کرسیوں پر یا فرش پر پڑے نشے میں دھت لوگوں سے اتنی تیز بُو آ رہی تھی کہ پاس کھڑا ہونا بھی دشوار تھا

کرسیوں پر یا فرش پر پڑے نشے میں دھت لوگوں سے اتنی تیز بُو آ رہی تھی کہ پاس کھڑا ...
کرسیوں پر یا فرش پر پڑے نشے میں دھت لوگوں سے اتنی تیز بُو آ رہی تھی کہ پاس کھڑا ہونا بھی دشوار تھا

  

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:9

اس رات کوئی لڑائی نہیں ہوئی کیوں کہ یورگس، پولس والے سے بھی زیادہ چوکنّا تھا۔اگرچہ وہ خود بھی حواس میں نہیں تھا جیسا کہ عام طور پر آدمی اس وقت ہوتا ہے جب سارا بل بھی اس نے خود دینا ہو۔ لیکن وہ نشے میں ہو یا نہ ہو وہ بہت پختہ ارادے کا آدمی تھا اور جلدی غصے میں نہیں آتا تھا۔ ماریا ابھی مدہوشوں سے الجھ ہی رہی تھی کہ اسے ان بدمعاشوں کی بھنک پڑی جنھوں نے سلامی کے پیسے نہیں دیئے تھے، چنانچہ اس نے بناءپیشگی للکارے دو بدمعاشوں کے گریبان اس طرح پکڑ کر مروڑے کہ ان کے کالر اس کے ہاتھ میں آ گئے۔ وہ تو شکر ہے کہ پولس والا ذرا معقول تھا اور اس نے ماریا کو اٹھا کر باہر نہیں پھینک دیا۔

اس ہنگامے میں بھی موسیقی میں ایک دو منٹ سے زیادہ کا وقفہ نہیں آیا۔پچھلے آدھ گھنٹے سے اس دُھن میں رتی بھر فرق نہیں آیا تھا۔ یہ کوئی امریکی گیت تھا جو بہت عام اور مشہور تھا۔ سب کو اس کے الفاظ آتے تھے یا کم از کم پہلا مصرع تو ضرور آتا تھا۔سب اسی کو بار بار گنگنا رہے تھے۔ ” اچھے وقتوں کی گرمیوں میں۔۔۔ اچھے وقتوں کی گرمیوں میں۔۔۔ اچھے وقتوں کی گرمیوں میں۔۔۔ اچھے وقتوں کی گرمیوں میں!“اس میں کوئی جادو کا سا اثر تھا جو سب پر حتیٰ کہ بجانے والوں کو بھی اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا۔ صبح کے 3 بج چکے تھے اور کوئی بھی اسے چھوڑنا نہیں چاہتاتھا۔ناچ ناچ کر ان کا سارا مزہ، ساری طاقت اور نشہ ختم ہو چکا تھالیکن اس کے باوجود ان میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جو رکنے کا سوچ سکتا۔ سوموار کے دن صبح ٹھیک 7 بجے ان سب کو ڈرہم میں یا براؤن میں یا جونز میںاپنے اپنے کام پر پہنچنا تھا۔اگر ان میں سے کوئی 1 منٹ بھی لیٹ ہوتا تو اس کی 1 گھنٹے کی تنخواہ کاٹ لی جاتی۔ اور اگر زیادہ دیر ہوتی تو اسے باہر نکال دیا جاتا اور وہ اس بھوکے ہجوم میں شامل ہو جاتا جو صبح 6 بجے سے 8 بجے تک پیکنگ ہاؤسز کے دروازوں کے باہر کھڑا رہتا تھا۔اس اصول سے کسی کو استثنیٰ حا صل نہیں تھا۔ ننھی اونا کو بھی نہیں جس نے شادی سے اگلے دن کےلئے بغیر تنخواہ کے چھٹی مانگی تھی لیکن اسے انکار کر دیا گیا تھا۔جب اتنے زیادہ لوگ کام مانگنے کےلئے پھرتے ہوں تو ان لوگوں کے نخرے اٹھانے کی کیا ضرورت ہے۔

ننھی اونا اب بے ہوش ہونے والی تھی۔ کمرے میں پھیلی بوجھل بُو سے اس کا سر چکرا رہاتھا۔ اس نے ایک قطرہ بھی شراب نہیں پی تھی لیکن اس کے سوا کمرے میں تمام لوگ شراب یوں پی رہے تھے جیسے چراغ تیل پیتے ہیں۔کرسیوں پر یا فرش پر پڑے نشے میں دھت لوگوں سے اتنی تیز بُو آ رہی تھی کہ ان کے پاس کھڑا ہونا بھی دشوار تھا۔وقتاً فوقتاً یورگس، اوناکی طرف للچائی نظروں سے دیکھتا۔۔۔ وہ اپنی شرم بھول چکا تھا، لیکن ابھی مہمانوں کا ہجوم موجود تھا۔ وہ بار بار دروازے کی طرف دیکھتا جہاں ایک گاڑی کے آنے کی توقع تھی جو نہیں آئی۔ بالآخر وہ انتظار ختم کر کے اور اونا کی طرف بڑھا۔ اونا کا رنگ فق تھا اور وہ کانپ رہی تھی۔یورگس نے اپنی چادر اونا کے گرد لپیٹی اور پھر اپنا کوٹ بھی اسے اوڑھا دیا۔وہ محض 2بلاک دور تو رہتے تھے اور یورگس کو گاڑی کی کوئی خاص پروا بھی نہیں تھی۔

کسی نے الوداع وغیرہ کہنے کا تکلف نہیں کیا۔۔۔ ناچنے والوں کو ان کا دھیان ہی نہیں آیا، سب بچے اور بہت سے بزرگ تھکاوٹ سے بے سدھ ہو کر سوئے پڑے تھے۔ دادا آنٹاناس بھی سویا پڑاتھا۔ شوِیلاس میاں بیوی بھی نیند میں غافل تھے۔ آنٹ الزبیٹا اور ماریا اونچی آواز میں سسکیاں لے رہی تھیں، رات کا سنا ٹا تھا اور مشرق سے ابھرتی روشنی میں ستارے مدھم پڑنے لگے تھے۔ یورگس نے بناءکچھ کہے اونا کو بانہوں میں اٹھا یا اور چلنے لگا۔ اونا نے ایک کراہ کے ساتھ اپنا سر اس کے کندھے پر ٹیک دیا۔ گھر پہنچے تو یورگس کو اندازہ نہیں ہوا کہ وہ بے ہوش ہوچکی تھی یا سو رہی تھی لیکن جب ایک ہاتھ سے اسے سنبھال کر یورگس نے دروازہ کھولنا چاہا تو اس نے دیکھا کہ اونا نے آ نکھیں کھولی ہیں۔

”آج تم براؤن مت جانا ننھی لڑکی۔“ اس نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سرگوشی میں کہا اور اونا نے گھبرا کر اس کے بازو کو مضبوطی سے پکڑ لیا : ” نہیں ! نہیں! میں ایسا نہیں کر سکتی ! ہم برباد ہو جائیں گے !“

یورگس نے اسے پھر جواب دیا :” یہ سب تم مجھ پر چھوڑ دو۔ میں اور پیسے کمالوں گا۔۔۔ میں زیادہ محنت کر لوں گا۔“ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -