حاکم داوا کی فوج نے پنجاب میں تباہی کی انتہا کر دی ، ڈھور ڈنگر، کتا بلا جو ہاتھ لگا اس کے کباب بنا کر کھا گئے

حاکم داوا کی فوج نے پنجاب میں تباہی کی انتہا کر دی ، ڈھور ڈنگر، کتا بلا جو ...
حاکم داوا کی فوج نے پنجاب میں تباہی کی انتہا کر دی ، ڈھور ڈنگر، کتا بلا جو ہاتھ لگا اس کے کباب بنا کر کھا گئے

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:37 

1286ءمیں تمر خان منگول نے پھر لشکر لے کر پنجاب پر چڑھائی کی۔ اس حملے میں اس نے ملتان اور لاہور کے درمیان واقع تمام علاقہ لوٹ مار کر کے تباہ برباد کر دیا۔ پھر اس نے دریائے بیاس کا راستہ لیا، دہلی کی طرف بڑھا لیکن دریا کے کنارے دہلی سے آنے والی فوج کے ہاتھوں اسے شکست ہوئی۔ دہلی پر اس وقت علاﺅالدین خلجی کی حکومت تھی۔ اور اس کا جرنیل ملک ہز برالدین ظفر خان جنگ و جدل کا ماہر لڑاکا جرنیل مشہور تھا۔ وہ منگول افواج کو شکست دینے کے بعد انہیں مارتا اور قتل کرتا جہلم کے کنارے تک دھکیلتا لے گیا۔ منگولوں پر اس کی اتنی دھاک بیٹھی کہ اس کے نام سے کہاوتیں بنیں کہا جاتا ہے کہ جب منگولوں کے گھوڑے پانی پینے سے منہ موڑ لیتے تو منگول کہتے ”تم نے ظفر خان تو نہیں دیکھ لیا“ ۔

1296ءمیں منگولوں نے پنجاب پر ایک بڑا حملہ کیا۔ ماوراءالنہر اور خراسان کے منگول حاکم داوا نے ایک مشہور منگول جرنیل کی کمان میں پنجاب لوٹنے کےلئے 1 لاکھ گھڑ سوار روانہ کیے۔ آج تک منگولوں کے اتنے بڑے لشکر نے پنجاب پر چڑھائی نہیں کی تھی۔ تھوڑے منگول ہی کم نہیں ہوتے تھے اتنی بڑی فوج نے تباہی کی انتہا کر دی۔ دریائے سندھ عبور کرنے کے بعد انہیں جو آدمی نظر آیا اسے تہ تیغ کر دیا ڈھور ڈنگر، کتا بلا جو ہاتھ لگا اس کے کباب بنا کر کھا گئے۔ ان کے گھوڑوں نے نہ گھاس چھوڑی اور نہ فصلیں یہاں تک کہ درختوں پر سبز پتے تک بھی با قی نہ رہے۔یہ ان کے اونٹوں نے چٹ کر لیے۔ قصور کے مضافات میں کھوکھروں کے گاﺅں آباد تھے۔ منگولوں نے ان کی تکہ بوٹی کرنے کے بعد اس طریقے سے دیہات کو آگ لگائی کہ رہے نام اللہ کا۔ آسمان کو چھوتے ہوئے آگ کے شعلوں سے قصور شہر میں رات کے وقت یوں لگتا تھا جیسے دن چڑھ آیا ہوں۔ آگ کی تپش سے مکانات کی دیواریں تڑخ گئیں کچھ مکان گر کر مٹی کا ڈھیر بن گئے۔ جب وہ تمام انسانیت سوز کام انجام تک پہنچا چکے تو ان کی فوجوں نے دہلی کا رخ کیا۔ ظفر خان اور الغ خان نے انہیں شکست دے کر 20 ہزار منگولوں کو غلام بنا لیا باقی ماندہ خراسان کی طرف بھاگ گئے لیکن جب تک وہ پنجاب کو برباد کر چکے تھے۔ 

1299ءمیں منگولوں نے پنجاب پر پانچواں بڑا حملہ کیا۔ اس بار وہ آندھی کی طرح نہیں بلکہ سمندر کی طرح آئے، 2 لاکھ منگول گھڑ سوار داوا کے بیٹے قتلخ خواجہ کی کمان میں اس زور شور سے پنجاب میں داخل ہوئے کہ کوئی بھی رکاوٹ اس سیلاب کے سامنے کارگر ثابت نہ ہوئی۔ اس مرتبہ انہوں نے لاہور کی بجائے ملتان کا راستہ اختیار کیا۔ ملتان شہر اس سیلاب میں غرق ہو گیا۔ یہاں سے فارغ ہو کر یہ سیلاب پھنکارتا ہوا سامانہ کے قصبے تک جا پہنچا جو آج کل مشرق پنجاب میں ہے۔ یہاں سے انہوں نے دہلی کی طرف گھوڑے دوڑا دیئے۔ دہلی پر علاﺅ الدین خلجی بیٹھا حکمران تھا۔وہ خود فوج کی کمان کرتے ہوئے آگے بڑھا۔ طرفین کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی۔ ظفر خان مارا گیا، لیکن منگول بھی پسپا ہو کر خراسان کی طرف بھاگ گئے۔ 

1303ءمیں ترغی نامی ایک نیا منگول سردار نمودار ہوا۔ وہ لوٹ مار کے ارادے سے 1 لاکھ 20ہزار سواروں کے ساتھ پنجاب پر حملہ آور ہوا۔ یہ دھاوا بھی بہت طاقت سے کیا گیا تھا۔ ترغی پنجاب کے دیہات اور قصبے لوٹتا اور برباد کرتا ہوا دہلی تک پہنچ گیا۔ اسے یہاں شکست ہوئی ان مسلسل حملوں نے علاﺅ الدین خلجی کی آنکھیں کھول دیں اور اس نے ایک نئی طویل المیعاد دفاعی پالیسی تشکیل دی اور پرانے قلعوں کی مرمت کا آغاز کیا نیز کچھ نئے قلعے تعمیر کروائے اور ان میں فوج متعین کی۔ اس کا فائدہ پنجاب کو زیادہ نہ ہوا۔ البتہ دہلی کی حکومت منگولوں کی دست برد سے محفوظ ہو گئی کیونکہ اس پالیسی پر عملدرآمد کے بعد منگول حملہ آور دہلی تک تو نہیں پہنچ پاتے تھے بس پنجاب میں لوٹ مار کر کے واپس چلے جاتے تھے۔ 

1305ءمیں منگول سردارترتاق اورترغی نے متحد ہو کر 50 ہزار فوج کے ساتھ پنجاب پر حملہ کیا وہ پنجاب میں جہاں سے گزرے لوٹ مار اور قتل و غارت کرتے گئے۔ دہلی پہنچنے سے پہلے ہی انہیں علاﺅ الدین کے ہاتھوں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ علاﺅ الدین خلجی منگولوں کی پڑوسی ترک قوم کا فرد تھا۔ اس نے بھی منگولوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جو وہ دوسروں کے ساتھ کرتے تھے۔ لوہے نے لوہے کی کاٹ کی یعنی اس نے بھی منگولوں کو شکست دینے کے بعد ا ن کے سروں کے مینار بنا دئیے،9 ہزار گرفتار منگولوں کو غلام بنا کر عورتوں اور بچوں سمیت شہر کی سڑکوں پر پھرایا اور پھر نیلام کر دیا۔ 

1306ءمیں داوا کے پوتے کبک منگول نے پنجاب پر لشکر کشی کی۔ وہ دریائے سندھ عبور کر کے دیہات کو جلاتا اور لوگوں کا خون بہاتا دریائے راوی تک پہنچ گیا۔ اسے تغلق اور ملک کافور نے شکست دے کر غلام بنایا اور دہلی لے گئے۔ 

اسی طرح منگول سرداروں ایلک خان اور یخلمند نے باری باری پنجاب پر حملے کیے۔ ایلک خان نے ملتان فتح کرنے کے بعد اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ آخرکار وہ شاہی فوجوں کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد گرفتار کر لیا گیا اور پھر دہلی لے جا کر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اس کی فوج کے3ہزار منگول غلام بنا کر دہلی میں فروخت کر دئیے گئے۔ یخلمند کو تغلق نے خود شکست دی اور شاہی فوج نے کابل، غزنی اور قندھار تک منگولوں کا تعاقب کر کے انہیں بھگا دیا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -