حج پالیسی2024ء کے لئے تجاویز    (1)

حج پالیسی2024ء کے لئے تجاویز    (1)
حج پالیسی2024ء کے لئے تجاویز    (1)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


حج 2023ء سرکاری اور پرائیویٹ حج سکیم کا اگر ایمانداری سے جائزہ لیا جائے،میں بھی دیگر حجاج کرام کی طرح سب اچھا رہا، کہتے ہوئے اللہ کی بارگاہ میں سربسجود ہوں شکر بجا لاتا ہوں کہ اس نے ایک دفعہ پھر حج کی سعادت نصیب فرمائی اگر حج 2023ء میں ہونے والی غلطیوں کا ازالہ کرنا ہو اور مشکلات جن کا سامنا رہا ہے اس سے بچنا ہے  تو فرض بنتا ہے باریک بینی سے جائزہ لیا جائے کہاں کہاں کوتاہی رہی اور کہاں کہاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ راقم کو ہوپ اور وزارت کے زیر اہتمام ہونے والی مشاورتی ورکشاپ میں شریک ہونے اور حجاج کرام کی طرف سے کھلے دِل کے ساتھ حج2023ء میں پیش آنے والی مشکلات کا تذکرہ کرتے اور  حج2024ء کے لئے عملی تجاویز پیش کرتے براہ راست سننے کا موقع ملا ہے اس لئے میں بغیر کسی مبالغہ آرائی کے خلوص نیت کے ساتھ حج2023ء  کی مشکلات کا تذکرہ کروں گا اور حج پالیسی2024ء کے لئے تجاویز دوں گا تاکہ حج2024ء میں ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے جن سے حج2023ء میں واسطہ رہا ہے۔سونے پر سہاگہ وفاقی وزیر مذہبی امور انیق احمد مذہبی دانشور ہی نہیں،بلکہ دور اندیش بھی ہیں ان کی طرف سے وزارت میں ملک بھر سے آئی ہوئی تجاویز کی روشنی میں حج پالیسی2024ء کی تیاریاں حوصلہ افزا ہیں۔وفاقی سیکرٹری آفتاب اکبر دورانی، ایڈیشنل سیکرٹری سید عطاء الرحمن اور ٹیم نہ صرف تجربہ کار ہو چکے ہیں،بلکہ ان کی منصوبہ بندی بھی قابل ِ ستائش ہے، میں تذکرہ کر رہا تھا لاہور کے مشاورتی اجلاس کا۔لاہور حاجی کیمپ کے زیر اہتمام ہونے والی ورکشاپ میں حجاج کرام کی طرف سے حاجی کیمپوں کی طرف سے کیے گئے انتظامات پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔البتہ روانگی سے چند گھنٹے پہلے تک روانگی ہو سکے گی یا نہیں، کا خصوصی طور پر تذکرہ کرتے ہوئے کم از کم ایک ہفتہ پہلے حج ویزہ اور ٹکٹ کی فراہمی یقینی بنانے کی درخواست کی گئی اور ساتھ ہی عازمین حج کے تربیتی نظام کو مزید بہتر بنانے، مربوط بنانے اور بار بار کرانے کی درخواست کی گئی۔سرکاری حج سکیم کے ایک پیکیج کو دو کرنے کی بھی تجویز کی دی گئی، لانگ اور شارٹ پیکیج، سرکاری حج سکیم کا بھی ہونا چاہئے، حجاج کرام کی طرف سے مدینہ کی رہائشوں کی تعریف اور مکہ کی عمارتوں میں مناسب انتظامات نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی۔ایک حاجی نے وزارت کی توجہ درجنوں کی تعداد میں مکہ مدینہ مناسک حج کے دوران موجود معاونین کا تذکرہ خصوصی طور پر کیا اور کہا یہ معاونین حاجیوں کی خدمت، رہنمائی کم اور افسری دکھاتے زیادہ نظر آئے یا پھر پروٹوکول میں مصروف نظر آئے۔بسوں کی عدم فراہمی، منیٰ عرفات میں ٹینٹوں میں کم جگہ، وضو خانوں کی کمی، ناقص کھانے کی بھی شکایات سامنے آئیں،عمارتوں سے حرم کے لئے شٹل بس سروس کی فراہمی کو سراہا گیا اور ساتھ تجویز سامنے آئی کہ ایک سرکاری پیکیج شٹل بس کے بغیر بھی ہونا چاہئے، بے شک مہنگا ہو مگر شارٹ دنوں کا ہو۔


سرکاری حج سکیم کے حجاج کرام نے فنگر پرنٹس کے لئے بار بار بلانے کا بھی گِلہ کیا اور حاجی کیمپوں میں بائیو میٹرک کا نظام قائم کرنے کی تجاویز دی۔سرکاری حج سکیم کے حجاج کرام کی طرف سے قربانی کی مد میں حج سے پہلے55ہزار کی واپسی اور بعد میں 97ہزار کی واپسی کے فیصلے کو وزارت مذہبی امور کی دور اندیشی اور شاندار کارکردگی قرار دیا گیا،بسوں کی بجائے بزرگوں اور معزور افراد کے لئے ٹرین لازمی کرنے کی بھی تجویز دی گئی۔سرکاری حج سکیم کی مجموعی کارکردگی بہتر رہی، سرکاری سکیم کے حجاج کرام کو مکہ مکرمہ مدینہ منورہ مناسک حج میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس سے بچا جا سکتا ہے۔اگر گزشتہ سالوں کی روایت برقرار رکھتے ہوئے ڈی جی اور ڈائریکٹر کی تبدیلی اور اختیارات کی منتقلی کو ضد یا اَنا کا مسئلہ بنانے کی بجائے سبکدوش ہونے والے جنہوں نے حج2023ء کا ایم او یو سمیت ٹرانسپورٹ،کھانا، ٹینٹ کا ایگریمنٹ کیا تھا ان کو ساتھ رکھا جاتا۔ سابق اور موجودہ افسران صرف حاجیوں کی خدمت کو ہدف رکھتے اور باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سبکدوش ہونے والے اپنے تجربے کو آنے والوں سے شیئر کرنے اور ان کو اعتماد دینے پر لگا دیتے تو بڑی مشکلات سے بچا جا سکتا تھا، اختیارات کی منتقلی اُس وقت لازمی کرنا ضروری سمجھا گیا جب تمام معاہدہ ہو چکے تھے اور نئے آنے والے ان سے بالکل ناواقف تھے۔ مکہ مکرمہ کی آخری دنوں میں عمارتوں کی اچانک خریداری روکنے کی وجہ سے ویزے نکالنے اور عمارتوں میں بہتر انتظامات نہ ہونے کی شکایات پیدا ہوئیں۔سرکاری سکیم کی جلد بازی میں بہت سی ناقص عمارتوں کی خریداری کی شکایات بھی سامنے آئی جس کی وجہ سے حاجیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آخری دنوں میں عمارتوں کا حصول، عمارتیں مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ مالکان کی بلیک میلنگ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ذاتی ر ائے ہے اگر ڈی جی اور ڈائریکٹر اور سبکدوش ہونے والے ڈی جی کے درمیان کوآرڈی نیشن قائم رہتی، دونوں مل کر بڑی مشکلات پر قابو پا سکتے تھے۔سرکاری اور پرائیویٹ حجاج کرام کو مناسک حج میں جن مشکلات کا سامنا رہا وہ تقریباً ایک جیسی رہیں۔ سعودی حکومت نے2022ء کے بعد معلمین کے نظام کو یکسر ختم کرتے ہوئے حج2023ء میں 100فیصد انتظام پرائیویٹ کمپنیوں کے سپرد کیا ہوا تھا اور کمپنیوں کی کرتا دھرتا زیادہ تر سعودیہ کی وہ طاقتور شخصیات ہیں جو کبھی موسسہ جات میں چودھری رہے اور کبھی معلمین کی حیثیت سے مانپلی قائم رکھتے رہے تھے۔مناسک حج میں منیٰ عرفات،مزدلفہ کے انتظامات100فیصد نئی کمپنیوں کے ذمہ تھے اور تعمیرات کدانہ کمپنی کی ذمہ داری تھی۔2022ء میں بھی کدانہ ہی تعمیرات کی ذمہ داری ادا کرتی رہی تھی۔ حج 2022ء میں پرائیویٹ کمپنیوں کا مختصر تعارف ہوا تھا اور معلمین کے حوالے سے کہا گیا تھا اب ان کی مانپلی اور چودھراہٹ ختم ہو گئی ہے وہ نئی کمپنیوں کے ملازمین کے طور پر فرنٹ پر خدمات دیں گے۔

حج 2022ء میں صرف 10لاکھ افراد نے حج کی سعادت حاصل کی اس لئے شاید ان کمپنیوں کی کارکردگی بہتر انداز میں سامنے نہ آ سکی تھی۔البتہ معلمین اور ان کمپنیوں کے درمیان کھچاؤ اور بلاوجہ کا تناؤ ضرور نظر آیا تھا جس سے معلمین یہ ثابت کرتے نظر آئے ہمارے پلے تو کچھ بھی نہیں ہے سارے انتظامات وہ کر رہے ہیں ہمارے پاس کوئی وسائل نہیں ہیں ہم تو ملازم ہیں۔یہی وجہ تھی حج2022ء میں جہاں بھی گڑ بڑ ہوئی مشکلات سامنے آئیں،معلمین نے سارا ملبہ کدانہ یا کمپنی پر ڈال دیا اور خود بُری الذمہ ہو گئے۔ 10لاکھ حاجی ہونے کی وجہ سے حجاج کرام بڑی مشکلات سے بھی بچ گئے۔پاکستان سے بھی سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کے حجاج کرام تھوڑے تھے اس لئے پردہ داری قائم رہ گئی۔حج 2022ء میں حج2023ء کے لئے دو ملین اور تین ملین حجاج کرام کی خبریں حج2022ء میں ہی جاری کر دی گئیں تھیں ہم بھی محسوس کر رہے تھے، حج 2023ء بڑا ہو گا، انتظامات بھی زیادہ ہوں گے،10لاکھ کی بجائے20، 25 لاکھ یا30 لاکھ حجاج کرام کے حساب سے ہوں گے عملاً ایسا نظر نہیں آیا۔ حج 2022ء کا تجربہ مزید وسیع کرتے ہوئے نئی کمپنیوں کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے تعمیرات کدانہ کے ذمہ لگا کر باقی خدمات ان کمپنیوں کو دے کر دنیا بھر سے حجاج کرام کو بکنگ کرنے اور ان کے ساتھ خدمات کا معاہدہ کرنے کا فرمان جاری کر دیا گیا۔موسسہ جات،معلمین کے نظام کا مکمل خاتمہ اور نئی کمپنیوں کا آغاز سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کی نئی امیدیں ان سے وابستہ ہو گئیں۔ حج2023ء میں ایک بات تو کھل کر سامنے آ گئی سعودی حکومت ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن2030ء کے مطابق حج کے سارے نظام کو وسیع کرنے اور مرحلہ وار پرائیویٹ کرنے کی طرف گامزن ہے۔ یورپ، امریکہ، کینیڈا، امارات حج2022ء میں نسق کے ذریعے حجاج کی بکنگ کا ناکام تجربہ کر کے پوری دنیا کو آئندہ کا لائحہ عمل دے چکی تھی اس لئے حج2023ء کے لئے پاکستان نے زیادہ ہی امیدیں وابستہ کر لیں،پرائیویٹ حج سکیم کی نمائندہ ہوپ بھی غلط فہمی کا شکار ہوگئی اور پرائیویٹ کمپنیوں کے لالی پاپ اور دکھائے گئے سبز باغ میں ان سے بہتر معاہدے نہ کر سکی اور خدمات کی تفصیلات بھی بہتر انداز میں جان نہ سکی، افراتفری میں ضیوف البیت، رواف منیٰ، مشارق نے بظاہر مکاتب کی قیمتیں تو مقابلہ بازی میں کم کیں مگر عملاً حج 2023ء میں سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کو تارے دکھا دیئے۔(جاری ہے)
(جاری ہے)
٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -