گلاب دیوی انڈر پاس کی تعمیر سست روی کا شکار، ٹریفک جام معمول بن گیا، گردو غبار سے لوگ بیمار ہونے لگے

گلاب دیوی انڈر پاس کی تعمیر سست روی کا شکار، ٹریفک جام معمول بن گیا، گردو ...

  

 لاہور(انور کھرل، تصاویر:ندیم احمد)گلاب دیوی انڈر پاس کی تعمیر بدانتظامی کا شکار،تعمیراتی کام سست روی کا شکار ہونے پر ٹریفک نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا، گلاب دیوی اور چلڈرن ہسپتال کے سامنے ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا،گاڑیوں کی لمبی قطاروں سے مسافرگھنٹوں خوار، لوہے کی حفاظتی دیواریں بھی زمین بوس ہونے لگیں،شہری گردوغبار سے سانس سمیت دیگر مہلک بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے،منصوبہ اہم فیز میں داخل ہو گیا، مقررہ وقت میں مکمل کر لیا جائے گا، انتظامیہ کا دعویٰ۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں اہم سڑکوں پر فلائی اوور اور انڈر پاسز کی تعمیر جاری ہے جن میں شاہکام فلائی اوور، شیرانوالہ فلائی اوور اور گلاب دیوی انڈر پاس کی تعمیر شامل ہے۔ گلاب دیوی انڈرپاس تا لاہور بریج کی تعمیر کا منصوبہ تقریباً 2 ارب روپے کی لاگت سے مئی 2021 سے شروع ہوا جس کا ابتدائی تعمیراتی کام بڑی تیزی سے شروع ہوا مگر درمیان میں ڈیزائن تبدیل کرنے سمیت دیگر وجوہات کی بنا پر بدانتظامی اور سست روی شکار ہو کر رہ گیا اور روزانہ کی بنیاد پر کام میں ٹارگٹ اور تیزی کو یکسر نظر اندا ز کر دیا گیا ہے۔تعمیراتی کام کی رفتار میں سستی اور التوا کے باعث ایک ٹریفک نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ کلمہ چوک سے لے کر گلاب دیوی اور چلڈرن ہسپتال کے سامنے ٹریفک کا جام رہنا معمول بن چکا ہے، گاڑیوں کی لمبی قطاروں سے مسافر گھنٹوں خوار ہو نے لگے ہیں۔ دوسری جانب اُٹھنے والے گردوغبار سے فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث لوگ مختلف امراض کا شکار ہونے لگے ہیں۔اس حوالے سے پروجیکٹ ڈائریکٹر ایل ڈی اے کا کہنا ہے کہ گلاب دیوی انڈر پاس کا منصوبہ اہم فیز میں داخل ہو چکا ہے۔ تعمیراتی کام میں تاخیر اور سستی کی بڑی وجہ محکمہ واسا، سوئی گیس اور لیسکو کی جانب سے متعلقہ کاموں کا مکمل نہ ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 500کلو میٹر طویل پیرل کی کھدائی شروع کی جا چکی ہے جس میں 51 میٹر اونچائی،11 میٹر چوڑے انڈر پاس کی کھدائی ہو گی جو کہ رواں ماہ میں مکمل کر لی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ انڈر پاس کی 854 میں سے 816 پائلیں مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ پیرل کی 58 میں سے 46 پائلیں بھی مکمل کر لی گئی ہیں بکہ دیگر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبہ فروری2022 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایاکہ منصوبہ کی تکمیل کے بعد روزانہ ایک لاکھ سے زائد گاڑیوں کو فائدہ ہو گا اور ٹریفک کے دباؤ میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -