بد عنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی اولین ترجیح ہے: چیئر مین نیب 

بد عنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی اولین ترجیح ہے: چیئر مین نیب 

  

   اسلام آباد(آن لائن)قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ہیڈکوارٹر ز میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں حسین اصغر، ڈپٹی چیئرمین نیب،سید اصغر حیدر، پراسیکیو ٹر جنرل نیب جبکہ نیب کے تمام علاقائی بیوروز کے ڈائریکٹرز جنرلز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔اجلاس میں نیب کی ماہانہ مجموعی کاردکردگی، ملک بھر کی مختلف فاضل احتساب عدالتوں میں نیب کے زیر سماعت ریفرنسز خصوصاََ میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیاکہ179میگا کرپشن مقدمات میں سے66میگا کرپشن مقدمات کومعزز احتساب عدالتوں نے قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچا یا ہے جبکہ 93بد عنوانی کے مقدمات معزز احتساب عدالتوں میں زیر التوا ہیں جن کی جلد سماعت کے لئے معزز احتساب عدالتوں میں قانون کے مطابق درخواستیں دائر کی جارہی ہیں۔قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال  نے میگا کرپشن مقدمات میں نیب کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ66میگا کرپشن مقدمات جن کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا ہے انمیں سے12میگا کرپشن کیسز میں مختلف معزز احتساب عدالتوں نے ٹھوس شواہدا ور ثبوتوں کی بنیاد پر قانون کے مطابق مجموعی طور پرملزمان کو 4.364ارب روپے کی سزا سنائی۔ جن میں عبد القادرتوکل اور دیگر کو 613ملین روپے کی سزا،اشتیاق حسین میسرز بارق سنڈیکیٹ راولپنڈی اور دیگر 200ملین روپے کی سزا،پاکستان میڈیکل کووآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ اور لینڈ سپلائرز کو 70ملین روپیکی سزا،حارث افضل ولد شیر محمد افضل اور دیگر1ارب روپے کی سزا،سیٹھ نثار احمد اور دیگر کو 179.069ملین روپے کی سزا،شیخ محمد افضل چیف ایگزیکٹو/ڈائریکٹر حارث سٹیل انڈسٹری پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر کو331ملین روپے کی سزا،رضا حبیب چیف ایگزیکٹو،مسز شمائلہ میسرز جنت اپیرل پرائیویٹ لمیٹڈ فیصل آباد کو 174ملین روپے کی سزا،شیخ محمد افضل کو 435ملین روپے کی سزا،گلیکسی سٹی راولپنڈی کی انتظامیہ اور دیگر کو 213ملین روپے کی سزا،ایاز خان نیازی سابق چئیرمین این آئی سی ایل اور دیگر کو 900ملین روپے کی سزا،سید مرید کاظم سابق، صوبائی وزیر برائے ریونیو خیبر پختونخواہ،احسن اللہ سابق سینئر ممبر بورڈ آف ریونیواور دیگر کو200ملین روپے کی سزا  جبکہ سعید اختر جنرل منیجر پاکستان ریلویز اور دیگر 3.78ملین یو ایس ڈالر کی سزا سنائی۔جبکہ6مقدمات میں نیب نے ملزمان سے ولنٹری ریٹرن کے ذریعے مجموعی طور پر 7.859ارب روپے ملزمان سے برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کروائے۔جن میں الحمرہ ہلز اینڈ ایڈن بلڈرز کی انتظامیہ نے 1.902ارب روپے،منظرِ کوہسار احباب ہاؤسنگ سوسائٹی موزہ جھنڈو کی انتظامیہ اور دیگر نے 80ملین روپے،ایم امجد عزیز چیف ایگزیکٹوآفیسرڈیوائن ڈویلپرزپرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر نے 313.308ملین روپے، خوشحال ایسوسی ایٹس نوشہرہ اور دیگرنے60ملین روپے،شاہنواز مری سابق صوبائی وزیر برائے کھیل حکومت بلوچستان نے 14ملین روپے  جبکہ ریاض احمدسابق پراجیکٹ ڈائریکٹر پولیس ڈیپارٹمنٹ بلوچستان نے5.5ارب روپے کی ولنٹری ریٹرن کی رقوم بر آمد کر کے قومی خزانے میں جمع کرائیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ قانون کے مطابق 4میگا کرپشن مقدمات میں ملزمان نے پلی بارگین کی جس کے ذریعے مجموعی طور پر 1.256ارب روپے نیب نے ملزمان سے برآمد کروا کر قومی خزانے میں جمع کروائے۔جن میں سید معصوم شاہ سابق سپیشل اسسٹنٹ ٹو سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ اور دیگر نے 300ملین روپے،میسرز کیپیٹل بلڈرز پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر نے 440ملین روپے،میسرز ٹیلی ٹاؤن پرائیویٹ لمیٹڈ کی انتظامیہ اور لینڈ سپلائر اور دیگر311ملین روپے، راؤ فہیم یاسین،راؤ ندیم یاسین،راؤ نوید یاسین اور میسرز ونڈ ملز ریسٹورانٹ لاہور کے تمام پارٹنرز اور دیگر نے 205ملین روپے کی پلی بارگین کی۔نیب کے قانون 25(b)کے تحت پلی بارگین سزا تصور ہوتی ہے جس میں ملزم نہ صرف اپنے جرم کا اقرار کرتا ہے بلکہ لوٹی ہوئی رقوم و اپس کرنے پر رضا مند ہو جاتا ہے۔پلی بارگین کی قانون کے مطابق حتمی منظوری معزز احتساب عدالت دیتی ہے۔  اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت179میگا کرپشن کیسز میں سے 10انکوائریز 11انوسٹی گیشنزکے مراحل میں زیر تحقیقات ہیں جبکہ 93میگاکرپشن کیسز کے ریفرنسز مختلف معزز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ملک سے بد عنوانی کا خاتمہ اور بد عنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقو م کی واپسی نیب کی اولین ترجیح ہے۔نیب نے اپنے قیام سے اب تک822 ارب روپے بدعنوان عناصر سے بر آمد کر کے بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر برآمد کئے جبکہ نیب کی موجودہ قیاد ت کے دور میں گزشتہ تین سالوں میں بدعنوان عناصر سے بر آمد کر کے535 ارب روپے بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر برآمد کئے جو کہ دوسری انسداد بد عنوانی کے اداروں کے مقابلہ میں نیب کی بہترین کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نیب کے اس وقت 1273بد عنوانی کے ریفرنس ملک کی مختلف معزز احتساب عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ جنکی تقریباََ مالیت 1305 ارب روپے ہے۔چئیرمین نیب نے نیب کے تمام علاقائی بیوروز کو ہدایت کی کہ نیب کے مقدمات کی ٹھوس شواہد، مستند دستاویزات اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں پوری تیاری کے ساتھ قانون کے مطابق معزز عدالتوں میں پیروی کی جائے۔ 

چیئرمین نیب 

مزید :

صفحہ اول -