یہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ہمت تھی کہ مسلمانوں کو منظر عام پر لے آئے

 یہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ہمت تھی کہ مسلمانوں کو منظر عام پر لے آئے
 یہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ہمت تھی کہ مسلمانوں کو منظر عام پر لے آئے

  

 تحریر : پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی

قسط: 40

آزادی وطن اور تخلیق پاکستان کی کہانی طویل ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کے لیڈر پنڈت جواہر لعل نہرو،مہاتما گاندھی،سردارپٹیل مسلمان نیشنلسٹ ، سرخ پوش،مجلس احرار،خاکسار تحریک اور انگریز کسی صورت میں تقسیم ہند یعنی پاکستان کے حق میں نہ تھے۔ مسلمانوں کے لیڈر حضرت قائداعظم محمد علی جناح ؒنے بڑا کردار ادا کیااورمسلسل جہدوجہد سے مسلمانوں کو آزادی کی نعمت سے نہ صرف آشنا کیا بلکہ اُمید کا سہارا دیا۔ مسلم لیگ کے قافلے،جلسے جلوس آزادی کی جانب ہندوستان کے ہر شہر ،ہر گاﺅں ، ہر گلی سے نکلنے لگے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ رہبر کامل نے مسلمانوں کو باور کرایا کہ ہندو کی ظلمت، سوداور منافقت کی چھاﺅں سے نکلنا ہے اور معاشرہ کو بدلنا ہے۔ اس میں ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے حسنِ عمل اورارادہ کے ساتھ حقیقت یعنی آزادی وطن کی خاطر مسلم لیگ کے سبز پرچم تلے جمع ہو جائے۔جب تک آپ اپنی سوچ کونہیں بدلیں گے اس وقت تک آپ انگریز اور ہندو کی ظلمتوں کا شکار ہوتے رہیں گے۔ ہر ایک کو روح حسینی پیدا کرنی ہوگی۔ اس وقت تک آپ کو انصاف یاآزادی میسّر نہیں آئے گی جب تک غلامی کے بُت کو توڑیں گے نہیں۔ جب تک ہم صحیح راستہ اختیارنہیں کریں گے۔آزادی کی صبح میسر نہیں آئے گی۔ صدیاں بیت گئیں مسلمان حاکم تھے۔ ہندوستان کی سرخیز زمین کے مالک تھے ۔ان کی عظمت تھی مگر مقدر خراب ہوئے تو غلامی نصیب میں ہوئی۔ زمانے میں ذلّت ملی۔ اب آپ نے نئی منزل تلاش کرنی ہے۔ آپ طاقتور ہیں۔ آپ اپنے آپ کو کمزور مت جانیئے۔آپ خواب غفلت سے اُٹھیئے۔ 

ان حالات کو بدلنے کی ٹھان لیں،اپنے آپ کو کامل مسلمان بنائیں اور اپنی آزاد منش شخصیت سے سوسائٹی کو بدلیں اور طاقت کا مظاہرہ کریں۔ علامہ اقبال ؒ کا مقولہ ہے....

The powerful man creates enviornment the feeble have to adjust themselves to it.

 طاقتور انسان ہی ماحول کی تخلیق کرتاہے مگر کمزور انسان اپنے آپ کو اس کے مطابق تبدیل کرلیتے ہیں۔ان تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعدقائداعظم محمد علی جناحؒ نے 1934ءمیںآل انڈیا مسلم لیگ کی صدارت سنبھالی آپ نے اپنے جواہر اخلاق سے آل انڈیامسلم لیگ میں نئی روح پیدا کی۔لوگوں کومسلم لیگ کے بلند مقاصد سے آگاہ کیا۔ہندوستان کے مسلمانوں کو اپنی شخصیت ،قابلیت،دیانت،ذہانت سے غلط سمت یعنی کانگریس سے علیٰحدہ کیا اور نئی منزل کا راستہ دکھایا۔

نگہ بلند سخن دلنواز جاں پُر سوز

یہی ہے رختِ سفر میرکارواں کے لیے

 یہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ہمت تھی کہ مسلمانوں کو منظر عام پر لے آئے۔آپ نے ہندوستان کے مسلمانوں کی سوچ کا گہرا مطالعہ کیا۔ عادات،حالات کا جائزہ لیااور ٹھوس سوسائٹی کا نقشہ یعنی جُدا قومیت کا پرچار کیا۔ ہندو اور مسلمان دوجُدا طریقہ زندگی اور مذہب میں بٹے ہوئے ہیں۔اسلام کے اعلیٰ اُصول ہیں۔اسلام میںسب لوگ برابر ہیں، جبکہ ہندو ذات پات کے باطل نظریات کے حامی ہیں۔مسلمان ایک خدا کی پرستش کرتے ہیں۔ایک قرآن اور ایک آخری نبی کریم کے پیروکار ہیں۔یہ دنیا عارضی ہے ،آخرت کے حساب اور موت پر یقین رکھتے ہیں۔

28فروری 1936ءکو قائداعظمؒ نے بادشاہی مسجد میں عظیم اجتماع کو خطاب کیا اور کہا اپنی کاوش آئین،مصالحتی پُر امن طریقے ہیں۔28فروری کو ملک برکت علی کے سوالوں کا جواب دیا ۔ ملک برکت علی صاحب وہ منفرد سیاسی ورکر ہیں جنہوں نے1937ءکے انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔ دوسرے راجہ غضنفر علی خان تھے۔ ویسے پنجاب میںیونینسٹ پارٹی برسراقتدار تھی۔مسلمانوں کو ایک طرح کی ترغیب دی۔اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور اپنے آپ کو منظم کریں تاکہ ان کی آواز کا احترام کیا جائے۔

 یکم مارچ1936ءکو ٹاﺅن ہال لاہور میں لوگوں کو خطاب کیااور کہا کہ برائے کرم میری مدد کریں۔لوگوں نے کھڑے ہو کر استقبال کیا۔ 4مارچ کو لاہور میں سیاسی رہنماﺅں کو مشورہ دیا کہ آپ لوگ سیاسی مدبروں کی طرح مسائل پر غور کریں۔ 6مارچ کو روٹری کلب کے ہفتہ وار اجلاس میں دانشوروں سے اپیل کی۔   

 گویالاہور میں پہلے وزٹ پر مختلف طبقہ زندگی کے لوگوں سے تبادلہ خیالات کئے جس میںمسجد شہید گنج کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے تحریک سول نافرمانی کی بجائے آئینی طریقہ اختیارکرنے پرزور دیا گیا۔بیرسٹر محمد علی جناح وکالت کی بدولت پہلے دورہ لاہور میں پراثر منتخب شخصیت مانے گئے۔ اصل بات یوں ہے کہ اس زمانے میں مسلمانوں کی قیادت کے لیے پُر اثر صاحب کلام اور پُر خلوص لیڈر نہیں تھا۔ مسٹر جناح میں تدّبر، ذہانت اور فلاحی جذبات موجود تھے اور لوگوں کو اساس اور اعتماد سے متاثر کیا۔ طلباء،وکلائ، روٹری کلب اور سیاسی لوگ جناح کی تعلیم ،لباس اور بے مثال اوصاف سے متاثرہوئے۔اس سے بیرسٹر جناح میں مزید حوصلہ پیدا ہوا۔ 

 ان واقعات کو دیکھ کر بیرسٹر جناح نے دہلی،بمبئی کا رُخ کیا اور مسلم لیگ کی تنظیم میں لگ گئے۔مسلم طلباءکو کہاکہ پڑھائی میں محنت کریں،متحد رہیں،ہوش کریں،درخشاں مستقبل ہمارے سامنے ہے۔مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ کی تشکیل کی۔1936ءمیں سری نگر کشمیر میں مسلم لیگ پارلیمان کو خطاب کیا۔بمبئی میں مسلمانوں کو خبردار کیاکہ صرف مسلم لیگ ہی مسلمانوں سے رابطے کی تحریک ہے۔آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس کانفرنس لکھنؤ میں خطاب کیا۔اس طرح کبھی شملہ ،لاہور،بمبئی اور کراچی شہر گئے۔ان تمام دوروں میںپیغام یہی تھاکہ مسلم لیگ مسلمانوں کی ایک سیاسی تنظیم ہے۔یہی مسلم لیگ وطن کی آزادی کا دم بھرتی ہے۔مسلم لیگ اور کانگریس کے نصب العین میں فرق ہے۔فلسطین کے مسئلہ پر کہا کہ مسلمانوں اور عربوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ اس طرح جناح کا والہانہ استقبال ہوتا رہا اور مسلم لیگ کا پیغام سارے ہندوستان میں پہنچ گیا۔

 قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کہا جب تک جنون کی حالت پیدا نہیں ہوگی اس وقت تک کامیابی ناممکن ہے۔ آپ نے شریک محفل تمام معزز اراکین کو ایک ہی تاثر دیاکہ آپ کمال طریقے سے مسلم لیگ کا پیغام دیں اور لوگوں کو بیدار کریں۔اجلاس ختم ہوا تو مفتی کفایت اللہ صاحب اور مولانا حسین احمد مدنی نے قریب ہو کر محمد علی جناحؒ صدر آل انڈیا مسلم لیگ سے کہاکہ پیغام تو ہم خوبصورت طریقے سے مسلم لیگ کا دیں گے مگر ہمارے مدرسے دیوبند کا چراغ کیسے جلے گا؟بیرسٹر جناح نے کہا سمجھا نہیںکہ دیوبند مدرسے کا خرچہ کیسے ہوگا؟ صدر آل انڈیا مسلم لیگ نے کہا مسلم لیگ ایک نئی جماعت ہے۔ اس میں اتنی مالی قوت نہیںکہ آپ کا مدرسہ چلا سکے۔ دونوں علماءمسلم لیگ سے شناسائی کرکے پنڈت جواہر لعل نہرو کی مجلس کانگریس میں گئے۔ ان کو روپیہ کی ٹھنڈک میسّر آئی اور اپنی شعلہ بیان شخصیت کو کانگریس کے پلڑے میں رکھ دیا اور ایک ہندوستان اور کانگریس کے ترجمان ہوگئے۔ 

 قائداعظم محمد علی جناحؒ 1936ءمیں پشاور گئے۔سرصاحبزادہ عبدالقیوم خان کے آٹھ روز تک مہمان رہے۔سرصاحبزادہ عبدالقیوم خان1937ءکے الیکشن میں سرحد اسمبلی کے وزیراعلیٰ چنے گئے۔ چھ ماہ بعد ڈاکٹر خان صاحب نے عدم اعتمادکا ووٹ پاس کیا اور خود وزیراعلیٰ سرحد(1937-43ئ) بن گئے۔ اس عرصہ میں بہت کم لوگ مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ ابتدائی طور پر سردار عبدالرب نشتر آگے آئے۔ان کے ساتھ ملک پیر بخش، مولانا یوسف، مولانا عبدالرحیم غزنوی اور ملک خدا بخش، سردار صاحب پشاور کمیٹی کے عہدے دار رہے اور سرحد اسمبلی کے ممبر چنے گئے تھے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے سارے ہندوستان کے دورے کیے اور اس طرح وہ ہندوستان کے بہت بڑے لیڈر منظر عام پرہوئے۔ ( جاری ہے ) 

کتاب ”مسلم لیگ اورتحریکِ پاکستان“ سے اقتباس (نوٹ : یہ کتاب بک ہوم نے شائع کی ہے، ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ )

مزید :

بلاگ -