار بن گئے۔قومیت کی بناء پر سیاست میں نام کمایا۔ 1972ء میں بلوچستان کے پہلے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔ طویل عرصہ بیمار رہنے کے بعد 93 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئے، ان کی تدفین وڈھ ضلع خضدار بلوچستان میں انجام پائی۔ سردار اختر مینگل موجودہ حکومت کے حمایتی بھی ہیں اور گاہے گاہے ناراضی کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ بلوچستان کی سیاست انتہائی حساس ہے۔ خاص طور پر موجودہ افغانستان کی صورتحال اور پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے بھی قوم پرست جماعتوں کے تحفظات ہیں۔ 

کراچی میں مون سون کی بارشوں نے شہر کے انفراسٹرکچر کو ایک مرتبہ پھر ہلاکے رکھ دیا ہے۔ ایڈمنسٹریٹر مرتضی وہاب نے اس دوران شہر کے ان علاقوں کا دورہ کیا جو نسبتاً کم متاثر تھے، وہ ٹی وی کیمرے کے ہمراہ صدر، کلفٹن اور جنوبی کراچی کے صاف ستھرے علاقوں میں گھومتے ہوئے دکھائی دیے۔

جماعت اسلامی کے امیر کراچی حافظ نعیم الرحمن کے بقول اتنی بارش کا سیوریج سے کنٹرول موجودہ نظام میں ممکن نہیں ہے۔ شہر کراچی کا ماسٹر پلان ایک خفیہ دستاویز ہے جو آج تک عوام کے سامنے نہیں آسکا۔ سندھ اسمبلی میں کسی اپوزیشن راہنما نے بھی یہ مطالبہ نہیں اٹھایا کہ سندھ حکومت اسمبلی میں کراچی ماسٹر پلان کو پیش کرے تاکہ اُس پر گفتگو ہوسکے اور شہر کی منصوبہ بندی اس کے مطابق کی جاسکے۔ اپوزیشن جماعتیں بھی محض بیانات کی حد تک مخالف کرتی نظر آتی ہیں۔ اپوزیشن کے آئیڈیاز سے وہ بھی محروم دکھائی دیتے ہیں۔ 

سوشل میڈیا کی رپورٹس سے واضح ہورہا ہے کہ محرم الحرام کے بعد سے کچھ مذہبی راہنماؤں کے بیانات کی وجہ سے فرقہ وارانہ کشیدگی کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ چہلم امام حسین ؑ جو 20صفر کو ہوگا، اس پر امن و امان کے حوالے سے اہم ترین اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کو ذمہ دارانہ بیانات دینے چاہئیں، اس وقت افغانستان کا معاملہ بہت حساس ہے۔ بھارت کو وہاں جو نقصان اٹھانا پڑا ہے اس کا ردعمل دینے کی وہ ہر ممکن کوشش کرے گا، بلوچستان اور افغان بارڈر پر دہشتگردوں نے کاروائی بھی کی ہے۔ کراچی میں چہلم امام حسین ؑ کا جلوس بہت بڑی تعداد میں عزاداروں کی شرکت سے عبارت ہے۔ اس مرتبہ بعض اعلانات کی روشنی میں کراچی میں جلوس کے شرکاء کی تعداد میں بہت بڑے اضافے کی توقع ہے اس لیے امن و امان کے انتظامات کے ساتھ ساتھ حکومت کو رواداری قائم کرنے کی بھی کوشش تیز کرنی چاہیے۔ 

گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ لاڑکانہ میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو پر حملے پر بھی انہوں نے سخت ردعمل دیا ہے۔ گورنر سندھ، ایم کیو ایم کے ساتھ بھی تعاون بڑھانے کی پالیسی پر گامزن دکھائی دے رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے سندھ حکومت کو ایک مرتبہ پھر ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت وفاق سے خطیر رقوم حاصل کرنے کے باوجود کراچی کیلئے بڑا منصوبہ دینے میں ناکام رہی ہے۔ 

وفاقی حکومت کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبے پر ایک مرتبہ پھر کام کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے امید ہے کہ اس مرتبہ منصوبے پر کام شروع ہوجائے گا۔ جبکہ گرین لائن منصوبہ بھی عنقریب شروع ہونے کا امکان ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان خود اس منصوبے کا افتتاح کریں گے۔ 

کراچی کا موجودہ سیوریج والا نظام، بارش کے پانی کی نکاسی کا اہل نہیں، امیر جماعت اسلامی

گورنر سندھ خود متحرک، تحریک کے کارکنوں اور ایم کیو ایم سے رابطے! 

مزید :

ایڈیشن 1 -