اے سی سی اے اور گلاسکو یونیورسٹی کی نئی تحقیق منظر عام پر آگئی

اے سی سی اے اور گلاسکو یونیورسٹی کی نئی تحقیق منظر عام پر آگئی

  

کراچی  (پ ر)  اے سی سی اے (ایسوسی ایشن آفچارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس) اور گلاسگو یونیورسٹی کے ایڈم سمتھ بزنس اسکول کے اشتراک سے کی گئی تحقیقکے مطابق گرین ہاؤس گیسزکے اخراج پیدا کرنے والی کمپنیوں کی اکثریت موجودہ کارپوریٹ رپورٹنگ اوربین الاقوامی پائیداری کے معیارات بورڈ (ISSB) کی مجوزہ نئی ضروریات کی تعمیل نہیں کریں گی۔اس تحقیق کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ کمپنیاں بین الاقوامی پائیداری کی طرف سے تیار کی جانے والے موسمیاتی رپورٹنگ کے نئے قوانین کے لیے کتنی تیار ہیں۔ یہ معیاراتی اسٹینڈرڈ بورڈگزشتہ سال نومبر میں تشکیل دیا گیا تھا۔اس تحقیق میں تعمیراتی اور کیمیائی صنعتوں کی کمپنیوں کی طرف سے شائع ہونے والی تازہ ترین رپورٹوں کا تجزیہ کیا گیا جن میں پچھلے تین سالوں میں سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوا۔اس تجزیے سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ زیادہ تر کمپنیاں تحقیق کی  سطح سے کم ہیں جو ISSB تجویز کر رہی ہے۔وہ کمپنیاں (77%) جنہوں نے موسم سے متعلق مالیاتی (TCFD) کی سفارشات پر ٹاسک فورس کو اپنایا ہے وہ مجوزہ نئی ضروریات کی تعمیل کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہیں۔ تاہم ان کمپنیوں کو بھی تجویز کردہ معیار کو پورا کرنے کے لیے اپنی آب و ہوا سے متعلق رپورٹنگ میں نمایاں اضافہ کرنے کی ضرورت ہوگی، جسے ISSB اس سال کے آخر تک حتمی شکل دینا چاہتا ہے۔ACCA کے پاکستان کے سربراہ اسد حمید خان کہتے ہیں کہ ''پاکستان میں حالیہ سیلاب کے زبردست اثرات قومی موسمیاتی کارروائی کی فوری ضرورت کی یاد دہانی ہے۔ اس طرح کمپنیوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ESG مرکوز (پائیدار) طریقوں کو اپنائیں اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق کارروائی شروع کریں۔

 اور رپورٹنگ کو بہتر بنائیں۔ مزید براں یہ اقدامات کمپنیوں کے لیے فائدہ مندہو سکتے ہیں اور سرمایہ کاروں، صارفین، ملازمین اور ریگولیٹرز کے لیے شفافیت اور اعتماد کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔“

مزید :

کامرس -