چکدرہ‘ سیلاب کی تباہ کاریاں‘ نظام زندگی مفلوج

چکدرہ‘ سیلاب کی تباہ کاریاں‘ نظام زندگی مفلوج

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


چکدرہ(تحصیل رپورٹر) کوہستان دیر بالامیں سیلاب کی تباہ کاریوں نے انفراسٹرکچر تباہ اور نظام زندگی کو مفلوج کردیاہے، تحصیل کلکوٹ اور تحصیل شرینگل میں سیلاب متاثرین کو سنگین خطرات سے درپیش ہیں،حکومت،متعلقہ اداروں اور ملکی و بین الاقوامی این جی اوز نے ہنگامی بنیادوں امداد نہیں کی توعوام قحط سالی سے دوچار ہونگے، ان خیالات کااظہارتحصیل کلکوٹ کے منتخب چیئرمین محمد زادہ شیٹاکی نے گزشتہ روز چکدرہ پریس کلب میں دیربالاکوہستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں عوام کی مشکلات بارے تفصیلات ہوئے کیاہے،انہوں نے کہاکہ پاتراک سے کمراٹ،پاتراک سے وادی عشریت اور ببوزوتک سڑک مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے، علاقہ بھر میں پل، سکولز، مساجد، بجلی گھرکے جنریٹرزاور مکانات سمیت پوراانفراسٹرکچر تباہ ہوگیاہے، رابطہ پل ٹوٹنے اور متاثر ہونے کے سبب آرپار علاقوں کے عوام کاآپس میں رابطہ منقطع ہوچکاہے اور وہاں کے عوام کسی بھی قسم کے ریلیف اور سہولیات سے یکسر محروم ہیں،، محمد زادہ شیٹاکی نے وفاقی وصوبائی حکومتوں،ضلعی انتظامیہ سمیت ملکی وغیر ملکی این جی اوز سے دیر کوہستان کے سیلاب متاثرین کی فوری امداد اور متاثرہ مکانات کے نقصان کا شفاف تخمینہ لگاکر سیلاب متاثرین کی بحالی کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں دیر کوہستان میں انسانی المیہ نے جنم لیاہے اور اگر فوری اور بروقت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو وہاں قحط سالی غریب عوام کا کام تمام کرے گی۔