دامن صاف ہے یونیورسٹی میں کوئی غیر قانونی بھرتی نہیں کی: وائس چانسلر

  دامن صاف ہے یونیورسٹی میں کوئی غیر قانونی بھرتی نہیں کی: وائس چانسلر

  

 صوابی(بیورورپورٹ)صوابی یونیورسٹی اور ویمن یونیورسٹی صوابی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید محمد مکرم شاہ نے گزشتہ روز سوشل میڈیا میں چلنے والی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ ان کا دامن صاف ہے دونوں یونیورسٹیوں میں کوئی غیر قانونی بھرتی نہیں کی گئی ہے بلکہ طلبہ کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں۔اُٗن کا کہنا تھا کہ صوابی یونیورسٹی میں سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر امتیاز علی خان نے دودرجن سے زیادہ شعبہ جات شروع کئے تھے جس میں وزٹنگ فیکلٹی سے کام چلایا جارہاتھا جب میں نے چارچ سنبھالا تو یا تو وہ شعبہ جات بند کرنے پڑتے یا اُس کے لئے فیکلٹی کی تعیناتی کرنی پڑتی کیونکہ ان اساتذہ کے کنٹریکٹ ختم ہوگئے تھے اور طلبہ چھٹے سمسٹر تک پہنچ گئے تھے اس لئے ڈین، شعبہ جات کے سربراہان  کے باہمی مشاورت سے  یونیورسٹی کے طلبہ کی مستقبل کے لئے ہم نے قانون کے دائرہ کار کے اندر رہ کر اشتہار دیا۔ اور الیون فائیو ای کے تحت بھرتیاں کرکے طلبہ کا مستقبل مخدوش ہونے سے بچالیا اور کوئی نئی بھرتی نہیں کی اسی طرح ویمن یونیورسٹی صوابی میں چونکہ پروفیسر ڈاکٹر شاہانہ عروج کاظمی پر جی آئی ٹی بنی تھی اور اس رپورٹ کے مطابق جو الیون فائیو ای پر بھرتیاں کی گئیں تھی وہ غیر قانونی تھیں  یونیورسٹی کے قانون کے مطابق سینڈیکیٹ سے اپروول کے بعد جس کا جو حق تھا اسی پوزیشن پر سکروٹنی کمیٹی کی تجاویز پر الیون فائیو ڈی کے مطابق بھرتیاں کیں جو کہ وائس چانسلر کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔وہاں بھی کوئی نئی بھرتی نہیں کی گئی ہے۔جو پروانشل انکوائری کمیٹی بٹھائی گئی ہے اس پر ہم نے الحمداللہ اپنا تسلی بخش جواب جمع کردیا ہے۔کیونکہ ہمارا دامن صاف ہے ہم نے کوئی خلاف قانون کام نہیں کیا جس پر ہمیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -