یونانیوں نے جیومیٹری اور طب کا علم مصر کے لوگوں سے سیکھا

یونانیوں نے جیومیٹری اور طب کا علم مصر کے لوگوں سے سیکھا
یونانیوں نے جیومیٹری اور طب کا علم مصر کے لوگوں سے سیکھا

  

تحریر: ملک اشفاق

 قسط(7)

 بقراط اور حکیم جالینوس نے دراصل مصری اطباءکے طبی اصولوں کو آگے بڑھایا تھا۔ مصری تہذیب میں طب اور جادو کا بہت گہرا تعلق تھا۔ مصری حفظان صحت کا خاص خیال رکھتے تھے۔خود یونانی تاریخ دانوں کی روایت کے مطابق یونانیوں نے چودھویں صدی قبل مسیح میں حروف تہجی بابلیوں سے سیکھے تھے۔ یونانی فلسفہ، سائنس اور دیگر فنون انہوں نے ان ایشیائی لوگوں سے سیکھے تھے جو ڈورین قبائل کے حملوں کی شدت سے بچ کر بحرہ روم کے ساحلوں پر آباد ہوگئے تھے دراصل یونانیوں نے مصریوں، بابلیوں اور کنعانیوں سے بھی تمام علوم سیکھے تھے۔

 یونانیوں نے جیومیٹری اور طب مصر کے لوگوں سے حاصل کیا اور علوم ہیت اور فلسفہ بابلیوں سے سیکھا یونانی فلسفے کا بانی طالیس640 قبل مسیح میں ملیٹس میں پیدا ہوا۔ اس نے سائنس، ہیت اور ریاضی کے اصولوں کو دریافت کیا۔ اس کے بعد اقلیدس نے جیومیٹری میں طالیس کے دریافت شدہ اصولوں سے استفادہ کیا۔

 طالیس نے سائنس اور فلسفے کو باہم مربوط کرنے کا آغاز بھی کیا۔ طالیس عہد عیتق کا پہلا سائنس دان تھا جس نے سورج گرہن کی پیش گوئی کی جو صحیح ثابت ہوئی۔ اس نے علم ہیت بابلی ہیت دانوں سے سیکھا تھا۔ طالیس نے نظریہ پیش کیا تھا کہ کائنات دیوتاﺅں نے تخلیق نہیں کی بلکہ کائنات پانی سے بنی ہے۔ طالیس پہلا شخص تھا جس نے یہ انقلابی نظریہ پیش کیا۔ طالیس کے بعد اس کے شاگرد اناکسی مینڈر نے اس نظریہ کی عملی تشریح کی اس طرح سائنس اور فلسفے کی عملی شکل ظاہر ہونا شروع ہوئی۔ اس سلسلے میں طالیس، اناکسی مینڈر، زینوفینس، پروناگورس،بقراط اور ڈیماکریٹس نے اسی عملی شکل کو مزید نکھارا۔ دوسرے دور میں فیثاغورث، پارمی نائیڈیس، ہیریقلیٹس اور افلاطون نے اس میں نمایاں کام کیا۔

ہیریقلیٹس کا کہنا تھا کہ کائناٹ پانی سے نہیں بلکہ آگ کے جوہر سے وجود میں آئی۔ اس نے جدلیات (Dilitis) کا نظریہ پیش کیا تھا۔ جدید دور میں ہیگل اور مارکس نے اس کے جدلیاتی فلسفے کی تجدید کی۔ ڈیماکریٹس نے ایٹم کا نظریہ پیش کیا کہ کائنات ناقابل تقسیم ذرات سے مل کر بنی ہے اس کا کہنا تھا کہ یہ ناقابل تقسیم ذرات ہر وقت حرکت میں رہتے ہیں۔

 اس کا کہنا تھا کہ ہر مسبب کا ایک سبب ضرور ہوتا ہے۔ وہ مادیت پسندوں کا امام کہلایا۔ ایمپی ڈاکلز(Empi Docles) نے ارتقاءکا نظریہ پیش کیا اور عناصر اربعہ ہوا، پانی، مٹی اور آگ کو کائنات کی تخلیق کے عناصر بتایا۔اناکسا غورس نے کہا کہ چاند ٹھوس ہے، اس پر پہاڑ ہیں اور چاند سورج سے روشنی حاصل کرتا ہے۔ اس طرح دیوتاﺅں کے وجود سے انکار کیا گیا اور کائنات اور انسانی جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کو سائنسی حوالے سے ثابت کیا گیا۔

 بقراط بھی کیونکہ اسی سلسلے کا سائنس دان اور طبیب تھا اس لیے اس نے طب کو جادو، سحر، ٹیبو اور رسوم سے علیٰحدہ کرکے خالص علمی بنیادوں پر اس کے اصول و ضوابط مرتب کئے اور طبی ضابطہ اخلاق وضع کیا۔( جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -