سیلاب کی تباہ کاریاں اور ہم 

 سیلاب کی تباہ کاریاں اور ہم 
 سیلاب کی تباہ کاریاں اور ہم 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پاکستان کئی سالوں سے ایک طرف دہشت گردی، سیاسی افراتفری اور فرقہ واریت کی کی جنگ کا نشانہ بنتا رہا ہے اور دوسری طرف مسلسل خشک سالی، زلزلوں، ٹڈی دل کے حملوں جیسی قدرتی آفات کا شکار ہوتا رہا ہے۔ اب مون سون بارشوں نے پاکستان کی حالت کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے اس تباہی کا آغاز بلوچستان میں معمول سے بڑھ کر بارشوں کا ہوا ہے۔ 
اگرچہ محکمہ موسمیات بہت پہلے سے وارننگ دے رہا تھا کہ اس سال پورے ملک میں اورخصوصی طور پر بلوچستان اور سندھ میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی لیکن ہمارے سیاستدان اور سرکاری افسر ملک کو سیاسی بحران سے بچانے اور اپنے اقتدار کو دوام دینے میں لگے ہوئے تھے اس لئے اشرافیہ کو اس بات کی پروا نہیں تھی کہ عوام کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور اس بات کے قائل تھے کہ جب ہو گا دیکھا جائے گا۔ 
حکومت کھونے والے اپنے احتجاج میں مگن تھے جبکہ حکومت اپنی کرسی کو پکا کرنے کے لئے ہر حد تک جانے کے لئے تیار تھی۔ ایک طرف احتجاج تو دوسری طرف جوڑ توڑ اور مقدمات کی بھرمار تھی ملک کساد بازاری کا شکارہوچکا تھا اورلوگوں کو اپنی معمول کی زندگی گزارنی مشکل ہورہی تھی لیکن اس بات کی پروا کسے تھی۔ کرسی کا مزہ ایسا ہوتا ہے کہ کچھ اور نظرہی نہیں آتا۔ بلوچستان میں چارہفتوں سے تباہی پھیلی ہوئی تھی لوگ گھروں سے بے گھر ہو رہے تھے ان کی فصلیں تباہ ہو رہیں تھیں، ان کے مویشی سیلاب میں بہہ گئے تھے لیکن نہ ہمارے حکمرانوں کے کانوں پر جوں رینگی اور نہ ہی اپوزیشن اور ملک کے حالات کا اصل ادراک رکھنے والی قوتوں نے کوئی اثر لیا بلکہ ہر کوئی میڈیا میں اپنی پروجیکشن پرتوجہ دے رہا تھا افسوس ہمارامیڈیا بھی اپوزیشن اورحکومت کی لڑائی طرف ہی متوجہ رہا اور انہوں نے اس طرف اس وقت ہی توجہ دی جب پانی تقریباً  سر سے گزر چکا تھااورملک کا آدھا حصہ تالاب اوردریا کا منظر پیش کر ہا تھا۔


حکومت کا کام سب کے ساتھ ایک ہی طرح کا سلوک کرنا ہوتا ہے لیکن ہمارے یہاں ترجیح پہلے اپنے مفاد کو ہی دی جاتی ہے اورپھر اس طرف جس سے ان کی حکومت کی شہرت کو فائدہ پہنچے، چاہے اس کے لئے ملک کو کتنا نقصان پہنچے ان کی بلا سے، جبکہ مذہبی جماعتیں اپنے مکتبہ فکرکی ترویج میں لگی ہوئی ہیں جس میں اپنے مخالف نظریات کے حامل لوگوں کے بارے میں منفی پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے اب تو یہ حال ہے کہ ایک ہی فرقہ کے ماننے والے اپنے سیاسی اختلاف کی بنا پر کفر کے فتوے دے کردوسروں کے نکاح ٹوٹنے کی باتیں کر رہے ہیں یہ ایسے پریشر گروپ ہیں جن کے سامنے حکومتیں بے بس نظر آتی ہیں اور انصاف دینے والے مظلوم کی دادرسی نہیں کر پاتے کیونکہ یا تو ان پر اتنا پریشر ہوتا کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلہ کرنے سے ہچکچاتے ہیں یاتحقیقی ادارے ان تک صحیح صورت حال ہی نہیں رکھتے۔ 
جب بھی کہیں کوئی آفت آتی ہے تو  وہ کسی کا مذھب، فرقہ، رنگ اور نسل پوچھتی اور نہ ہی سیاسی وابستگی پوچھتی ہے بلکہ وہ سب کے ساتھ ایک سا سلوک کرتی ہے کیا اس سیلاب نے کہیں کوئی تمیز کی ہے کہ وہ کون ہے جو بھی اس کے راستہ میں آیا اس کے ساتھ اس نے برابر کا سلوک کیا۔ یہ اور بات ہے کہ معجزے ہوتے رہتے ہیں پھر یہاں انسانیت سے مبرا باتیں کیوں کی جاتی ہیں۔ 


اس وقت ملک میں آفت زدہ لوگوں کی پہلی ترجیح خوراک اور رہائش پھر مالی نقصان کو پورا کرکے ان کو کاروبار ذندگی میں مدد دینا ہے۔ یہ کوئی ایک دن کا کام نہیں اس کے لئے بہت لمبا عرصہ اور پلاننگ درکار ہے کام صرف فوٹو سیشن کروا کر اورخوراک تقسیم کرنے سے ختم نہیں ہوجاتابلکہ اس کے لئے ایک لمبی پلاننگ، فنڈ کا ہونا اور اس پرعمل درکار ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت ساری تنظیمیں اس وقت لوگوں کی مدد کے لئے میدان عمل میں ہیں اور بے لوث خدمت کر رہی ہیں لیکن یہاں کچھ ایسے بھی عناصر ہیں جو دوسری تنظیموں کے کام میں روڑے اٹکا رہے ہیں کہ ان کا امیج لوگوں میں ان کے مقابلے بھی بہتر نہ ہو جائے۔ یا اپنے اثر ان لوگوں میں قائم کرنے کے دوسروں کو وہاں آنے کی اجازت نہیں دینا چاہتے کیا ان کا عمل خدمت خلق ہے یا خود غرضی ہے۔ بھوکے،پیاسے اور بے گھر کو خوراک اور سرچھپانے کا سامان چاہئے۔ یہ وقت ہے کہ حکومت سب تنظیموں کو ضرورت مندوں کی مدد کرنے تحفظ مہیا کرے۔


یہاں یہ بھی علم میں آیا ہے کہ مختلف لوگ سیلاب ذدگان کی امداد کے لئے بیرون ممالک سے رقوم اکٹھی کر رہے ہیں لیکن بعد میں رابطہ کرنے پر وہ لوگ غائب ہیں۔ یہ شکایت بہت عام ہے حکومت پرپہلے ہی بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد اٹھ چکا کیونکہ اکثریت کے بقول یہ رقم حکومتی لوگوں کے اللے تللے پر ہی لگے گی۔ اس کی واضح مثال سپیکر قومی اسمبلی کی 25بندوں کو لے کر کینیڈا تشریف لے جاناہے جہاں ان کے وفد کے نو ممبران نے تو اس اجلاس میں شرکت ہی نہیں کی اور سیر سپاٹے کیے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کا وفد ان کے تیسرے حصہ کے برابر تھا وہ یا توایمبیسی میں رہائش پذیر رہے یا عام ہوٹلوں میں۔ ان کا سفر بھی عام ٹیکسیوں میں تھا جبکہ ہمارے وفد کے لئے لیموزین کاریں مخصوص تھیں۔ 


اس وقت ملک کو مالی امداد کی ضرورت ہے اور وزیراعظم فنڈ بھی قائم کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم صاحب صوبوں کو امداد کا اعلان کر رہے ہیں اور حکومتی جماعت کے لوگ اورمیڈیا اس کو بہت اہمیت دے رہا ہے۔ لیکن وزیراعظم فنڈ کے لئے لوگوں میں مثال کیسے اور کس نے قائم کرنی ہے۔ اس وقت وزیر اعظم کا خاندان پاکستان کے امیرترین خاندانوں میں ایک ہے۔ ان کو اپنے فیملی کے تمام ممبران کی طرف سے ہر کا نام لے کر ایک خطیر رقم فنڈ میں جمع کروانی چاہیے اس کو خفیہ نہ رکھا جائے اسی طرح وزرا کی اکثریت مالی طور پر آسودہ ہے ایک مہینے کی تنخواہ کی کوئی حیثیت نہیں۔ الیکشن میں وہ کروڑوں روپے لگاتے ہیں سمجھیں ایک ضمنی الیکشن اور ہورہا ہے۔ اس طرح کا اعلان آصف علی ذرداری، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے کا ساتھیوں  سے بھی چاہیے ان سے اعلان کروائیں اور ان کی بنک ڈیپازٹ سلپ میڈیا پر دکھائیں تا کہ لوگوں کو یقین ہو کہ لیڈرزخود بھی جیب سے پیسے لگاتے ہیں اور صرف ٹیکس کے پیسے بانٹ کر مشہوری نہیں کرتے۔
عمران خان بھی چندہ اکٹھا کرنے جا رہے ہین لیکن اس کے لئے ان کو پہلے اپنے گھر اور ساتھیوں سے آغاز کرنا ہو گا پھر لوگوں کا اعتماد بڑھے گا۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو اس مشکل وقت میں احسن طریقے سے نکلنے کی توفیق دے اور حکومت وقت کو تمام شہریوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرنے کی توفیق دے۔

مزید :

رائے -کالم -