افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کو بڑا جھٹکا دے دیا گیا

افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ ...
افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کو بڑا جھٹکا دے دیا گیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد اور دیگر چار ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا۔ اے بی سی نیوز کے مطابق ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی 560دن کے تعطل کے بعد سانحہ نائن الیون کے 20برس مکمل ہونے سے چند روز قبل دوبارہ شروع کی جا رہی ہے۔ خالد شیخ محمد کو کیوبا میں واقع امریکی نیول بیس پر بنائی گئی جیل ’گوانتاناموبے‘ میں 15سال گزارنے کے بعد 2019ءمیں پہلی بار فوجی ٹربیونل کے سامنے پیش کیا گیا تھا تاہم کورونا وائرس کی وباءکے باعث عدالتی کارروائی 17ماہ تک تعطل کا شکار رہی۔

قبل ازیں ہونے والی عدالتی کارروائی میں ملزمان کے وکیل کی طرف سے ان پر جیل میں ہونے والے تشدد کا معاملہ بھی اٹھایا گیا تھا۔ وکلاءصفائی کا کہنا ہے کہ باقاعدہ ٹرائیل سے پہلے کا مرحلہ ایک سال تک مزید جاری رہ سکتا ہے۔ اس دوران جج کی اہلیت کا معاملہ بھی زیربحث آئے گا۔ وکلاءصفائی کے مطابق مقدمے کے پانچ ملزمان خالد شیخ محمد، عمار البلوشی، ولید بن اتاش، رمزی بن الشیبہ اور مصطفی احمد الہوساوی بہت کمزور ہیں۔ 2002سے 2006ءکے دوران سی آئی اے کی طرف سے ان پر بہیمانہ تشدد کیا گیا جس کے ان پر دیرپا اثرات مرتب ہوئے ہیں اور تاحال ملزمان ان اثرات سے نکل نہیں سکے۔ان پر اب بھی کرب ناک حالات اور تنہائی کے اثرات واضح ہیں۔ واضح رہے کہ اس کیس کی سماعت میں نائن الیون کے سانحے میں ہلاک ہونے والے 2976افراد کے اہلخانہ بھی شریک ہوں گے۔ ملزمان کے خلاف قتل اور دہشت گردی کے الزامات میں سزائے موت کی دفعات کے تحت عدالتی کارروائی کی جا رہی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -