’عوام پر نو سو ارب روپے کا بوجھ ڈالنا ظلم ،اکتوبر سے بجلی مہنگی کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے‘ کراچی سے بڑی آواز بلند ہو گئی

’عوام پر نو سو ارب روپے کا بوجھ ڈالنا ظلم ،اکتوبر سے بجلی مہنگی کرنے کے فیصلے ...
’عوام پر نو سو ارب روپے کا بوجھ ڈالنا ظلم ،اکتوبر سے بجلی مہنگی کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے‘ کراچی سے بڑی آواز بلند ہو گئی

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بجلی کے شعبہ میں نقصانات اور گردشی قرضہ پر قابو پانے کے لئے اگلے مہینے سے بجلی کے نرخ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ اس سے عوام، صنعت اور تجارت پر بوجھ بڑھے گا، اور عمومی مہنگائی میں بھی اضافہ ہو گا، حکومت بجلی مہنگی کرنے کے بجائے اپنے اخراجات کم کرنے کے آپشن پر غور کرے جن میں گزشتہ تین سال میں پچھتر فیصد اضافہ ہوا ہے۔

میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امسال بجلی کے نرخ نہ بڑھانے کا وعدہ کیا گیا تھا جس پر عمل نہ ہو سکا اور اب آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لئے اگلے مہینے سے بجلی مزید مہنگی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی قرضے دینے پر آمادہ ہو جائیں گے۔

انھوں نےکہاکہ گیارہ سے سترہ اکتوبر تک وزیرخزانہ امریکہ کادورہ کر رہے ہیں تاکہ وہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی سالانہ میٹنگز میں شرکت کریں اور ان اداروں کو بجلی مہنگی ہونے کی خوشخبری سنانا چاہتے ہیں تاکہ قرضوں کا سلسلہ بحال ہو سکے،سال رواں کے ابتداءمیں حکومت نے آئی ایم ایف سے بجلی کے نرخ میں پانچ روپے پینسٹھ پیسے اضافہ کا وعدہ کیا تھا جس سے عوام پر نو سو ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنا تھا مگر حکومت نے اپنا وعدہ نہیں نبھایا جس کے بعد عالمی ادارے اور پاکستان کے مابین تعلقات کشیدہ ہو گئے جنھیں اب بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، اس صورت میں عوام پر کم از کم نو سو ارب روپے کا بوجھ ڈالا جائے گا جس سے معیشت کا ہر شعبہ اور ملک کا ہر شہری متاثر ہو گا۔

میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ اگر بجلی چوری، لائن لاسز، بلوں کی ریکوری، شفافیت اور اصلاحات پر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو بجلی مہنگی کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی مگر پالیسی ساز ہمیشہ عوام پر بوجھ بڑھانے کا شارٹ کٹ استعمال کرتے ہیں جو غلط ہے۔انھوں نے کہا کہ گزشتہ تین سال میںاخراجات کم کرنے کے بارے میں بے شمار بیانات دئیے گئے ہیں مگر ان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔2017-18ء میں اخراجات 4.2 کھرب روپے تھے جو سال رواں میں 7.5 کھرب روپے تک پہنچ گئے ہیں جو انتہائی تشویشناک ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملکی زرائع سے حاصل کردہ قرضے ساڑھے سولہ کھرب روپے سے بڑھ کر پچیس کھرب روپے ہو گئے ہیں جن میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

مزید :

بزنس -