پنجاب حکومت گرانے کی سازش ہو رہی ہے، مسٹرایکس، وائی ارکان کو دھمکیاں دے رہے ہیں: عمران خان 

      پنجاب حکومت گرانے کی سازش ہو رہی ہے، مسٹرایکس، وائی ارکان کو دھمکیاں ...

  

         چشتیاں (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری پنجاب حکومت کو گرانے کی ایک اور سازش ہو رہی ہے، ہمارے ایم پی ایز کو کروڑوں کی آفر اور مسٹر ایکس، مسٹر وائی ساتھ دھمکیاں دے رہے ہیں،پنجاب حکومت گرانے کی سازش کا مطلب لندن کا بھگوڑا واپس آ سکے،مسلم لیگ (ن) والو!جتنی مرضی کوشش کر لو تمہیں شکست ہوگی،جب تک ملک میں انصاف قائم نہیں کریں گے خوشحال نہیں ہو سکتے،بہاولپورمیں بہت بڑا مونچھوں والا لوٹا ہے، بڑے مونچھوں والے لوٹے کوخود کمپین کرکے ہراؤں گا۔بدھ کو یہاں پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ خواتین کوسلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ  مسلم لیگ (ن)کا گڑھ چشتیاں نہیں لندن ہے، یہ پاکستان سے پیسہ چوری کر کے باہربھیجتے ہیں، ان کا سارا خاندان لندن میں ہے یہ کمائی کرنے پاکستان آتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ملک میں انصاف قائم نہیں کریں گے خوشحال نہیں ہو سکتے، کفر کا نظام چل سکتا ناانصافی اور ظلم کا نظام کبھی نہیں چل سکتا، یہ وجہ ہے پاکستان اتنے وسائل کے باوجود ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑے، بڑے ڈاکوؤں کو جیلوں میں ڈالنے کے بجائے انہیں وزیر بنا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پرویز مشرف نے مجھے آزاد عدلیہ کے لیے جیل میں ڈالا، جیل میں کوئی بڑا ڈاکو نظر نہیں آیا، چھوٹے چھوٹے چورتھے، جب اسمبلی گیا تو بڑے، بڑے ڈاکو وہاں بیٹھے تھے، ہمارے نبیؐ دنیا کے عظیم لیڈرتھے، یہ لوگ 30 سال سے ملک کو لوٹ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ شہبازشریف اور حمزہ شہبازنے عدالت میں کہا وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے)کا کیس ختم کیا جائے، شہباز شریف، حمزہ شہباز نے 16 ارب اپنے نوکروں کے نام پر منگوائے، دونوں باپ بیٹے کو اس کیس میں سزا ہونے والی تھی، چیری بلاسم کو بیرونی سازش کے تحت ہمارے اوپر مسلط کر دیا گیا، شہباز شریف کیس کے چار گواہان کو ہارٹ اٹیک ہوئے، کیس میں اب تک 5 لوگ مرچکے ہیں، ایسے شخص کو ملک کا چور دروازے سے وزیراعظم بنایا گیا، اس کا بڑا بھائی بھگوڑا لندن میں بیٹھ کر لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے کے احکامات دے رہا ہے، نوازشریف لندن میں بیٹھ کر فیصلہ کررہا ہے کونسا اگلا آرمی چیف ہوگا۔ شہباز شریف کو امپورٹ کرکے مسلط کیا گیا۔۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ الیکشن کمشنر ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی ساری باشعورعوام ان چوروں کے خلاف آج میرے ساتھ کھڑی ہے، بہاولپورمیں بہت بڑا مونچھوں والا لوٹا ہے، بڑے مونچھوں والے لوٹے کوخود کمپین کرکے ہراؤں گا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ اب یہ کوشش کر رہے ہیں کسی طرح اداروں کو تحریک انصاف کے خلاف کیا جائے، بے شرموں تم لوگوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا ہوا ہے، دنیا کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا انہوں نے ججز کو بریف کیس دے کر خریدا، انہوں نے ایماندار جسٹس سجاد علی شاہ کو ہٹایا تھا، ہم پاکستان کی عدلیہ کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، ان کی کوشش ہے مجھے فوج کے ساتھ لڑایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن)والوں جتنی مرضی کوشش کر لو یہ ملک اور فوج بھی میری ہے۔۔ انہوں نے کہاکہ نوازشریف، زرداری نے فوج کو انڈر مائن کرنے کی کوشش کی، ایک دوسرے کو چورکہنے والے آج ایک ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نیا انکشاف کررہا ہوں، مجھے معلوم ہوا اب نیا پلان بن رہا ہے، پتا چلا ہے ہماری پنجاب حکومت کو گرانے کی ایک اور سازش ہو رہی ہے، ہمارے ایم پی ایز کو کروڑوں کی آفر اور مسٹر ایکس، مسٹر وائی ساتھ دھمکیاں دے رہے ہیں، میں ان سے پوچھتا ہوں کیا تمہیں اپنے ملک کی فکر ہے؟۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کمزورکرنے کی کوشش کررہے ہو، صحافیوں کوڈرایا دھمکایا جا رہا ہے، چینلز کو کہا جا رہا ہے کہ میرے جلسے کونہیں دکھانا، یہ ہماری جماعت کو کمزورکرنے کی کوشش کررہے ہیں، میرا تمہیں چیلنج ہے جومرضی کرلوتمہیں شکست ہوگی،پنجاب حکومت گرانے کی سازش کا مطلب لندن کا بھگوڑا واپس آ سکے۔ عمران خان نے کہا کہ 4 ماہ میں مہنگائی کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں، چار ماہ کے دوران روپیہ تیزی سے نیچے جا رہا ہے، کسانوں کا برا حال ہے، بجلی، ڈیزل مہنگا کر دیا گیا، مجھے ڈر ہے کسانوں کا جو حال ہے، سردیوں میں کہیں اناج کا مسئلہ نہ ہو جائے، ان حالات میں پنجاب میں حکومت گرانے کی سازشیں چل رہی ہیں، جوکچھ بھی ہو رہا ہے قوم کو تباہی کی طرف لیکر جائیں گے ہم ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، قانون کی بالادستی کے لیے وکلا کا بھی امتحان ہے، اللہ نے انسان کودنیا میں انصاف کے لیے بھیجا ہے،یہ پاکستان کے لیے فیصلہ کن وقت ہے۔، چارماہ پہلے ملک ترقی کر رہا تھا، اب تباہ ہورہا ہے کون ذمہ دارہے؟ اب یہ کوشش کررہے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے مجھے ڈس کوالیفائی کیا جائے، چشتیاں کے وکلا کوکہتا ہوں میری کال کا انتظارکریں۔اس سے قبل سابق وفاقی وزیر اعجازالحق نے کہا کہ جلسے کا منظردیکھ کرلگ رہا ہے تحریک انصاف ہی جیتے گی، عمران خان نے عوام کوریلیف دینے کے لیے دن رات محنت کی، پی ٹی آئی چیئر مین نے پناہ گاہیں،احساس کیش پروگرام شروع کیا۔انہوں نے کہاکہ عمران خان نے عوام کوسستا تیل دلانے کے لیے روس کا دورہ کیا، سابق وزیراعظم روس اپنے لیے نہیں گئے تھے، زرداری، نوازشریف اپنی حرکتیں بند کر دو ورنہ تمہارے ایسے پول کھولوں گا تمہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ عمران خان نے کہا ہے کہ بس بہت ہو گیا۔ امپورٹڈ حکومت میری تقریروں کا مکمل بلیک آؤٹ کر رہی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انہوں نے لکھا کہ امپورٹڈ حکومت میرے حقِ آزادی کے پیغام کی حمایت میں اٹھنے والی قوم سے اس قدر خوفزدہ ہے وہ نہ صرف مین سٹریم میڈیا اور یوٹیوب کو بھی بلاک کر کے میری تقریروں کا مکمل بلیک آؤٹ کر رہی ہے۔چیئر مین پی ٹی آئی نے لکھا کہ ڈیجیٹل سنسر شپ پورے آئی ٹی سیکٹر کو نقصان پہنچاتی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی امیج کو نقصان پہنچاتی ہے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لوگوں کو خرید کر ہماری حکومت گرائی گئی، ملک پر امپورٹڈ حکومت کو مسلط کیا گیا جو بھی ان کے پیچھے ہیں اور جب تک زندگی ہے مقابلہ کروں گا۔چشتیاں میں وکلاء  کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب تھا،نوجوان مدینے کی ریاست کا مطالعہ کریں، ملک میں قانون، انصاف نہیں بڑے، بڑے مجرم اقتدارمیں بیٹھے ہیں،جب تک مجرم اوپر بیٹھے ہیں ملک کیسے بدلے گا،ہمیں اپنے حالات کو خود بدلنا ہو گا، جو لوگ پیسے لیکر یا خوف کی وجہ سے ضمیر بیچتے ہیں میری نظرمیں یہ شرک ہے، ہمیں اپنے نبی ؐکے بتائے ہوئے راستے پرچلنا چاہیے

عمران خان

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سابق وزیراعظم عمران خان نے توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیا جواب جمع کرا دیا۔عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر نیا تحریری جواب جمع کرایا جو 19 صفحات پر مشتمل ہے،۔چیئرمین تحریک انصاف نے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں جج زیبا چوہدری سے متعلق کہے گئے الفاظ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر ارادی طور پر منہ سے نکلے الفاظ پر گہرا افسوس ہے۔عمران خان نے اپنے جواب میں کہا کہ یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ مجھے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا، میں نے ہمیشہ اداروں کی عزت پر مبنی رائے کااظہار کیا ہے، یقین دہانی کراتا ہوں کہ عدالت اور ججز کی عزت کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ججز عام آدمی کو انصاف فراہم کرنے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں، میرا مقصد خاتون مجسٹریٹ کی دل آزادی نہیں تھا، ہائیکورٹ اور اس کی ماتحت عدالتوں کے لیے بہت احترام ہے، خاتون جج کے احساسات کو ٹھیس پہنچانا مقصد نہیں تھا، پبلک ریلی میں نادانستگی میں ادا کیے گئے الفاظ پر افسوس ہے، خاتون جج کو دھمکانے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ ایسا کرنے کا تو سوچ بھی نہیں سکتا۔عمران خان کی جانب سے جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ ہائیکورٹ میں شہباز گل کیس کی اپیل زیرالتوا ہے، مجھے لگا کہ ماتحت عدالت نے جسمانی ریمانڈ دیدیا تو بات وہاں ختم ہو گئی، شہباز گل پر ٹارچر کی خبر تمام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر آئی۔انہوں نے کہا کہ ویڈیوزمیں شہباز گل کو سانس لینے میں دشواری تھی اور وہ آکسیجن ماسک کیلئے منتیں کر رہا تھا، شہباز گل کی اس حالت نے ہر دل اور دماغ کو متاثر کیا ہو گا، خواتین کے حقوق کا علمبردار ہوں جو کہا اس کا مقصد خاتون جج کے جذبات مجروح کرنا نہیں تھا۔عمران خان نے کہا ہے کہ عدالت کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ آئندہ ایسے معاملات میں انتہائی احتیاط سے کام لوں گا، کبھی ایسا بیان دیا نہ مستقبل میں دوں گا جو کسی عدالتی زیر التوا مقدمے پر اثر انداز ہو۔انہوں نے کہا ہے کہ میں عدلیہ مخالف بدنتیی پر مبنی مہم چلانے کا سوچ بھی نہیں سکتا، عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے یا انصاف کی راہ میں رکاوٹ کا سوچ بھی نہیں سکتا،عدالت سے استدعا ہے کہ میری وضاحت کو منظور کیا جائے۔عمران خان نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لینے کی استدعا بھی کردی۔ انہوں نے کہا ہے کہ عدالتیں ہمیشہ معافی اور تحمل کے اسلامی اصولوں کو تسلیم کرتی ہیں، امید کرتا ہوں عفو و درگْزر اور معافی کے وہ اسلامی اصول اس کیس پر بھی لاگو ہوں گے۔دوسری طرف سابق وزیر اعظم و چیئرمین پی ٹیٓئی عمران خان نے توشہ خان ریفرنس میں الیکشن کمیشن کو جمع کروائے گئے جواب میں موقف اختیار کیا ہے کہ میں نے کوئی اثاثے نہیں چھپائے، ریفرنس بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے۔عمران خان کی جانب سے ساٹھ صفحات پر مشتمل جواب کے مطابق گزشتہ حکومت نے ساڑھے تین سال کے دوران 329 تحائف وصول کئے، توشہ خانہ کے 58 تحائف عمران خان اور ان کی اہلیہ نے وصول کیئے، 30 ہزار سے زائد مالیت کے کل 14 تحائف سابق وزیراعظم اور اہلیہ کو ملے۔جواب میں کہا گیا کہ تمام تحائف ٹیکس ریٹرن اور اثاثوں کی تفصیلات میں موجود ہیں، توشہ خانہ تحائف کے چار یونٹ بیچے گئے، توشہ خانہ تحائف کے بدلے 3 کروڑ سے زائد کی رقم ادا کی گئی۔عمران خان نے اپنے جواب میں کہا کہ ریفرنس گمراہ کن اور جھوٹ پر مبنی ہے اور ریفرنس میں لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، ریفرنس کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق نہیں ہوتا، چیئرمین پی ٹی آئی نے عمران خان نے الیکشن کمیشن سے ریفرنس خارج کرنے کی استدعا کردی۔

عمران جواب

مزید :

صفحہ اول -