کورونا وبا ء نے شیعہ تعلیم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا: آصف اقبال داؤزئی 

کورونا وبا ء نے شیعہ تعلیم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا: آصف اقبال داؤزئی 

  

 پشاور(سٹی رپورٹر)پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن خیبر پختونخو اکے چیرمین اصف اقبال داودزئی نے کہا ہے کہ کورونا وبا سے اگرچہ زندگی کے تمام شعبوں کو نقصان پہنچا لیکن شعبہ تعلیم کوپہنچنے والے نقصانات دیگر تمام شعبوں سے سے کہیں زیادہ ہیں،ایک طرف کورونا وبا نے حالات خراب کئے تو دوسری طرف حکومت کے ناقص فیصلوں نے تعلیمی شعبے کو ناقابل تلافی نقصانات پہنچایا۔پشاور پریس کلب میں ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہون نے کہا کہ کویڈ سے ملک میں تعلیمی ماحول کو بہت نقصان پہنچا، لیکن حکومت کے غلط فیصلوں نے کویڈ سے زیادہ نجی تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچایا، اگرچہ نجی تعلیمی اداروں میں ایس او پیز پر سب سے زیادہ عمل ہورہا ہے، لیکن اس  کے باوجود گزشتہ سال حکومت نے کئی ماہ تک تعلیمی اداروں بند رکھا، حالنکہ حقیقت یہ ہے کہ کوورونا وائرس سے کم عمر بچے بہت کم متاثر ہوئے۔انہوں نے کہا نجی تعلیمی اداروں کے 90فیصد اساتذہ ویکسین لگواچکے ہیں، جبکہ سکولوں میں ایس او پیز پر بھی عمل ہورہا ہے، لیکن حکومت نے ایک بار پھر تعلیمی اداروں کو بند کردیا ہے۔اصف اقبال داودزئی نے کہا کہ نجی تعلیمی تعلیمی ادارے حکومت کا ہاتھ بٹاتے ہیں، یہ ادارے نہ صرف بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتے ہین،بلکہ ہزاروں لاکھوں افراد کو روزگار بھی فراہم کرتے ہیں یوں نجی تعلیمی ادارے ملک میں معاشی ماحول پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کوروونا کے نام پر سکولوں کی بندش سے نہ صرف طلبا کا قیمتی وقت ضائع ہوگا بلکہ تعلیمی اداروں سے منسلک ہزاروں اساتذہ کا بھی روزگار متاثر ہوگا،اس کے اعلاوہ کرائے کے عمارتوں میں قائم سکولوں کے مالکان پر بھی غیر معمولی معاشی بوجھ میں بھی اضافہ ہوگا۔اصف اقبال داودزئی نے مطالبہ کیا کہ حکومت این سی او سی میں نجی شعبے کو بھی نمائندگی دے تاکہ لاک ڈاون اور دیگر فیصلوں میں نجی شعبے کا موقف بھی این سی او سی کے پلیٹ فارم پر حکومت کے سامنے اسکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -