عمران خان اور مہنگائی  

عمران خان اور مہنگائی  
عمران خان اور مہنگائی  

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پاکستانی ان دنوں عمران خان سے متاثر ہیں یا مہنگائی سے، یہ دو لفظ ایسے ہیں جن سے ملک کا بچہ بچہ واقف ہے۔ لوگ عمران خان کو مہنگائی کی وجہ نہیں سمجھتے، مہنگائی کی وجہ عمران خان کی اقتدار سے بیدخلی کو قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کے ساتھی عوام کو بتاتے رہے ہیں کہ اگر عمران خان رہ جاتا تو ملک ترقی کرنے لگا تھا، مہنگائی دم دبا کر بھاگنے والی تھی۔ کیا اس طرح سوچنے والے لوگ جھوٹ سمجھتے،جھوٹ کہتے ہیں اور جھوٹ سوچتے ہیں؟
آئیے گوگل پر موجود حقائق دیکھتے ہیں۔ 2011میں جب عمران خان مینار پاکستان میں اپنی مقبولیت کی سونامی لے کر آئے تو پاکستان میں مہنگائی 10فیصد سے اوپر تھی اور آصف زرداری ملک میں سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ 2018میں جب عمران خان کو اقتدار نصیب ہوا تو مہنگائی چار فیصد کے قریب تھی اور نون لیگ ملک کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نکال کر سی پیک کے نام پر ملک کا انفراسٹرکچر کھڑا کرکے متنازع انتخابات کے ذریعے فارغ کردی گئی تھی اور 2022میں جب عمران خان تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں عمران خان کی سونامی تھمی او روہ اقتدار سے بے دخل ہوئے تو ملک میں مہنگائی 20فیصد ہوچکی تھی اور اس کے بعد ایک سال تک انہوں نے جو دھماچوکڑی مچائی اور جس طرح سیاست کی چولیں ہلاتے رہے اس کے سبب 2023 میں ریکارڈ38فیصد مہنگائی ملک میں ہو چکی تھی۔ اس وقت جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں مہنگائی 27فیصد ہے جو اگلے سال 12فیصد ہونے کا امکان ہے۔ 


گویا کہ عمران خان کی مقبولیت کا بخار ایک طرف لوگوں کے سر کو چڑھا ہوا ہے اور دوسری جانب جب جب عمران خان سیاست میں عروج پر رہے ہیں، مہنگائی نے بھی آسمان سے باتیں کی ہیں۔ اس کے باوجود لوگ عمران خان کو مہنگائی کی وجہ قرار دینے کی بجائے پی ڈی ایم اور نون لیگ کو کوستے پائے جاتے ہیں۔ شائد اس لئے کہ ٹی وی چینلوں پر ابھی بھی پی ٹی آئی کے ووٹروں سپورٹروں کا راج ہے اور عوامی سروے کرا کے نو ن لیگ کو گالیاں نکالنے والوں کی تصویر اور آواز کو ہی جگہ دی جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان ابھی بھی عمران خان کی پشت پر سرگرم قوتوں کے پراپیگنڈے کی زد میں ہے، ان کے سوشل میڈیا بریگیڈ اور وکلاء پلٹون کی بے تکان تکرار کے نرغے میں ہے۔ یہ عناصر عوام کو کچھ اور سوچنے اور سمجھنے کا موقع ہی نہیں دینا چاہتے اور تھوک سے پکوڑے تلتے ہوئے ہمہ وقت عمران عمران پکارتے ہیں جو گھر گھر میں جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ ہم نے تو ایم اے جرنلزم کی بچیوں کو بھی زرداری ”ز“ کی بجائے ”ض“ سے لکھتے ہوئے دیکھا ہے۔ 


تاہم سب کچھ پراپیگنڈے کے سر تھوپ کر بات ختم نہیں کی جاسکتی کیونکہ عوام نے 2022میں عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد نون لیگ سے توقع لگائی تھی کہ وہ دوبارہ سے مہنگائی کو چار فیصد پر لے جائے گی لیکن شہباز شریف ہمیں بتاتے پائے جاتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہ تھی جسے گھماتے اور مہنگائی 20فیصد سے واپس چار فیصد پر چلی جاتی۔ ان کی بات بڑی حد تک درست ہے، خاص طور پر اگر صورت حال کو اس زاویے سے دیکھا جائے کہ تب کی اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتا اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے عمران خان کو سائیفروں، لانگ مارچوں اور دھرنوں پر لگا کر پی ڈی ایم کو مہنگائی پر قابو پانے کی مہلت دینے کو تیار نہ تھے، عالمی اسٹیبلشمنٹ بھی پاکستان کے ساتھ جیو پالیٹکس کھیل رہی تھی اور اسے چین کے کیمپ میں جانے سے روکنے کے لئے آئی ایم ایف کی جانب سے بروقت قرضے کی فراہمی سے روکے ہوئے تھی۔ آج جنرل عاصم منیر جس طرح ڈنڈا گھماتے ہوئے ڈالر کی گوشمالی کرتے پائے جا رہے ہیں اور پاکستان کے لئے سرمایہ کاری کی سبیل پیدا کرتے پائے جارہے ہیں، اگر 2022میں جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید بھی ایسا کر رہے ہوتے تو مہنگائی پر قابو پایاجا سکتا تھا، مگر ان میں سے ایک تو اپنی مدت ملازمت میں توسیع اور دوسرا جنرل عاصم منیر کی جگہ لینے کے لئے عمران خان کو ٹمنے پر چڑھائے ہوئے تھے، مہنگائی پر قابو کیسے پایا جاتا!


اب نواز شریف کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ آئیں گے تو ملک کے جملہ مسائل پر قابو پالیں گے مگر اس اثناء میں اینکر مافیا نے جنرل عاصم منیر کے قصیدے پڑھنے شروع کردیئے ہیں اور نگران سیٹ اپ کے لئے نون لیگ کی قیادت میں ہونے والی قانون سازی، جس کے سبب وہ سب کچھ ہو رہا ہے جو کچھ اس وقت ملک میں ہو رہا ہے، اس اینکر مافیا نے نواز شریف کو ڈس کریڈٹ کرنے اور عمران خان کو اپنی مقبولیت سے بڑا جرم کرنے کے باوجود دوبارہ سے اسٹیبلشمنٹ کے لئے قابل قبول بنانے کا بیڑہ اٹھالیا ہے۔ وہ دن رات عمران عمران کی رٹ لگائے ہوئے ہے، ان کی معافی کی درخواستیں ڈالتا نظر آرہا ہے اور ان کے ساتھ ساتھ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے اہم مہرے بھی متحرک پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ اس صورت حال میں اگر عوام عمران اور مہنگائی کے بارے میں ہی سوچتے ہیں تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہونی چاہئے۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ اب پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کا پراپیگنڈہ مدھم پڑچکا ہے لیکن اینکر مافیا ابھی بھی ہاری ہوئی جنگ کی آخری بازی کھیلنے میں لگا ہوا ہے۔ پاکستانی عوام کو تب تک عمران اور مہنگائی کے علاوہ کوئی اور موضوع بحث کے لئے نہیں ملے گا جب تک یہ اینکر مافیا عمران خان سے آگے نہیں نکل آتا 
یہ کیسا نشہ ہے،  میں کس عجب خمار میں ہوں 
تو آکے جا بھی چکا ہے میں انتظار میں ہوں 
جنرل عاصم منیر صاحب کچھ کریں!

مزید :

رائے -کالم -