”میرالونگ گواچابین“ الاقوامی شہرت یافتہ موسیقاروز یرافضل انتقال کرگئے 

”میرالونگ گواچابین“ الاقوامی شہرت یافتہ موسیقاروز یرافضل انتقال کرگئے 

  

  

لاہور(فلم رپورٹر)پاکستان کے بین الاقوامی شہرت کے حامل موسیقار وزیر افضل گزشتہ روز مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے ان کی عمر 84برس تھی ان کی نماز جنازہ میں موسیقی سے وابستہ شخصیات کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی بعد ازاں مرحوم کو علامہ اقبال ٹاؤن کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔وزیرافضل،در اصل موسیقار جوڑی کا نام تھا۔ ان میں ایک وزیرعلی اور دوسرے محمد افضل تھے۔وزیر علی بنیادی طور پر ریڈیو پاکستان کراچی میں موسیقی کا ایک ساز ”سرود“بجاتے تھے لیکن موسیقار ماسٹرغلام حیدر نے انھیں ”میڈولین“بجانے کا مشورہ دیا۔ اس ساز کے بجانے میں وہ ایسے ماہر ہوئے کہ1955 ء میں عام نمائش کے لئے پیش کی جانے والی فلم ”قاتل“ میں گلوکارہ کوثرپروین کے گائے ہوئے اور طفیل ہوشیارپوری کے لکھے ہوئے مشہور زمانہ گیت”او مینا، نجانے کیا ہوگیا“ میں انھوں نے موسیقار ماسٹرعنایت حسین کی معاونت کی تھی۔ بعد میں وزیر افضل نے موسیقار خواجہ خورشید انور کی شاگردی اختیار کی اور ایک مکمل اور مستند موسیقار بن گئے مگر اس کے باوجودوہ خواجہ خورشید انورکے ایک سازندے کے طور پر کام کرتے رہے۔وزیرافضل کی جوڑی کے دوسرے موسیقار محمدافضل تھے جو تقسیم سے پہلے پنجاب کے ایک مشہور اداکار، گلوکار اور موسیقار ”بھائی دیسا“کے بیٹے اور اپنے ساتھی، وزیرعلی کے بھتیجے تھے۔ اس طرح سے یہ ”چچا بھتیجا“کی ایک منفرد موسیقار جوڑی تھی جو 1968ء تک قائم رہی اور پھر کسی وجہ سے ٹوٹ گئی تھی۔ چچا، وزیرعلی نے وزیرافضل کے نام سے اپنا فنی سفر جاری رکھا۔ محمدافضل، خود ایک بہترین ”وائلن نواز“تھے اور ریڈیو پاکستان لاہور سے منسلک تھے۔ 2007ء میں ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ بعض حلقوں کے مطابق اس جوڑی کے زیادہ تر ہٹ گیتوں کی دھنیں، محمدافضل نے بنائی تھیں اور وزیرعلی نے کبھی اس کا کریڈٹ انھیں نہیں دیا تھا۔ یہ بات مبنی بر حقیقت نہیں لگتی کیونکہ اس جوڑی کے ٹوٹنے کے بعد بھی وزیرعلی نے ڈیڑھ درجن سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی اور کئی ایک سپرہٹ گیت تخلیق کئے تھے جبکہ محمدافضل کے کریڈٹ پر صرف ایک آدھ گمنام فلم ہی ملتی ہے۔وزیرافضل کو پہلی بار1963ء میں ہدایتکار اسلم ایرانی کی فلم ”چاچا خوامخواہ“ کی پس پردہ موسیقی دینے کا موقع ملا تھا۔ اتفاق سے اسلم ایرانی کے فلمساز ادارے Lovely Pictures کی اپنے مستقل موسیقار بابا جی اے چشتی سے کسی بات پر ان بن ہوگئی تھی تو ایسے میں وزیرافضل کو چار گیتوں کی دھنیں مرتب کرنے کا موقع بھی مل گیا تھا۔ ان کا پہلا گیت بڑا مقبول ہوا تھا "ایتھے وگدے نیں راوی تے چناں، بیلیا۔۔”یہ گیت عنایت حسین بھٹی اور منیرحسین کی آوازوں میں تھا جو فلم میں سدھیر اور مظہرشاہ پر فلمایا گیا تھا۔ اس فلم کا ٹائٹل رول معروف مزاحیہ اداکار اے شاہ شکارپوری نے کیا تھا۔فلم ”دل دا جانی“(1967) کے شاہکار گیتوں نے وزیرافضل کو بام عروج پر پہنچا دیا تھا اور 1968ء  میں ان کے فلمی کیرئر کی سب سے زیادہ یعنی دس فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ یا یوں سمجھیں کہ وزیرافضل کے پورے فلمی کیرئر کی ایک چوتھائی فلمیں صرف 1968ء  میں ریلیز ہوئیں۔ ان میں دو اردو فلمیں  ”دوبھائی“ اور ”پڑوسی“بھی شامل تھیں۔ فلم پڑوسی میں ملکہ ترنم نورجہاں کا یہ گیت سپرہٹ تھا "دل نغموں سے بھر جاتا ہے جب ہوتا ہے پیار کسی سے۔”باقی گیت بھی اچھے تھے لیکن اس کے بعد انھیں کبھی کسی اردو فلم کی موسیقی دینے کا موقع نہیں ملا۔ وزیرافضل نے صرف پانچ اردو فلموں کی موسیقی دی تھی جن میں سے ایک فلم فرسٹ ٹائم، ریلیز نہیں ہوئی تھی۔وزیرافضل نے فلم کے علاوہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بھی بڑی تعداد میں گیت کمپوز کیے تھے۔ اداکارہ اور گلوکارہ مسرت نذیر کے مشہورزمانہ لوک گیت ”میرالونگ گواچہ“کی دھن بھی انھوں نے بنائی تھی جسے دو فلموں، دلاری اور اللہ رکھا (1987) میں موسیقار ایم اشرف نے کاپی کیا تھا اور بالترتیب مسرت نذیر اور میڈم نورجہاں سے گوایا تھا۔شاہد حمید،معمر رانا،مسعود بٹ،حسن عسکری،شانسید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،ظفر اقبال نیویارکر،ہانی بلوچ،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن،لائبہ علی،عذرا آفتاب،حنا ملک،انعام خان،فانی جان،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ء کاظمی،،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ رحمان،ظفر عباس کھچی،سٹار میکر جرار رضوی،ملک طارق،مجید ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ء اللہ خان،مایا سونو خان،عباس باجوہ،مختار چن،آشا چوہدری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،چنگیز اعوان،حسن مراد،حسن ملک،عتیق الرحمن،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خرم شیراز ریاض،خالد معین بٹ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک،کوریوگرافر راجو حسین،علیزے،صومیہ خان،حمیرا چنا،اچھی خان،شبنم چوہدری،محمد سلیم بزمی،سفیان،انوسنٹ اشفاق،شہبازحسین،فیاض علی خاں،پروڈیوسر شوکت چنگیزی،ظفر عباس کھچی،ڈی او پی راشد عباس،پرویز کلیم،نیلم منیر خان،ڈیشی خان اور نجیبہ بی جی اور دیگر فنکاروں  نے کہا کہ وزیر افضل فن موسیقی کی بہت بڑی شخصیت تھے ان کے انتقال سے شعبہ موسیقی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ان کی فنّی خدمات تادیر یاد رکھی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔

 وزیر افضل

مزید :

صفحہ آخر -