ہزاروں بچے اس وقت تھیلی سیمیا سمیت مہلک امراض میں مبتلا ہیں 

ہزاروں بچے اس وقت تھیلی سیمیا سمیت مہلک امراض میں مبتلا ہیں 

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصررشید نے کہا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہزاروں بچے اس وقت تھیلی سیمیا سمیت دیگر مہلک امراض میں مبتلا ہیں مگر بدقسمتی سے یہاں پر کوئی ہسپتال ان کیلئے نہیں اور سارا دارومدار نجی فلاحی اداروں اور سنٹرز پر کیا جا رہا ہے حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس حوالے سے ایک رپورٹ مرتب کرے اور اس ہسپتال کی تیاری کیلئے جو ضروری اقدامات ہیں انہیں باہمی مشاورت کے ساتھ طے کریں فاضل چیف جسٹس نے یہ ریمارکس گزشتہ روز محمد علی نامی بچے کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی جس میں انکے والدین نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کا بچہ ایک ایسی بیماری ہیپلو ٹرانسپلانٹ میں مبتلا ہے جس کا پاکستان میں علاج ہونا ممکن نہیں اور وہ انتہائی غریب ہیں انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس علاج پر 45 ہزار ڈالرز کا خرچہ آئے گا اور یہ بیرون ملک میں ہی ہو سکتا ہے اس دوران نیشنل ہیلتھ سروسز کے حکام، ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختون خوا اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر جاوید عدالت کے روبرو پیش ہوئے دوران سماعت چیف جسٹس نے نیشنل ہیلتھ سروس کے عہدیداروں سے استفسار کیا کہ سرکاری طور پر تھیلی سیمیا سمیت دیگر خطرناک بیماریوں میں مبتلا بچوں کیلئے کیا اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جس پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے مختلف سرکاری تنظیمیں خون کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں اور انہیں عطیات بھی مل رہے ہیں جس سے سرکاری سطح پر بھی سپورٹ کیا جا رہا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اپ لوگ اسے سرکاری طور پر کیوں حل نہیں کرتے یہ ایک بچے کی زندگی کا سوال نہیں ہے بلکہ لاکھوں بچے اس قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور سرکار کے پاس ان کیلئے ہسپتال تک نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ لوگ اس کو دیکھیں کہ سرکاری طور پر ایسے ہسپتال قائم ہو سکتے ہیں اور اگر قائم ہو سکتے ہیں تو صوبوں کے ساتھ ساتھ وفاق اس میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے اس لئے آپ لوگ آپس میں مل بیٹھ جائیں دوران سماعت اے جی نے عدالت کو بتایا کہ اس بچے کی ایک عجیب سی  بیماری ہے جس کا علاج بعض ماہرین کے مطابق شفا انٹرنیشنل کراچی، اغا خان ہسپتال کراچی  اور بورن مرر ٹرانسپلانٹ سنٹر امر انسٹیٹیوٹ میں ہو سکتا ہے جس پر بھی لاکھوں روپے کا خرچہ آئے گا تاہم سرکاری سطح پر اس حوالے سے حکومت بیت المال اور دیگر طریقوں سے فنڈنگ کر سکتی ہے جو کہ محدود ہوگی مگر اس سے بہت سے ایسے لوگ عدالتوں میں آئیں گے جو کہ ان بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ان کے پاس علاج کیلئے پیسے نہیں اس لئے اسے ایک کیس نہیں بلکہ مجموعی طور ایک حل کی جانب لے جانا ضروری ہے دوران سماعت مذکورہ بچے کی رشتہ دار وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس بچے کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں اور یہ صرف بیرون ملک ہی ہو سکتا ہے جس کیلئے 60 لاکھ روپے درکار ہیں جو کہ بچے کے والدین کی استطاعت سے باہر ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سارے بچے ہمارے بچے ہیں جس طرح ہر کوئی اپنے بچے کیلئے درد رکھتا ہے اس طرح ہم اس بچے کے لئے جذبات رکھتے ہیں مگر بدقسمتی سے اس ملک کی معاشی حالات اتنے خراب ہیں کہ اگر ہم ایک بچے کے لئے احکامات کر دیں تو کل ہزاروں کی تعداد میں کیسز عدالتوں میں آئیں گے لہذا ضروری ہے کہ مقامی طور پر اس کے حل کیلئے اقدامات اٹھائیں جائیں اور اس میں وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتیں اپنا کردار ادا کرے بعد ازاں عدالت نے وزیراعلی خیبر پختون خوا، چیف سیکرٹری، سیکرٹری صحت، ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختون خوا اور نیشنل ہیلتھ سروسز کے نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ اگلی تاریخ سے قبل اس حوالے سے ضروری اقدامات اٹھائیں اور ایک ایسا لائحہ عمل تیار کرے جس پر عمل کرکے ایسے بچوں کی زندگی بچائیں جا سکتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ سارے امور سرکاری کے زیر نگرانی ہونگے تاکہ وہ اس ملک کے بچوں کیلئے بہترین طبی سہولیات یقینی بنائیں بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت 22 ستمبر تک کیلئے ملتوی کر دی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -