فیک نیوز بڑا چیلنج،میڈیا ورکرز کے کنٹریکٹ پر عملدرآمد مسئلہ،فرخ حبیب

  فیک نیوز بڑا چیلنج،میڈیا ورکرز کے کنٹریکٹ پر عملدرآمد مسئلہ،فرخ حبیب

  

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے)فریم ورک پر تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل جاری ہے،قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کو بھی اس حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا ہے،فیک نیوز بڑا چیلنج ہے، صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کنٹریکٹ پر عملدرآمد مسئلہ ہے، پی ایم ڈی اے پر کوئی آرڈیننس نہیں لارہے، اگر ایسا ہی کرنا ہوتا تو مشاورت نہ کرتے، وار آف اوپینن اور غیر روایتی جنگ لاگو ہوچکی ہے۔ وہ منگل کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کو پی ایم ڈی اے سے متعلق بریفنگ دے رہے تھے۔ فرخ حبیب نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ایم ڈی اے پر تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری ہے انہوں نے بتایاکہ ای یو ڈس انفولیب نے 750جعلی ویب سائٹس کو بے نقاب کیا،معروف شخصیات کے جعلی اکاؤنٹس بنا کر پاکستان کیخلاف پراپیگنڈہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ پی ایم ڈی اے سے آزادی اظہار رائے پر کوئی قدغن نہیں لگے گا۔ وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ باقی ممالک کی طرح فیس بک، ٹویئٹر،نیٹ فیلکس،یوٹیوب اور او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے دفاتر پاکستان میں قائم ہونے چاہیں،نئی ایڈورٹائزنگ پالیسی میں ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ شامل کی گئی ہے، جو پی آئی ڈی سے رجسٹرڈ ہونگے انھیں سرکاری اشتہارات مل سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ میڈیاکمپلینٹ کونسل میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی درخواست کا21 دنوں میں فیصلہ ہوگا، اس کے خلاف میڈیا ٹربیونل سے رجوع کیا جاسکے گا،یہاں 21 دنوں میں فیصلہ ہوگاجو سپریم کورٹ میں چیلنج ہو سکتاہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی روایات نہیں تھیں، کسی بھی قانون کا مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے بعد قائمہ کمیٹی کے پاس جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے، اس اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں، سینٹ اور قائمہ کمیٹیوں کے اراکین پی ایم ڈی اے پر اپنی پارٹی قیادت کو جامع بریفنگ دیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے ہے۔ وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ ایم ڈی اے میں صحافیوں کی تربیت اور تحقیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے،پی ایم ڈی اے بنانے سے فنانشل بجٹ میں کمی، ریگولیٹری ارادے ایک چھتری تلے آجائیں گے، بنیادی طور پر دو آپشن تھے، میڈیا سے متعلق تمام قوانین میں ترامیم کی جائیں یاایک یہ قانون لایاجائے۔

فرخ حبیب 

مزید :

صفحہ اول -