شہزادی بو ّا

شہزادی بو ّا
شہزادی بو ّا
کیپشن: syed fiaz ud din

  

شہزادی بوا کو سنا ہے کہ والدہ کے ساتھ ان کی شادی پر ان کی خدمت کے لئے نانی جان نے بھیجا تھا، پھر شہزادی بوا نے ہمارے کئی بھائی بہنوں کی دیکھ بھال کی اور والدہ کی خدمت الگ اور ہمارے گھر کا ایک ضروری حصہ اور ہماری پسندیدہ شخصیت ! میری اولین یادوں میں مَیں نے ان کو دیکھا کہ وہ پھٹتے ہی اٹھتی، فجر کی نماز کے بعد پورے گھر کوجھاڑ دیا کرتی، پھر گھر کی تمام بجھی ہوئی لالٹینوں کو ایک جگہ جمع کرتیں، پھر ناشتہ پکانے لگ جاتیں، کوفتہ کا ان کو بڑا شوق تھا اور کوفتہ ان دنوں گائے کے گوشت کا ہی اچھا سمجھا جاتا تھا، وہ خود اسے پتھر کی سیل پر جو والد شاید مراد آباد سے میری ولادت کے زمانہ میں لائے تھے، کافی بڑی تھی،جسے ہمارے خاندان میں ڈھاکہ تک استعمال کیا گیا۔ شہزادی بو ّا کے کوفتہ کی تیاری میں ہم انہیں بہت تنگ کرتے، کیونکہ وہ گوشت کو پیسنے کے بعد اسے مصالحوں کے ساتھ بھی پیسا کرتی تھیں، لہٰذا ہم لوگ اس ذائقہ دار گوشت کو ان کی ڈانٹ پھٹکار کے باوجود اٹھا لیا کرتے اور کچا ہی کھا جاتے۔میرے بڑے بھائی ان سے البتہ یہ ضرور پوچھتے کہ بو ّا آج کا کوفتہ تو بہت مزے کا ہوگا کہ جانے آپ نے کتنی مکھیوں کو پیس دیا ہوگا اور وہ زور کی ڈانٹ لگاتیں۔

شہزادی بو ّا، اوئل عمری میں ہی بیوہ ہو گئی تھیں، ان کے والدین نے نانی اماں کے حوالے کیا،چونکہ نانی اماں لڑکیوں کے ایک مڈل سکول کی ہیڈ مدرس تھیں، انہیں اوپر کے کام کے لئے ایک قابلِ اعتماد لڑکی مل گئی اور وہ پھر اماں کے ساتھ ٹِک گئیں۔ شہزادی بو ّا کو ہمیں ڈانٹنے، ہمیں شرارتوں سے روکنے اور فضولیات میں پڑنے سے روکنے کا بھی پورا ہنر آتا تھا۔ان کے پاس ہمیں خوش کرنے کے لئے نمکین اور میٹھے پکوان ہوتے تھے جو نہ صرف یہ کہ وہ ہمیں کھلاتی رہتی تھیں، بلکہ اپنے نواسے ”جھبو“ کے لئے بھی پوٹلی میں رکھتی تھیں اور جب وہ آتے تو ان کو کھلاتی اور ان کی مہمانداری کرتیں۔ان کے نواسے ہم بچوں کے لئے طرح طرح کے کھیل اور کھلونے بناتے اور ہم ان سے خوش رہتے۔

برصغیر کی تقسیم نے لاکھوں خاندانوں کو تتر بتر کردیا، کوئی اِدھر گیا، کوئی اُدھر ،ہمارے بزرگ بھی آبائی وطن چھوڑ کر پہلے کلکتہ اور پھر ڈھاکہ پہنچے، آپ یقین کریں کہ شہزادی بو ّا بھی ہمارے پیچھے پیچھے آ پہنچی، یہاں بھی انہوں نے اپنی عمر رسیدگی

 کے باوجود کئی سال تک ہم لوگوں کی خدمت کی، پھر جب ہندو پاک کے درمیان پاسپورٹ کا سلسلہ شروع ہوا تو انہیں ہم نے نرائن گنج گھاٹ تک جا کے اسٹیمر میں بٹھا دیا اور پھر وہ وہاں سے ایک دوسری ٹرین لے کر اپنے آبائی گھر پہنچ گئی ہوں گی، پھر ان سے کوئی ربط نہیں رہا، مگر ان کی یاد اور ان کی بے لوثی اور ان کی خدمت گزاری ایک یادگار کے طور پر ہمارے خاندان میں یاد کی جاتی رہیں گی۔مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے پاکستان میں گاﺅں دیہات میں ایسے کردار ہیں یا نہیں، ہونے تو چاہیے ، مگر ترقی کے نام پر ہم ایک میکانکی زندگی کے عادی ہوتے جا رہے ہیں، وہ قدریں جن پر ہماری تہذیب استوار تھی، سخت شکست و ریخت کا شکار ہو گئی ہیں، ترقی و تہذیب مغرب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر ہم نے بہت کچھ گنوایا، میں تو سمجھتا ہوں کہ تین ایسی چیزیں گنوائی ہیں، جواب نایاب ہیں، بے لوثی، خدمت گزاری اور قناعت۔ اللہ اللہ کیجئے،شاید کوئی راستہ نکل آئے۔  ٭

مزید :

کالم -