مہمند چیمبر کا تاجر برادری کو سہولیات فراہمی کا مطالبہ 

مہمند چیمبر کا تاجر برادری کو سہولیات فراہمی کا مطالبہ 

  

 پشاور (سٹی رپورٹر)خیبر پختونخوا کے قدرتی وسائل کو ضائع ہونے سے بچانے اور تجارت کو جدید دور کے جدید تقاضوں کے ہم آہنگ کرنے سمیت قبائلی ضم شدہ اضلاع میں ماربل و گرینائٹ صنعتوں کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل کے حل کے لیے تاجر برادری، چیمبرز اور ایف پی سی سی آئی سر جوڑ کر بیٹھ گئے، مرکزی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ تجارت کو کامیاب بنانے کے لیے تاجروں کی سرپرستی کی جائے، اگر ایسا ممکن ہوا تو ملک کے بجٹ برابر ریوینیو لا کے دینگے۔ یہ دعوی، اعلان اور مطالبات گزشتہ روز صوبائی حکومت، غیر سرکاری تنظیم یو این ڈی پی اور مہمند چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے صوبے کے ضم اضلاع سے تعلق رکھنے والے تاجروں اور چیمبرز کے عہدیداروں کے لیے منعقدہ ایک روزہ سیمینار میں کیا گیا جس میں تجارت کی زبوں حالی پر سیر حاصل بحث بھی کی گئی اور تجاویز بھی دیں گئیں۔ سیمینار میں مہمند چیمبر کے صدر سجاد علی، ایف پی سی سی آئی کے کوآرڈینیٹر سرتاج احمد خان، مختلف اضلاع کے چیمبرز عہدیدار، سابق صدور اور تاجر برادری نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ معلوماتی اور مشاورتی سیمینار میں شرکائنے مرکزی و صوبائی دونوں حکومتوں سے شکایات کے انمبار لگا دیئے۔ انکا کہنا تھا کہ تاجروں کو اس وقت جتنی مشکلات درپیش ہیں وہ حیران کن بھی ہیں اور پریشان کن بھی لیکن مجال ہے کہ کسی بھی حکومت کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکے حل کے لیئے کوشیشیں کی گئیں ہوں۔ سیمینار سے خطاب میں مہمند چیمبر کے صدر سجاد علی کا کہنا تھا کہ طور خم بارڈر سمیت جو بارڈر اس وقت فنکشنل ہیں وہاں سے تجارت کرنا ایسا ہے جیسے آگ کے دریا کو پار کرنا، حالانکہ معیشت کو مستحکم کرنے اور قوم کی خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ ایسے حساس معاملات میں مشکلات کو ختم کرکے سہولیات دیں جائیں تاکہ تجارت کو فروغ ملے اور ملک و قوم ترقی کرسکے۔ انہوں نے تاجروں کو بارڈرز پر کسٹم کلیئرنس میں درپیش مشکلات سمیت،چھوٹی بڑی صنعتوں پر ناجائز ٹیکسز کی بھر مار، بجلی گیس کی بندش، مہنگے یونٹس، لائسنس اجرائمیں مشکلات، اور مختلف اداروں کے بے جا منفی رویوں پر تاجروں کے احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے مسائل کا تفصیلی احاطہ کیا۔ سیمینار سے سرتاج احمد خان سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور سب کا مرکزی و صوبائی حکومتوں سے ایک ہی مطالبہ تھا کہ تاجروں کو اداروں کی ہراسانی کا شکار ہونے سے بچانے کے ساتھ ساتھ انکو سہولیات دیں جائیں تاکہ کاروبار و تجارت کو ترقی ملے اور اسکے مثبت اثرات سے ملک و قوم کو بھی فائدہ نصیب ہو سکے۔ سیمینار کے شرکائنے دعوی کیا کہ اگر انکے مسائل حل کیے جائیں تو وہ ملک کے بجٹ برابر ریوینیو ملک میں لاسکتے ہیں جس سے خوشحالی کی ضمانت یقینی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -