مردم شماری معاملے پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلا یا جائے، شیری رحمن

مردم شماری معاملے پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلا یا جائے، شیری رحمن

  

 اسلام آ باد (آئی این پی) پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہاہے کہ متنازعہ مردم شماری کے معاملے پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس نہ بلانے پر شدید تشویش ہے تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے مردم شماری کے معاملے پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا  اس موقع پر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت وفاقی حکومت کو مشترکہ اجلاس بلانے کے لیے کئی بار درخواست کر چکی ہے شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سندھ صوبہ متنازعہ مردم شماری کے خلاف مشترکہ مفادات کونسل میں احتجاج کر چکا سندھ کی مخالفت کے باوجود متنازعہ مردم شماری کو مشترکہ مفادات کونسل نے منظور کیا ان کا کہنا تھا کہ سی سی آئی کی تاریخ میں پہلی بار ایک صوبے کی مخالفت کے باوجود اسے منظور کیا گیا اور آئین کے آرٹیکل 154 کے مطابق سندھ کی مخالفت کے بعد مردم شماری کا معاملہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں جائے گا شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کیلئے صدر، وزیراعظم، سپیکر اور چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ چکے ہیں مردم شماری کے معاملے پر وفاقی حکومت کی غیر سنجیدگی وجہ سے سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر ہو رہی ہے انہوں نے بتایا کہ بلدیاتی انتخابات مردم شماری پر پارلیمان کے حتمی فیصلے کہ بعد ہو سکتے ہیں پہلے نہیں، سندھ کے قانونی اور آئینی تحفظات کے باوجود صوبے پر متنازعہ مردم شماری کے نتائج مسلط کیے جا رہے ہیں  ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ آئینی معاملہ ہے حکومت غیر ذمے داری کا مظاہرہ بند کرے۔

شیری رحمن

مزید :

پشاورصفحہ آخر -