پیپلز پارٹی پنجاب میں دھڑے بندیاں ختم کرناپرویز اشرف کیلئے بڑا چیلنج

پیپلز پارٹی پنجاب میں دھڑے بندیاں ختم کرناپرویز اشرف کیلئے بڑا چیلنج

  

لاہور(تجزیہ:شہزاد ملک) پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے نئے صدر راجہ پرویز اشرف کو جہاں پر پیپلز پارٹی کو پنجاب میں زندہ کرنے کا ایک بڑا چیلنج درپیش ہے تواس سے بھی بڑا چیلنج ان کو پارٹی کے اندر  دھڑے بندی کو بھی ختم کرنے کا ایک اہم ایشو درپیش ہے وہ چاہتے تو گزشتہ روز ہی پیپلز پارٹی پنجاب اور لاہور تنظیم میں جاری دھڑے بندی کو ختم کرنے کی بنیاد رکھ سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا،راجہ پرویز اشرف صدر بننے کے بعد جب ٹھوکر نیاز بیگ پر لاہور کے داخلی راستے پر پہنچے تو ان کی آمد سے قبل ہی لاہور تنظیم کے صدر حاجی میاں عزیز الرحمن چن اپنی لاہور تنظیم کے مختلف عہدیداروں زاہد زوالفقار خان،عابد حسین صدیقی،میاں شاہد عباس،روبینہ سہیل بٹ،فیصل میر،چودھری سلیم جاوید جٹ،چودھری منشاء پرنس،وقاص منشاء پرنس،طارق سعید جٹ زونل صدور کارکنوں کے ساتھ ان کے استقبال کے لیئے موجود تھے جب راجہ پرویز اشرف کا قافلہ ٹھوکر پہنچا تو صدر لاہور اپنی گاڑی سے اتر کر پنجاب کے صدر کو خوش آمدید کہنے کے لیئے ان کی گاڑی کے پاس آئے اس موقع پر راجہ پرویز اشرف کو چاہئے تھا کہ وہ لاہور کے صدر جو کہ اس وقت ایک میز بان کی حیثیت رکھتے ہیں یا تو خود ان کی گاڑی میں بیٹھ جاتے یا پھر ان کو اپنی گاڑی میں بٹھا لیتے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا جس سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ وہ بھی پیپلز پارٹی پنجاب کی سابق تنظیم کی طرح لاہور تنظیم کو ساتھ لیکر چلنے کا کوئی بھی ارادہ نہیں رکھتے۔اسی طرح سے جب راجہ پرویز اشرف کا قافلہ قذافی سٹیڈیم کے باہر پہنچا تو وہاں پر پیپلز پارٹی پنجاب کے سنیئر نائب صدر چودھری اسلم گل،رانا جمیل منج،نرگس فیض ملک،سونیا خان،چودھری منور انجم اور پنجاب تنظیم سے تعلق رکھنے والے اور مختلف اضلاع سے آنے والے عہدیدار اور کارکنان موجود تھے۔یہاں تک آتے آتے لاہور تنظیم کے مختلف زونل صدور اور عہدیدار یہاں سے ہی غائب ہو گئے جبکہ لاہور کے صدر حاجی میاں عزیز الرحمن چن صدر پنجاب سے پہلے ہی صوبائی آفس جا پہنچے۔قذافی سٹیڈیم راجہ پرویز اشرف کا استقبالی قافلہ پہنچنے پر راجہ پرویز اشرف کا روائتی انداز میں استقبال کیا گیا ڈھول بجائے گئے گھوڑوں کا رقص کیا گیا جبکہ اسلم گڑا نے دس دس روپے کے نوٹ بھی نچھاور کیئے یہاں سے لاہور والے الگ ہو گئے اور پنجاب والے الگ ہو گئے اگر کوشش کی جاتی تو دونوں کو یکجا کرکے ایک اچھا شو کیا جا سکتا تھا مگر ایسا نہ ہو سکا اس لیئے ہم نے شروع میں بھی یہ کہا ہے کہ راجہ پرویز اشرف اسی صورت پنجاب میں ایک بھرپور کامیابی حاصل کر سکیں گے جب وہ پارٹی کے اندر دھڑے بندی کو ختم کرواکر سب کوایک پیج پر لانے میں کامیاب ہو جائیں گے اس وقت تو دھڑے بندی کا یہ عالم ہے کہ اگر کسی ایک عہدیدار کی کسی دوسرے عہدیدار سے نہیں بنتی تو کارکن ان سے پہلے اگر کسی اور سے سلام کر لے تواس بات پر بھی عہدیدار ناراض ہو جاتے ہیں اگر یہ کہا جائے کہ راجہ پرویز اشرف کااستقبال کوئی غیر معمولی استقبال تھا تو ایسی ہرگز بھی کوئی بات نہیں ہے جتنے دن پہلے استقبال کی تیاریاں کی جا رہی تھیں اتنا برا استقبال نہیں ہو سکا۔

تجزیہ  شہزاد ملک

مزید :

صفحہ اول -