غازی کے خوف نے 1965 کی جنگ میں دشمنوں کی نقل و حرکت کو انتہائی محدود رکھا

غازی کے خوف نے 1965 کی جنگ میں دشمنوں کی نقل و حرکت کو انتہائی محدود رکھا
غازی کے خوف نے 1965 کی جنگ میں دشمنوں کی نقل و حرکت کو انتہائی محدود رکھا

  

کراچی (ویب ڈیسک) 1965 کی جنگ میں پاکستان کی واحد آبدوز غازی کا خوف دشمنوں کے ذہنوں پر چھایا رہا جس کے باعث  بھارت نے اپنے ائیر کرافٹ کیئرئیر آئی این ایس وکرانت کو  بندرگاہ سےباہر ہی نہیں نکالا۔

1965 کی جنگ کے دوران پاکستان نے ’’غازی ‘‘کو  بھارتی پانیوں میں تعینات کرتے ہوئے حکم دیا  تھا کہ وہ بھارتی بحریہ کے بھاری اور بڑے جنگی جہازوں کو ہی نشانہ بنائے، ’’غازی ‘‘ بھارت کے واحد ائیرکرافٹ کیرئیر آئی این ایس وکرانت کو نشانہ بنانے کے لیے ڈھونڈتی رہی، مگر وہ بندرگاہ سے نکلا ہی نہیں ، اس دوران اس آبدوز نے بھارتی فضائیہ کے ریاست گجرات کے علاقے دوارکا میں واقعہ راڈار  سٹیشن کو نشانہ بنانے کے پاک بحریہ کے مشن کی مدد بھی کی۔

17 ستمبر کو غازی نے سطح پر آکر بھارتی جہاز آئی این ایس برہماپتر کو 3 تارپیڈو سے نشانہ بنایا اور جوابی حملے کو آسانی سے ناکام بنادیا، وطن واپسی پر اس آبدوز کو ستارہ جرات، تمغہ جرات سمیت 10 جنگی اعزازات سے نوازا گیا۔

پی این ایس غازی (ایس 130) آبدوز  پاکستان نے 1963 میں امریکا سے لیز پر لی تھی۔ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق بنیادی طور پر یہ دوسری جنگ عظیم کے زمانے کی آبدوز تھی جو امریکی بحریہ کے لیے 1945 سے 1963 تک خدمات سرانجام دے چکی تھی اور پاکستان کو سیکیورٹی اسسٹننس پروگرام کے تحت 4 سالہ لیز پر 1964 میں ملی اور پاک بحریہ کا حصہ بنی ۔

1971 میں جب پاک بھارت کشیدگی ہوئی تو  بھارتی بحریہ نے اپنے ائیر کرافٹ کیرئیر آئی این ایس کو وشاکا پٹنم منتقل کردیا،  غازی کو اسے نقصان پہنچانے کا مشن ملا ،اسی مشن کے دوران یہ آبدوز 4 دسمبر 1971 کو وشاکا پٹنم پورٹ پر  بارودی سرنگیں لگانے کے دوران اپنی ہی لگائی بارودی سرنگ سے شہید ہو گئی ۔

مزید :

قومی -