حضرت داتا گنج بخشؒ کے فرمودات (4) 

حضرت داتا گنج بخشؒ کے فرمودات (4) 
حضرت داتا گنج بخشؒ کے فرمودات (4) 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 حضرت گنج بخشؒ ایرانی نوجوان کو دوسری کہانی سناتے ہیں جس کا پہلا شعر یہ ہے:
از حقیقت باز بکشایم درے
باتو می گویم حدیثِ دیگرے
(اے عزیز، میں حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہوں اور اب تمہیں دوسری کہانی سناتا ہوں)
یہ کہانی ایک ہیرے اور ایک کوئلے کے مابین مکالمہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جس کان سے کوئلہ نکالا جاتا ہے، اسی سے ہیرے بھی نکلتے ہیں۔ اس کان کی تین تہیں (Layers) ہوتی ہیں۔ سب سے اوپر والی تہہ میں وہ کوئلہ ملتا ہے جو کبابوں کی بھٹی میں جلایا جاتا ہے۔ وزن میں نہایت ہلکا اور بُھرا بھرا ہوتا ہے۔ ذرا سی ٹھوکر لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔ اس سے نیچے والی تہہ میں وہ کوئلہ ملتا ہے جسے پتھر کا کوئلہ کہا جاتا ہے۔ یہ کافی وزنی ہوتا ہے، بہت سخت بھی ہوتا ہے اور مشکل سے ٹوٹتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب سوئی گیس دریافت نہیں ہوئی تھی تو آرمی کے میسوں (Messes) میں پتھر کا یہی کوئلہ جلایا جاتا تھا اور یہی کوئلہ ریلوے انجنوں میں بھی جلایا جاتا تھا۔ اسے سٹیم انجن کہا جاتا تھا۔ 1960ء کے عشرے تک یہی انجن ریلوے میں استعمال ہوتے تھے۔ یہ کوئلہ آج بھی مختلف کارخانوں میں جلایا جاتا ہے۔ چونکہ بجلی اور گیس سے سستا ہوتا ہے اس لئے کئی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کے کارخانوں میں یہی پتھر کا کوئلہ جلاتے ہیں۔


پتھر کے کوئلے کی اس کان میں زیادہ گہرائی میں ہیرا پایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں گولکنڈا اور جنوبی افریقہ کی گہری کانوں سے آج بھی ہیرے نکالے جاتے ہیں۔ چونکہ کوئلہ اور ہیرا ایک ہی کان میں پائے جاتے ہیں اس لئے حضرتِ گنج بخش نے اس کہانی میں کوئلے کی نرماہٹ اور ہیرے کی سختی سے یہ مضمون پیدا کیا ہے کہ کوئلہ چونکہ نرم ہوتا ہے اس لئے ارزاں ہوتا ہے اور ہیرا چونکہ سخت ہوتا ہے اس لئے قیمتی ہوتا ہے۔اس دوسری کہانی کا اگلا حصہ یوں شرع ہوتا ہے:
”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی کان میں ہیرا اور کوئلہ اکٹھے ہو گئے۔ کوئلے نے ہیرے سے کہا: ’ہم نجانے کتنی صدیوں سے اسی کان میں اکٹھے رہ رہے ہیں جہاں تک ہمارے وجود کی بناوٹ کا تعلق ہے تو ہم دونوں کی اصل ایک ہی ہے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ میں اس کان میں پڑا پڑا سڑ رہا ہوں اور تو ہے کہ شہنشاہوں کے تاج کی زینت بنتا ہے۔ میری قدر و قیمت تو مٹی کی ایک مٹھی سے بھی کم ہے۔ میری رنگت کالی سیاہ ہے۔ یہ میری بدنصیبی ہے کہ میری ساخت خاکستر (یعنی کان کی اوپر کی تہہ) سے ہوئی ہے۔ مجھے ہر کوئی پاؤں سے ٹھوکر مارتا ہے اور میری سیاہ بختی کا عالم یہ ہے کہ لوگ میرے سر پر انگارے ڈال کر مجھے بھسم کر ڈالتے اور راکھ بنا دیتے ہیں۔ میرے وجود سے دھوئیں کے سیاہ مرغولے بھی بلند ہوتے ہیں اور ان میں شرارے نکل نکل کر فریاد و فغاں بھی کرتے ہیں لیکن یہ سب کچھ بے کار اور بے فائدہ رہتا ہے۔ دوسری طرف تمہارے کیا کہنے! …… تمہارے نصیب تو ستاروں کی طرح اوج پر ہیں۔ تمہارے ایک ایک پہلو سے روشنی کی کئی کرنیں پھوٹتی ہیں۔ تمہاری سختی اور قوت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آئینوں کے دل تجھ سے ہی چاک کئے جاتے ہیں۔ تو کبھی شاہانِ عالم کا نورِ نظر بنتا ہے اور کبھی تجھے تلوار و خنجر کے دستوں پر خوشنمائی اور زیبائی کے لئے سجایا جاتا ہے۔ مجھے بتا کہ جب ہم ایک ہی کان کے باسی ہیں تو پھر یہ اتنا بڑا فرق کس سبب سے ہے؟‘
گاہ نورِ دیدۂ قیصر شوی
گاہ زیبِ دستہ و خنجر شوی


”ہیرا کوئلے کی یہ باتیں سنتا رہا۔ پھر بولا کہ: ’اے دوست، تم نے جو کچھ کہا سچ کہا۔ لیکن میں بھی جو کجھ کہوں گا اسے غور سے سن۔ بات یہ ہے کہ ہم دونوں کی اصل اگرچہ ایک ہے لیکن خاکِ سیاہ اگر پختہ ہو جائے تو نگینہ بن جاتی ہے‘۔
گفت الماس اے رفیقِ نکتہ بیں!
تیرہ خاک از پختگی گردد نگیں 
”ہیرے کی اصل اپنے آپ سے برسرِ جنگ رہتی ہے۔ یہی مسلسل اور متواتر حالتِ جنگ اس خاک کو پتھر سے بھی سخت بنا دیتی ہے اور پھر یہی سختی شیشوں کے جگر چاک کر دیتی ہے۔ میرا وجود اسی پختگی کی بدولت نور علی نور بن جاتا ہے۔ تم اپنے وجود کو دیکھو۔ کتنا کھوکھلا اور کم سخت ہے، فوراً ٹوٹ جاتا ہے۔ لوگ اسی لئے تمہیں جلاتے ہیں کہ تم جل جاتے ہو۔ جنگ و جدل اور مسلسل پیکار کا غم شاید تمہیں خوف میں مبتلا رکھتا ہے۔لیکن اگر تو خوف اور غم و وسواس سے آزاد ہو جائے تو میری طرح ہیرا اور الماس بن جائے گا“۔
فارغ از خوف و غم و وسواس باش
پختہ مثلِ سنگ شو، الماس باش


”جو چیز بھی اس دنیا میں سخت کوش اور سخت گیر ہو جاتی ہے اس کی برکت سے دونوں عالم روشن ہو جاتے ہیں۔ حجرِ اسود کو دیکھو۔ وہ ایک مشتِ خاک ہی تو ہے لیکن کیا تم نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ اس کا رتبہ کوہِ طور سے بھی بلند کیوں ہے اور دنیا کا ہر کالا گورا انسان اس کو بوسہ کیوں دیتا ہے؟ بات صرف اتنی سی ہے کہ اس پتھر نے اپنا سر خانہء کعبہ کی دیوار سے بھی باہر نکال رکھا ہے۔ اس کی اسی سرفرازی نے اسے یہ مقامِ بلند عطا کیا ہوا ہے! سختی اور صلابت ہی زندگی کی آبرو ہیں اور کمزوری اور لاچاری ناپختہ ہونے کی دلیل ہے!“
مشتِ خاکے اصلِ سنگِ اسود است
کو سر از حبیبِ حرم بیروں زد است

رتبہ اش از طور بالاتر شد است
بوسہ گاہِ اسود و احمر شد است

در صلابت آبروئے زندگی است
ناتوانی، ناکسی، ناپختگی است


قارئین گرامی! اقبال قوت و صلابت کا کتنا پرستار تھا اس کا اندازہ آپ اس مثال سے لگا سکتے ہیں جو اس نے سنگِ اسود کے عالی مرتبت ہونے کے جواز میں پیش کی ہے۔ یہ استدلال ایک انوکھا استدلال ہے۔ میں نے کسی جگہ، کسی بھی زبان کی تاریخ اور ادب میں یہ مثال نہیں دیکھی۔ حجرِ اسود کی پشت پر پوری ایک تاریخ ہے۔ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام نے جب خانہء خدا کی تعمیر کی تو یہ پتھر وہ خشتِ اول تھی جسے اللہ کریم نے عرشِ بریں سے زمین پر بھجوایا۔ حضرت عمرؓ نے اسے بوسہ دیتے ہوئے فرمایا تھا: ”تو اگرچہ ایک پتھر ہے لیکن میں تجھے اس لئے بوسہ دے رہا ہوں کہ میں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے“۔…… لیکن اقبال کی خلّاقیء طبع کی داد دیجئے کہ اس نے اس پتھر کی عظمت کی تعبیر یہ کی ہے کہ اس نے ’حبیبِ حرم‘ سے اپنا سر باہر نکالا ہوا ہے۔
کوئلہ کا وجود مقابلتاً نرم ہوتا ہے اس لئے خلقِ خدا اس کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ پتھر کے سخت کوئلے کا انجام اگرچہ خاکستر ہے لیکن الماس کا انجام خاکستر نہیں۔ جس فرد یا قوم میں کمزوری اور ضعف پایا جائے گا، دوسرے قوی افراد اور طاقتور اقوام اس کو نیست و نابود کر دیں گی۔
……آج پاکستان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ ہم کشکول لئے دربدر کیوں پھر رہے ہیں؟ اس کہانی کا مارل یہ ہے کہ قوموں کی برادری میں سراونچا کرکے جیو۔ عمران خان یہی درس دیتا رہتا ہے۔ ہم نے 75برس تک دور اندیشی، انتظار، صبر اور برداشت کرکے کیا پایا؟ اس موضوع پر آج کل ہمارے میڈیا پر کافی لے دے ہو رہی ہے۔ کچھ نہ کہنا، کہنے سے بہتر ہے۔ ہمیں دور اندیشی کا درس دیا جا رہا ہے۔خود شکنی اور خود نگری کرنے اور کہنے والوں کو عاقبت نااندیش کہا جا رہا ہے۔ کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم اپنی روائتی ناداری اور ضعف سے اجتناب کریں اور سختی اور صلابت کی نئی بھٹی میں کود جائیں؟ جو نصیحت حضرتِ داتا گنج بخش نے ایرانی نوجوان کو دی تھی اور کہانیوں کی صورت میں مثالیں بھی سنائی تھیں کیا وہی نصیحت آج ہمارے لئے باعثِ تقلید نہیں؟ اقبال کے ان اردو اشعار کو بھی یاد رکھئے۔ اللہ کرسی خیر ہوسی!:
اے پیرِ حرم، رسم و رہِ خانقہی چھوڑ
مقصود سمجھ میری نوائے سحری کا

اللہ رکھے ترے جوانوں کو سلامت
دے ان کو سبق، خود شکنی، خود نگری کا

تو ان کو سکھا خارا شگافی کے طریقے
مغرب نے سکھایا انہیں فن، شیشہ گری کا
(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -