منچھر جھیل کی صورتحال سنگین، مزید 200دیہات زیر آب،صبر کریں، حقدار کو حق دلائیں گے:شہبازشریف

      منچھر جھیل کی صورتحال سنگین، مزید 200دیہات زیر آب،صبر کریں، حقدار کو حق ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 سیہون (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) منچھر جھیل میں سیلابی صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی، پانی کے دباؤ سے زیرو پوائنٹ پر پڑنے والے 50 فٹ چوڑے شگاف سے نکلنے والے پانی سے مزید 200 دیہات زیر آب آگئے، وزیراعلیٰ سندھ کی آبائی یونین کونسل واہڑ میں بھی پانی داخل ہونے سے ایک لاکھ 60 ہزار آبادی متاثر ہو چکی ہے۔جھیل میں پانچ کٹ لگانے کے باوجود پانی کی سطح کم نہ ہوئی، سیہون ائیر پورٹ کا رن وے ڈ وب گیا، لاڑکانہ حیدرآباد انڈس ہائی وے پر پانی ہی پانی موجود، موٹروے پولیس نے ٹریفک کا داخلہ روک دیا۔دوسری جانب دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے، پانی کی آمد 6 لاکھ 8 ہزار 476 تک پہنچ گئی ہے جبکہ اخراج 5 لاکھ 85 ہزار 678 کیوسک ریکارڈ ہوا ہے، سیلابی ریلا جامشورو میں داخل ہونے سے کئی دیہات زیر آب آ گئے ہیں، سیلاب مٹیاری اور سجاول کے کچے کے علاقوں کو بھی متاثر کریگا۔ادھر نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈی نیشن کمیٹی نے ملک بھر میں سیلاب سے ہونیوالے جانی و مالی نقصانات، ریسکیو اور ریلیف آپریشنز سے متعلق تازہ ترین اعدادوشمار جار ی کر دیئے ہیں، سیلاب متاثرہ علاقوں میں اب تک پر 1325 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 12703 زخمی ہوئے، 3716 پھنسے ہوئے افراد کو ان ہیلی سیارٹیز کے ذریعے نکالا جا چکا ہے،اب تک 4247 ٹن اشیائے خورونوش کیساتھ 439 ٹن غذائی اشیاء اور 2163212 ادویات کی اشیاء جمع کی جا چکی ہیں، 3570 ٹن خوراک، 379 ٹن غذائی اشیاء اور 1778212 ادویات کی تقسیم ہوئی ہے۔آرمی ایوی ایشن کی کوششیں سے25 ہیلی کاپٹر پروازوں کے ذریعے گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران مزید 131 افراد کو نکالا گیا جبکہ 32 ٹن راشن متاثرہ علاقوں میں پہنچایا گیا، اب تک 363 ہیلی کاپٹر پروازوں کے ذریعے مجموعی طور پر پھنسے ہوئے 3716 افراد کو نکالا جاچکا ہے۔ اب تک سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں 147 ریلیف کیمپس اور سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان جمع کرنے ملک بھر میں 284 ریلیف آئٹمز کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔اب تک 4247 ٹن اشیائے خورونوش، 439 ٹن غذائی اشیاء اور 2163212 ادویات کی اشیاء جمع کی جا چکی ہیں۔ 3570 ٹن خوراک، 379 ٹن غذائی اشیاء اور 1778212 ادویات تقسیم کی جا چکی ہیں۔اس کے علاوہ ہ پاک فوج کی جانب سے 232811 راشن پیک کیساتھ ساتھ 1617 ٹن راشن بھی تقسیم کیا گیا۔میڈیکل ریلیف کے حوالے سے 250 سے زائد میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے جن میں اب تک 97ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا اور انہیں 3 تا 5 یوم کی ادویات دیں گئیں۔بڑی سرگرمیوں میں ساگو پل این 95 (ڈی آئی خان) کی تیز رفتاری سے تعمیر جاری ہے جو کہ آج مکمل ہوجائیگا۔ خضدار میں بجلی کی ترسیل بحالی کیلئے دادو سب ڈویڑن کوئٹہ میں رپیئرنگ کام جاری ہے،گیس کی فراہمی جزوی طور پر شروع ہوگئی ہے۔پاکستان بحریہ کی جانب سے 41 ہیلی کاپٹروں کی پروازوں کے ذریعے 12176 پھنسے ہوئے لوگوں کو نکلا گیا جبکہ 2687 خاندانوں کو شیلٹرز، 1932ٹن راشن، 2532ٹینٹ، 300کلو ادویات فراہم کیں گئیں جبکہ 28250مریضوں کا علاج کیا  وزیراعلیٰ سندھ کے آبائی گاؤں واہڑ میں بھی سیلابی پانی داخل ہو گیا۔سیلابی پانی نے سہون کی 5 یونین کونسلز کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ سیلابی پانی سے زیرآب واہڑ کے مکینوں نے محفوظ مقام پرمنتقلی شروع کر دی ہے ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث 24 گھنٹے میں مزید 18 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 343 ہوگئی، 5 لاکھ 60 ہزار 789 گھر مکمل تباہ ہوچکے ہیں، 6 ہزار 579 کلومیٹر سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے مجموعی طور پر سب سے زیادہ 535 اموات سندھ میں رٓکارڈ کی گئیں، بلوچستان میں 260،خیبرپختونخوا میں 290،پنجاب میں 191، گلگت بلتستان میں 22 جبکہ آزاد کشمیر میں 43 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ جاں بحق ہونیوالوں میں 591 مرد 269 خواتین اور 474 بچے شامل ہیں۔این ڈی ایم اے رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سیلاب سے سندھ میں سب سے زیادہ 8321 افراد زخمی بھی ہوئے، پنجاب میں 3858،بلوچستان میں 164،خیبر پختونخوا میں 351 جبکہ آزاد کشمیر میں 21 افراد زخمی ہوئے، ملک بھر میں 11 لاکھ 32 ہزار 572 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ 5 لاکھ 60 ہزار 789 گھر مکمل تباہ ہو گئے۔246 پل اور 6579 کلومیٹر سڑکیں بھی متاثر ہوئیں۔ملک بھر میں 7 لاکھ 51 ہزار سے زائد مویشی بھی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے۔سیلاب سے متاثرہ افراد بے آسرا اور بے یارومددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، سیلابی ریلوں کے متاثرین اپنا سب کچھ لٹانے کے بعد بے سرو سامانی کے عالم میں سڑکوں پر راتیں گزارتے ہوتے مدد کیلئے کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔
سیلاب

ڈیرہ اسماعیل خان (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم شہبازشریف نے ڈیرہ اسماعیل خان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، اس موقع پر مولانا فضل الرحمان بھی ساتھ تھے، وزیراعظم نے سیلا ب متاثرین کی امداد اور بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورہ کے موقع پر متاثرین کیلئے جاری امدادی سرگرمیوں اور سگو پل کی بحالی کے کام کا جائزہ لیا، وزیراعظم کو کمشنر اور شاہراہوں کے قومی ادارے کے حکام نے سگو پل پر گاڑیوں کی آمدورفت کی بحالی کیلئے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی، سگو پل ڈیرہ اسماعیل خان کو بلوچستان کے علاقے کچلاک کے ساتھ ملانے والی قومی شاہراہ این 50 پر واقع ہے، پل کو حالیہ سیلاب کی وجہ سے نقصان پہنچا تھا۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج میں ایک بار پھر سیلابی صورتحا ل کے جائزہ کیلئے ڈی آئی خان حاضر ہوا ہوں، وفاقی، صوبائی ادارے اور افواج پاکستان عوام کی خدمت کیلئے حاضر ہیں جس پر انتظامیہ اور افواج پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، حالیہ مشکل حالات میں انتظامیہ اور افواج نے خدمت انسانیت کی خاطر اپنا کردار ادا کیا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قمبر شہداد کوٹ کا دورہ کیا ہر طرف پانی ہی پانی ہے، دریا کے پیٹ میں ہوٹلوں کا قیام قانونی طور پر ناجائز ہے، لوئر کوہستان میں پانچ افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے، اپنی زندگی میں کبھی ایسی تباہی نہیں دیکھی، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ اب سیلاب سے متاثرہ لوگوں کیلئے مختص رقم 28 ارب سے بڑھا کر70 ارب کر دی جائے، کوشش ہے 2 لاکھ خیمے دو ہفتوں میں پہنچا دیئے جائیں، آرمی چیف کے حکم پر سوات ویلی میں ایف ڈبلیو او اور این ایچ اے مل کر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پانی اترنے پر جو وبائی امراض پید اہونگے اب ہمیں اسکا چیلنج ہے، صاف پانی مہیا کرنا اور گھروں کو دوبارہ تعمیر کرنا کھربوں کا کام ہے،ٹانک میں گھروں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کرنے جا رہے ہیں، لاکھوں گھر جو زمین بوس ہوئے اور دریا برد ہوئے انکی تعمیر کا کام کرنا ہے، باہمی مشاورت سے اس بات پر غور کیا جائے گا کہ گھر تعمیر کروا کر دیئے جائیں یا رقوم دی جائیں،اس موقع پر وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ دوست ممالک جو ہماری مدد کررہے ہیں میں انکا مشکور ہوں، سیلاب متاثرین صبر سے کام لیں ہم ا?پ کے ساتھ ہیں، تھوڑا وقت لگے گا، حق دار کو اس کا حق ہر صورت دلوایا جائے گا۔وزیراعظم شہبا زشریف نے کہا کہ پاکستان کی آزادفضاؤں کے محافظوں نے ہمیشہ وقت پر دشمن کو باور کرایا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا 7ستمبر کے دن پر پوری قوم یوم فضائیہ منارہی ہے، وطن عزیز کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑے گی، پاکستان کی آزاد فضاؤں کے محافظوں نے ہمیشہ وقت پر دشمن کو باور کرایا۔ ستمبر 1965کے شہداء اور غازیوں کو مجھ سمیت پوری قوم خراج تحسین پیش کرتی ہے،تمام پاکستانی پاک فضائیہ کے شہداء کے شکرگزار ہیں، شہداء کی عظیم قربانیوں نے چار گنا بڑے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا۔ وزیراعظم شہبازشریف اور آذربائیجان کے صدر الہام حیدر علی ئیف کے درمیان ٹیلی فون رابطہ ہوا۔وزیراعظم نے آذربائیجان کی جانب سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے فراخدلانہ امداد پر شکریہ ادا کیا۔ آذربائیجان کی جانب سے 2 ملین امریکی ڈالر کے عطیہ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا پاکستان شدید ترین مون سون کی لہروں کی زد میں ہے جس کے نتیجے میں جانوں کا ضیاع، ذریعہ معاش اور انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ نتیجتاً سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد اور نقل مکانی شدید محدود رہی۔ وزیراعظم نے توانائی کے تعاون سمیت مختلف شعبوں میں آذربائیجان کیساتھ پاکستان کے تعاون کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان اور آذربائیجان اقوام متحدہ، او آئی سی اور ای سی او جیسے بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ آذربائیجان جموں و کشمیر پر او آئی سی رابطہ گروپ کا ایک اہم رکن ہے۔ دونوں ممالک کے لوگ مشترکہ عقیدے، ثقافتی وابستگیوں اور گہرے تاریخی رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔
شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -