چکدرہ کا نوجوان اٹک پولیس کے ہاتھوں قتل،تفصیلات منظر عام پر 

  چکدرہ کا نوجوان اٹک پولیس کے ہاتھوں قتل،تفصیلات منظر عام پر 

  

چکدرہ (تحصیل رپورٹر) چکدرہ کا نواجوان اٹک پولیس کے ہاتھوں قتل کی تفصیلات منظر عام پر آگئی، اعلیٰ سطحی تحقیقات میں ساجد کا قتل پولیس کے ہاتھوں ثابت، محکمانہ انکوائری میں آئی جی سے دو ڈیس ایس پیز اور دو ایس ایچ یوز سمیت بائس پو لیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی سفارش، ادینزئی قومی جرگہ نے ملوث اہلکاروں کو قتل کے جرم میں فوری گرفتاری کا مطالبہ کردیا، ملوث اہلکاروں کو گرفتار نہ کیا گیا تو دو ضلعوں کے عوام اپنا فیصلہ خود کرینگے، تفصیلات کے مطابق دو ماہ قبل اٹک میں پنجاب پولیس کے ہاتھوں چکدرہ کے نوجوان ساجد کے قتل کی محکمانہ انکوائری منظر عام پر آگئی یہ انکوائری آئی جی پنجاب کے حکم پر ڈی آئی جی نے مکمل کی ہے جس میں ساجد کے قتل کو پولیس کے ہاتھوں بتایا گیا ہے، انکوائری میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اٹک پولیس نے واقعہ کو غلط رنگ دیکر الٹا مقتول کے ساتھی پر جھوٹی ایف آئی آر درج کرکے ایک اور غیر قانونی کام کیا ہے، تحقیقاتی کمیشن نے آئی سے واقعہ کے متعلق غفلت بھرتنے پر دو ڈی ایس پیز، دو ایس ایچ اوز سمیت بائس پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائی کی سفارش بھی کی ہے، دریں اثناء اس حوالے سے ادینزئی قومی جرگہ کا ایک اہم اجلاس چکدرہ میں منعقد ہوا جس میں ایم پی اے ھمایون خان، خورشید علی خان، سید سلطنت یار، حسین شاہ یوسفزئی سمیت کئی دیگر نے شرکت کی،جرگہ نے انکوائری رپورٹ کی روشنی میں فوری طور پر ساجد قتل مقدمہ میں ملوث پولیس اہلکاروں کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمہ کے آغاز کا مطالبہ کردیا، اور اس مقصد کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی جس میں نامور وکلاء بھی شامل ہونگے قائم کی گئی جو کیس کے ہر پہلو کا وقتا فوقتا جائزہ لیکر لائحہ عمل طے کریگی۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -