کراچی،سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال ایک بار پھر فعال 

کراچی،سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال ایک بار پھر فعال 

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال ناگن چورنگی ایک بار پھر فعال کر دیاگیا،سندھ حکومت 700ملین روپے کا فنڈز بھی جاری کر دیا  جس کے بعد ادویات کی خریداری کے آرڈر دیدئے گئے جبکہ ڈاکٹرز و ملازمین کو بھی تنخواہیں ادا کر دی گئیں اب طبی مشینری اور عمارت کی بحالی کا کام بھی ہنگامی بنیادوں پر شروع ہو چکا ہے۔اسپتال میں او پی ڈی کے آغاز کے بعد15ستمبر تک وارڈز اور ایمرجنسی بھی کھول دی جائیگی۔400سے زائد ڈاکٹرز،پیرا میڈیکس اور ملازمین پر مشتمل چلڈرن اسپتال جائیکا کے تعاون سے 1.25کروڑروپے لاگت سے تیار کیا گیا تھا۔ اس ضمن میں سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال ناگن چورنگی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد توصیف نے بتایا کہ کچھ بنیادی مسائل پیدا ہونے سے چلڈرن اسپتال کو فنڈز کے اجراء میں تاخیر کے نتیجے میں عارضی بندش کا سامنا کرنا پڑا تھا مگر اب سندھ حکومت کی جانب سے فور ی فنڈز کے اجراء کے بعد اسپتال کو مکمل طور پر بحال کرنے اور بچوں کو علاج و معالجے کی بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے کام کا آغاز کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال میں صرف ضلع وسطی سے نہیں بلکہ کراچی کے ہر علاقوں،بلوچستان اور سندھ کے مختلف ریجن و اضلاع سے بھی بچو ں کو علاج کی غرض سے لایا جاتا ہے اس تناظر میں ہماری کوشش ہے کہ عوام کو اسپتال کھلنے کی اطلاع ملنے تک پہلے کی طرح یہاں تمام سہولتیں فراہم کردی جائیں۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت30فیصد ادویات دستیاب ہیں اور ادویات کی ڈیلیوری ہوتے ہی 100فیصد ادویات دستیاب ہوں گی جو بلا معاوضہ مریض بچوں کو فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال کیلئے44کروڑروپے کا سالانہ بجٹ مختص کیا گیا ہے جو انتہائی کم ہے کیونکہ30کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں خرچ ہو جاتے ہیں باقی14کروڑ روپے ادویات کی خریداری سمیت دیگر مد میں خرچ ہوتے ہیں،گیس،بجلی،پانی اور ادویات کی قیمتیں دگنا ہو چکی ہیں اس لئے فنڈز کو بڑھا کر2بلین روپے کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت معاہدے میں طے ہوا تھا کہ ہر سال بجٹ میں 20فیصد اضافہ ہوگا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -