امبالہ ارائیں اتحاد کامشن بھارت سے ہجرت کرکے آنیوالی برادری کو یکجا کرنا ہے: میاں منیر 

امبالہ ارائیں اتحاد کامشن بھارت سے ہجرت کرکے آنیوالی برادری کو یکجا کرنا ...

  

لاہور(رپورٹ:جاوید اقبال،حسن عباس زیدی،تصاویر:ندیم احمد)امبالہ ارائیں اتحاد پاکستان کے قیام کا بنیادی مقصد بھارت سے ہجرت کرکے آنیوالی برادری کو اکٹھا کرنا ہے جس کیساتھ ساتھ دکھی انسانیت کی خدمت اور برادری کے بچوں کیلئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا اس کیلئے امبالہ ارائیں برادری کا اجتماع 11 ستمبر کو ارائیں میلہ کے نام سے ہوگا ابھی تک تنظیم 50فیصد مقاصد حاصل کرچکی ہے۔ امبالہ بھارتی پنجاب کا ایک ڈویژن تھا جس کی پانچ تحصیلیں تھیں تقسیم ہند کے وقت ہمارے آباؤ اجداد مختلف تحصیلوں سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تو اس وقت کہا گیا تھا امبالہ سے آنیوالوں کو سرگودھا میں آباد کیا جائیگا اسی طرح جالندھر والوں کو فیصل آباد میں آباد کیا جائیگا مگر ایسا نہیں ہوا اور ایک سو چی سمجھی سازش کے تحت ہمیں اس ملک میں بکھیر کر رکھ دیا گیا کیونکہ اسوقت کے حکمرانوں کا سوچنا یہ تھا اگر یہ ایک جگہ اکٹھا ہوگئے تو ان کے ہی ایم پی اے اور ایم این ایز بنیں گے۔ ”پا کستا ن فورم“میں ان خیالات کا اظہار تنظیم کے عہدیداروں نے گفتگو کے دوران کیا۔تنظیم کے صدر میا ں محمد منیر نے کہا ہم لوگوں نے لاہور اور دیگر شہروں میں اپنی برادری کو اکٹھا کیا علا ج معالجے سے لیکر قانونی مسائل،تعلیم وغیرہ کیلئے برادری کے لوگوں کی مدد کیلئے جو ممکن تھا وہ کیا۔ہم لوگوں نے ایجوکیشن فنڈ قائم کیا ہوا ہے اس میں جو چندہ اکٹھا ہوتا ہے وہ صرف تعلیم کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ 11ستمبر کو ہونیوالے فیملی میلے میں برادری کے ہزاروں لوگ شرکت کریں گے۔ہمیں جس بھی کام کیلئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے تمام ممبرا ن فوری طور پر اپنا اپنا حصہ دیتے ہیں۔نائب صدر چوہدری محمد اسلم نے کہا امبالہ بھارت کے ایک ڈویژن کا نام ہے جس کی پانچ تحصیلیں تھیں لیکن اب تو اس کے ٹکڑے کردیئے گئے ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت ہمیں یہ کہا گیا تھا ہماری برادری کو ایک جگہ آباد کیا جائیگا مگر ایسانہ ہوا ہجرت کے بعد ہم لوگ مختلف شہروں لاہور،راولپنڈی،بہاولپور وغیر ہ میں آباد ہو گئے یہ سب اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب دولتانہ صاحب کی مہربانی کی وجہ سے ہوا، انہوں نے مزید کہا جب ہم بکھر گئے تو ہمارے اکابرین چوہدری نذیر وغیرہ نے سب کو اکٹھا کر نے کا کام کیا تاکہ ایک دوسرے سے شناسائی ممکن ہوسکے،جو جہاں آباد ہوگیا اسے وہیں رہنے دو کیونکہ زمینیں وغیرہ الاٹ ہوچکی تھیں اب زمینی طور پر یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم ایک جگہ رہ سکیں۔ہماری برادری کے لوگوں نے زندگی کے تمام شعبوں میں خوب ترقی کی ہے، ڈاکٹر انجینئر سے لیکر بڑے بڑے حکومتی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔حافظ محمد سرور چیئرمین رشتہ کمیٹی نے کہا ہمارے آباؤ اجداد نے قیام پاکستان کیلئے جان و مال عزت و آبرو کی قربانی دی، ہماری برادری کی کوشش ہوتی ہے ہم آپس میں ہی رشتے کریں،اس سے ہم مضبوط ہو تے ہیں ا و ر ہمارا دل بھی خوش ہوتا ہے، ہماری تنظیم اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ڈاکٹر جنید یونس نے کہا شاید میری باتیں پسند نہ کی جائیں یہ تنظیم اپنے بنیادی مقاصد کے حصول میں ناکام ہے محض رشتے کرانا اور گیٹ ٹو گیدر کوئی کام نہیں،اس تنظیم کو کامیاب بنانے کیلئے اس کا ایک مستقل آفس قائم کیا جانا چاہیے تاکہ ایک دوسرے کے مسا ئل سے آگاہ ہونے میں مدد ملے۔تنظیم کے سینئر ممبر حاجی ارشد محمود نے کہا امبالہ ارائیں اتحاد پاکستان قیام پاکستان کے بعد برادری کے جو لوگ ہجرت کے بعد یہاں آئے اور وہ بکھر اور بچھڑ گئے ان کو اس تنظیم نے اکٹھا کیااور مزید کو کیا جائیگا،امبالہ کے لوگ شریف النفس ہیں،ارائیوں کے بارے میں تمام مثالیں غلط ہیں،یہ محبت کرنیوالے ہیں،میں ساری برادری کو دعوت دیتا ہوں وہ 11ستمبر کو ہونیوالے میلے میں شرکت کرے۔سینئر نائب صدر ارشاد احمد سلیمی نے کہا میں اس فورم میں شرکت کیلئے خصوصی طور پر علی پور چٹھہ سے آیا ہو ں،رو ز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب االرحمن شامی کا شکر گذرا ہوں کہ انہوں نے ہمیں اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع دیا۔جنرل سیکرٹری پروفیسرچوہدری محمد ایوب نے کہا ہم اپنی زبا ن کو بھی فروغ دینے سمیت اپنی آنیوالی نسلوں تک اپنا پیغام پہنچائیں گے۔ہمارا آفس سبزہ زار میں ہے جو 24گھنٹے نہ سہی 20گھنٹے تو کم از کم کھلا رہتا ہے۔محمد اسلم نے کہا تنظیم کے قیام کو چھ سال کا عرصہ گذر گیا ہے، اس دوران ہم ایک دوسرے سے تعلق کو مضبوط بنانے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں،فورم میں مسعود ا ختر سمیت دیگر شرکاء نے بھی ملے جلے خیالات اور جذبات کا اظہار کیا۔

امبالہ ارائیں 

مزید :

صفحہ آخر -