پاکستان اور دنیا بھر میں دعوت تبلیغ کو فروغ دینا ہوگا،مولانا حامد الحق حقانی 

پاکستان اور دنیا بھر میں دعوت تبلیغ کو فروغ دینا ہوگا،مولانا حامد الحق ...

  

پبی (نما ئندہ پاکستان)  جمعیت علماء  اسلام کے سربراہ اور دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا حامدالحق حقانی نے کہاہے کہ  7 ستمبر پاکستان اور اسلام اور تحفظ ختم نبوت کا عظیم تاریخی یادگار دن ورثہ میں ہمیں اپنے قومی لیڈر شپ کی جانب سے انعام کے طورپر ملا ہے۔اس تاریخی دن کو کامیاب اوریادگار بنانے والے ہیروز میں ہمارے داداشیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق صاحب اور والد گرامی شہید ناموس رسالت،شہیدپاکستان شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق شہید  حضرت مولانا مفتی محمود،حضرت مولانا شاہ احمد نورانی،پروفیسر غفور،مولانا غلام غوث ہزاروی،شیخ الحدیث حضرت مولانا تقی عثمانی اور اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اوردیگر ارکان قومی اسمبلی شامل ہیں۔ملک کے دفاع کے ساتھ ساتھ ختم نبوت کے تحفظ کے لحاظ سے یہ فتح مبین کا دن ہے۔ میرے والد مولانا سمیع الحق شہید  اور مولانا تقی عثمانی نے شیخ الحدیث حضرت مولاناعبدالحق   اور حضرت مولانا مفتی محمود کے حکم پر اڑتالیس گھنٹوں میں 'قادیانیت اور ملت اسلامیہ کا مؤقف' کتاب قومی اسمبلی کے لئے مدلل دلائل سے بھرپور تیار کی،وہی کتاب اٹارنی جنرل آف پاکستان نے قومی اسمبلی میں پڑھ کر سنائی اور قائدین حضرت مولانا مفتی محمود،شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق  نے اس پر زبردست آواز اور تحریک قومی اسمبلی میں بلند کی جس کی بنیاد پر قادیانی کافر اور اقلیت قرار دے دئیے گئے جو کہ آئین کا حصہ بن چکا ہے اور قادیانی آئین پاکستان کے غدار ہیں جو آئین کو آج تک تسلیم نہیں کرتے اور ہمارے حکمران ان کو آئے دن سہولیات دیتے رہتے ہیں جوکہ لمحہ فکریہ ہے۔ان خیالات کا اظہارمولانا حامد الحق حقانی نے اپنے ایک جاری بیان میں کیا،مولانا حقانی نے قوم سے اپیل کی کہ آج 7 ستمبر شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق  کا یوم وفات ہے  اور عالم اسلام کی عظیم اسلامی یونیورسٹی جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا یوم تاسیس بھی ہے اس لئے پورے پاکستان کے مدارس علمائیکرام،خانقاہوں،مساجد،تبلیغی مراکز اور خصوصاً جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے کارکن رہنما،اورساتھی دفاع پاکستان کی دیگر جماعتیں آج قادیانیت کے خلاف اپنے بیانات کے موقع پر امت کے ان عظیم رہنماؤں کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں جن کی محنتوں سے قادیانی فتنہ اقلیت میں تبدیل ہوا اور خصوصاً حضرت مولانا عبدالحق  اور مولانا سمیع الحق شہید کیلئے ہرجگہ دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا جائے۔ مولانا حامد الحق حقانی نے اس بات پر زور دیا کہ فرقہ واریت اور تعصب عالم اسلام اورپاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرسکتا ہے،لہٰذا اہل تشیع حضرات کو اپنے دیگر ہم مسلک سخت گیر لوگوں کو سمجھانا ہوگا کہ وہ خلفائے راشدین اور اہل بیت  اور تمام صحابہ کرام  پر کسی قسم کی گستاخی کو ترک کرنا ہوگاجس سے دشمن اپنے عزائم میں کامیاب ہوسکتا ہے اور پاکستان میں خدانخواستہ فرقہ واریت کی آگ بھڑک سکتی ہے۔ اس لئے سب کو توبہ استغفار کرکے امت کو یکجا کرنے کے لئے پاکستان اور دنیابھر میں دعوت تبلیغ کے کام کرنے کو فروغ دینا ہوگا جس سے امت مسلمہ اور پاکستان مستحکم ہوسکیں گے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -