روس میں اپنے سگے باپ کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی تین بہنوں نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا

روس میں اپنے سگے باپ کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی تین بہنوں نے ...
روس میں اپنے سگے باپ کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی تین بہنوں نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روس میں کئی سال تک اپنے سگے باپ کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی تین بہنوں نے بالآخر اس بدبخت شخص کو موت کے گھاٹ اتار ڈالا۔ میل آن لائن کے مطابق 57سالہ شیطان صفت میخائیل خاچاتورین نامی یہ شخص مبینہ طور پر اپنی بیٹیوں 19سالہ کرسٹینا، 18سالہ انجلینا اور 17سالہ ماریا کو اس وقت سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا جب وہ ابھی نابالغ تھیں۔ گزشتہ سال جولائی میں انہوں نے بالآخر تنگ آ کر اپنے باپ کو چھری اور ہتھوڑے کے وار کرکے موت کے گھاٹ اتار ڈالا۔ 

پولیس کے مطابق لڑکیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے دفاع کے لیے اپنے باپ کو قتل کیا۔ پولیس نے دونوں بڑی بہنوں کرسٹینا اور انجلینا کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں عدالت میں پیش کر دیا تھا تاہم چھوٹی بہن ماریا کی ذہنی حالت ٹھیک نہ ہونے پر اسے علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ کرسٹینا اور انجلینا کو 20، 20سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے تاہم ماریا تاحال ذہنی امراض کے ہسپتال میں زیرعلاج ہی ہے اور اس کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جارہا کیونکہ اسے ڈاکٹر مکمل پاگل قرار دے چکے ہیں۔

کرسٹینا اور انجلینا نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا تھا کہ ”ہمارا باپ ہم سے کہتا تھا کہ ’میں تم سے شادی کروں گا اور تم میرے بچوں کو جنم دو گی۔‘ وہ ہمیں اپنے سامنے برہنہ ہونے کا حکم دیتا۔ جب ہم برہنہ ہو جاتیں تو وہ ہمیں اپنے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کا حکم دے دیتا۔وہ ہمیں کہتا تھا کہ اسے پراسٹیٹ کی بیماری لاحق ہے اور یہ اس کا علاج ہے۔“

مزید :

بین الاقوامی -