ایک لطیفہ اور آرٹیکلز62،63

ایک لطیفہ اور آرٹیکلز62،63

  

یہ محض اتفاق ہے، مُک مکایا گٹھ جوڑ کہ ملک کے چوٹی کے تین کالم نگاروں نے بیک وقت اپنے کالموں میں ایک ہی لطیفہ استعمال کیا۔مَیں کوئی بیس سال پہلے کی بات نہیں کررہا۔ یہ آج کل کی ہی بات ہے۔آپ ابھی سے حیران نہ ہوں، کیونکہ آپ کی حیرانی کا ابھی مزید سامان بھی موجود ہے۔جی ہاں، ایک ہی مسئلے پر ہمارے سیکولر یا انقلابی، آپ جو بھی کہنا چاہیں اور نان سیکولر کالم نگاروں نے نہ صرف اپنے کالموں میں ایک ہی لطیفہ استعمال کیا،بلکہ دلائل بھی ایک جیسے دیئے۔موقف بھی ایک ہی اختیار کیا اور میرے محدود علم کے مطابق پہلی مرتبہ یک جان اور دو قالب نظر آئے۔یہ آرزو ہے اور ہمیشہ رہے گی کہ مستقبل میں بھی ایسا ہوتا رہے۔ہمارے کالم نگار اہم قومی مسائل، مثلاًدہشت گردی وغیرہ پر یکساں موقف اختیار کریں اور ہم سیکولر اور رجعت پسندی کے چکر سے نکلنے میں کامیاب ہوجائیں۔

یہ حیرت انگیز واقعہ اس وقت پیش آیا،جب ہمارے الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ کیا کہ ووٹروں کے لئے ایک خالی خانہ بھی چھوڑ اجائے۔جب وہ کسی بھی امیدوار کو پسند نہ کریں تو پھر اس خانہ میں مہر لگائیں۔اس فیصلے کی وجہ سے ممتاز تخلیق کاروں کا دل پسیجا اور ان کے قلم حرکت میں آ گئے۔ انہوں نے عوام کی تکلیف کا احساس کیا اور آواز اٹھائی کہ بیچارے عوام کو اس ذلت اور رسوائی سے بچایا جائے۔اگر ایسا نہ ہوا تو عوامی مسائل میں زبردست اضافہ ہوگا۔کالم نگار حساس ہوتے ہیں، اس لئے ہمیں اس عوامی احساس پر کوئی اعتراض نہیں۔خالی خانے پر مہر لگانے والے جانیں اور ہمارے کالم نگار،ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ہمیں معمولی سا اعتراض اس بات پر ضرور ہے کہ ہم ہر وقت قومی خودکفالت کے نعرے لگاتے ہیں۔ قومی غیرت جگاتے ہیں۔بیرونی انحصار ختم کرنے کے ترانے سناتے اور گاتے ہیں، لیکن عمل اس کے برعکس کرتے ہیں۔دوسری باتوں کو چھوڑیں، ہم کالم لکھنے کے لئے لطیفے بھی بیرون ملک سے لاتے ہیں۔

محترم کالم نگاروں نے اپنے کالموں میں ایک سردار کا واقعہ یا لطیفہ بیان کیا ہے،جس نے اپنے گھر میں تین تالاب یا غسل خانے بنائے۔ ایک میں ٹھنڈا پانی، دوسرے میںگرم پانی اور ایک تالاب نہ نہانے کی صورت میں بنانا مناسب جانا۔دو کالم نگاروں نے تو سردار جی اورتالابوں کا ذکر کیا ہے،جبکہ میرے لئے اور سب کے لئے زیادہ محترم کالم نگار نے سردار کی جگہ صاحب لکھا ہے۔ان کے بقول کسی صاحب نے تالاب تو ضرور بنوایا، لیکن اس کے ساتھ چار غسل خانے بھی بنا دیئے۔ انہوں نے زیادہ سمجھداری سے کام لیا ہے۔ ایک تو سردار کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ صرف اس وجہ سے اس واقعہ کی بیرونی پہچان ختم کردی اور اسے مقامی بنا کر پیش کیا۔اس تبدیلی پر ہمیں بہت خوشی ہے اور ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں، لیکن جن صاحبان نے سردار لکھا ہے، ہمارے خیال میں انہوں نے ہماری خود انحصاری کی پالیسی کی مخالفت کی ہے۔اس کے راستے میں روڑے اٹکائے ہیں اور اس کے لئے مشکلات پیدا کی ہیں۔خاص طور پر ایک کالم نگار نے تو بہت زیادتی کی۔وہ ہر ماہ ہمیں اپنے کالموں کے ذریعے یاد دلاتے رہتے ہیں کہ انڈیا سے دور رہنا ہی بہتر ہے،بلکہ وہ تو کہتے رہتے ہیں کہ ہمیں پیاز، کیلا اور بھنڈی وغیرہ بھی انڈیا کی استعمال نہیں کرنی چاہئیں۔شاید اس سے ہمارے تشخص ، قومی غیرت اور عزت پر حرف آتا ہے، لیکن حیرانی اس بات پر ہے کہ انہوں نے ایک لطیفے کے لئے بھی بارڈر پار ہی دیکھا اور دشمن ملک کی مدد لی۔کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

 ہمارے ہاں ان دنوں لطیفہ ساز فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں۔خود کفالت کی بات چھوڑیے، ہم یہ لطیفے بیرون ملک بھی برآمد کرسکتے ہیں۔سنا ہے کہ بعض بیرونی اخبارات گارڈین وغیرہ نے ہمارے چند لطیفوں سے بھرپور استفادہ کیا ہے،جو آئین کے آرٹیکل 62،63 پر عملدرامد کے سلسلے میں وجود میں آئے ہیں۔ان لطائف سے استفادہ نہ کرنا اور معمولی سے کام کے لئے کسی دوسرے ملک کے لطیفوں سے مدد لینا کسی لحاظ سے بھی پسندیدہ عمل نہیں ہو سکتا۔آئین کے آرٹیکلز 62،63 پر عملدرآمد کے سلسلے میں اتنی سی عرض ہے کہ میرے خیال میں ان آرٹیکلز کا پاکستان میں ان افراد پر اطلاق تقریباً ناممکن ہے،جن کی عمر باسٹھ،تریسٹھ سال یا اس سے زیادہ ہے۔ہمارے ہاں زیادہ تر جو کچھ کرنا ہوتا ہے، اس عمر سے پہلے کرتے ہیں۔اس عمر میں تو چہرے پر داڑھی، سر پرٹوپی اور ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے۔بھلا اس حلیے کے کسی انسان پر آرٹیکلز 62،63کا اطلاق کیا جا سکتا ہے؟آخر میں اہل وطن کو الیکشن کمیشن کی چھلنی سے نکلے ہوئے اور آرٹیکلز62،63سے پاک کئے گئے امیدوار مبارک ہوں۔      ٭

مزید :

کالم -