باپ میری مزید نمائندگی نہیں کر رہا تھا اور میں مناسب فرد کی تلاش کر رہا تھا

باپ میری مزید نمائندگی نہیں کر رہا تھا اور میں مناسب فرد کی تلاش کر رہا تھا
باپ میری مزید نمائندگی نہیں کر رہا تھا اور میں مناسب فرد کی تلاش کر رہا تھا

  

مترجم:علی عباس

قسط: 70

میں تصویر کو دیکھ کر بے خود ہو سکتا ہوں، یہ آپ کو دُکھ اور گہری وادیوں میں دھکیلتی ہے۔ یہ آپ سے ابلاغ کرتی ہے۔ آپ فنکار کے احساسات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ میں نے ایسا ہی فوٹوگرافی کے بارے میں محسوس کیا ہے۔ ایک تیکھی یا قابل توجہ تصویر کئی کتابوں کے مماثل ابلاغ کر سکتی ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے کہا، میری زندگی میں شو’ ’ موٹون 25“ کے باعث بہت ساری تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ شو کو 47لاکھ لوگوں نے دیکھا تھا اور بظاہر ان میں سے بہت سارے لوگوں نے ”تھرلر‘ ‘ کو خریدا تھا۔ 1983ءکے اختتام تک البم کے 80لاکھ کیسٹ فروخت ہو چکے تھے، یہ تعداد سی بی ایس کی ’ ’آف دی وال“ کے بعد آنے والی البم سے وابستہ توقعات سے زیادہ تھی۔ اُس وقت فرانک ڈیلیو نے کہا کہ وہ ہمیں ایک اور ویڈیو یا کم دورانئے کی فلم بناتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔

ہمارا یہ نقطہ نظر تھا کہ ریلیز ہونے والا اگلا گیت اور ویڈیو’ ’تھرلر“ کی ہوگی، یہ ایک طویل گیت تھا جس میں ایک بہترین ہدایت کار کےلئے پیش کرنے کےلئے بہت کچھ تھا۔ جیسے ہی فیصلہ ہوا، میں جانتا تھا کہ میں کس سے اس کی ہدایت کاری کرانا چاہتا ہوں۔ ایک برس قبل میں نے لندن میں ڈراﺅنی فلم "An American Werewolf" دیکھی تھی اور اُس کے ہدایت کار کے بارے میں آگاہ تھا۔ جان لینڈس ”تھرلر“ کےلئے بہترین تھا کیونکہ ہمارا ویڈیو کے حوالے سے خیال تھا کہ اس میں اُسی طرح کی تبدیلیاں فلمائی جائیں جو فلم کے کردار کے ساتھ وقوع پذیر ہوئی تھیں۔

لہٰذا ہم نے جان لینڈس سے رابطہ کیا اور اُس سے ہدایت کاری کا پوچھا، وہ تیار ہو گیا اور اپنا بجٹ بھجوایا اور ہم نے کام کا آغاز کر دیا۔ اس فلم کی تکنیکی جزیات شاندار تھیں اور جلد ہی مجھے جان برانکا کی طرف سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی، وہ میرا وکیل اور میرے انتہائی قریبی اور گراں قدر مشیروں میں سے ایک ہے۔ جان میرے ساتھ ’ ’آف دی وال“ کے دنوں سے کام کر رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اُس نے ہیٹ بنوانے تک میری مدد کی اور’ ’ تھرلر“ کی ریلیز کے بعد جب مجھے مینجر کی خدمات حاصل نہیں تھیں تو اُس نے کئی سطحوں پر کام کیا۔ وہ اُن انتہائی ذہین اور باصلاحیت لوگوں میں سے ایک ہے جو کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ بہرحال جان جلدی میں تھا کیونکہ اُسے ادراک ہو گیا تھا کہ’ ’تھرلر“ کا اصل بجٹ دگنا ہونے جا رہا ہے۔ میں اپنے طور پر اس منصوبے کے اخراجات ادا کر رہا تھا چنانچہ اگر رقم بجٹ سے متجاوز ہو جاتی تووہ میری جیب سے نکلنی تھی۔

لیکن اُس وقت جان ایک زبردست تجویز کے ساتھ آیا۔ اُس نے مشورہ دیا کہ ہم ایک الگ ویڈیو بنائیں جس کا بجٹ کوئی دوسرا ادا کرے، ”تھرلر“ کی ویڈیو بناتے وقت یہ تصور عجیب دکھائی دیتا تھا کیونکہ اس سے قبل ایسا کسی نے نہیں کیا تھا۔ ہمیں یقین تھا کہ یہ ایک دلچسپ ڈاکومنٹری ہو گی اور اُسی وقت ایسا کرنا بجٹ کے اضافی اخراجات برداشت کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ جان کو اس حوالے سے معاہدہ کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ اُس نے ایم ٹی وی اور شوٹائم کیبل نیٹ ورک کو زر نقد ادا کرنے پر تیار کر لیا اور ویسٹرون نے ویڈیو کو ’ ’تھرلر“ کے نشر ہونے کے بعد ریلیز کیا۔

”تھرلر“ کو بنانے میں کامیابی ہم سب کےلئے چنداں حیرت کا باعث بنی۔ کیسٹ کی صورت میں اس کی تقریباً 10لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں۔ اس سے قطع نظر یہ تمام زمانوں کی سب سے زیادہ فروخت ہونی والی موسیقی کی البم ہے۔

1983ءکے اوآخر میں فلم ”تھرلر“ تیار ہو گئی تھی۔ ہم نے اسے فروری میں ریلیز کیا اور اس نے اپنا ڈیبیو ایم ٹی وی پر کیا۔ ایپک نے’ ’تھرلر“ کو بطور گیت ریلیز کیا تھا اور البم کی فروخت میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق فلم ’ ’تھرلر“ اور گیت کی ریلیز کے باعث 6 ماہ کے عرصہ کے دوران 1 کروڑ 40لاکھ البم اور ویڈیو اضافی فروخت ہوئے تھے۔ 1984ءمیں ایک وقت پر ہم ہر ہفتے 10لاکھ البم فروخت کر رہے تھے۔

میں اس ردِعمل سے تاحال حیرت زدہ ہوں۔ اُس وقت جب ہم نے ایک برس بعد’ ’تھرلر“ کی کمپین ختم کی، البم کی فروخت 3کروڑ 10لاکھ کے عدد کو چھو رہی تھی۔ آج یہ فروخت 4 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ خواب کو تعبیر مل چکی ہے۔

اس عرصے کے دوران میں نے اپنی انتظامیہ کو تبدیل کر دیا تھا،1983ءکے اوائل میں ویسنر اور ڈیمان کے ساتھ میرا معاہدہ ختم ہو گیا تھا۔ میرا باپ میری مزید نمائندگی نہیں کر رہا تھا اور میں بہت سارے لوگوں میں سے مناسب فرد کی تلاش کر رہا تھا۔ ایک روزمیری فرانک ڈیلیو سے ملاقات ہوئی اور میں نے اُس سے پوچھا تھا کہ کیا وہ ایپک کو چھوڑنے اور میرے کیریئر کو منتظم کرنے میں کوئی دلچسپی رکھتا ہے۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -