ٹیکنالوجی اور تعلیم کا فروغ

ٹیکنالوجی اور تعلیم کا فروغ
 ٹیکنالوجی اور تعلیم کا فروغ

  

 ٹیکنالوجی کے فروغ کے لحاظ سے پاکستان کا مستقبل روشن اور تابناک ہے۔حال ہی میں سپین میں ہونے والی موبائل ورلڈکانفرنس میں سپیکٹرم 2015ء ایوارڈ کا حصول ثابت کرتاہے کہ ہم بلاشبہ ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔اب ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہمیں معاشی میدان میں بھی اپنی توانائیوں اور صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرنا ہو گا، جس سے پاکستان کو معاشی اعتبار سے ایک مضبوط اورخوشحال ملک بنانے کے خواب کی عملی تعبیر ممکن ہو سکے گی۔اِس مقصدکے حصول کے لئے پیشہ وارانہ تعلیم کی مددسے نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جانا چاہئے، جس سے بعدازاں ملازمت یا ذاتی کاروبار کا آغاز کرنے میں مدد حاصل ہو۔ اِس مقصد کے لئے ورچوئل یونیورسٹی کا کردار قابلِ ستائش ہے۔یہ ادارہ ملک بھر میں تمام سماجی اور معاشی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے ملک کے طول و عرض میں خصوصاً دور افتادہ علاقوں میں بلا تفریق معیاری تعلیم کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ حال ہی میں خصوصی طور پر متعارف کروائے جانے والے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام اور ٹی وی پروڈکشن کے پوسٹ گریجوایٹ ڈپلومہ پروگرام پیشہ وارانہ مہارت کے فروغ کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہیں، جن سے پروفیشنلزم کو پورے ملک میں یکساں فروغ ملے گا۔ ورچوئل یونیورسٹی قلیل عرصے میں تعلیمی میدان میں ایک تن آور دخت کا روپ دھار چکی ہے جس کی کونپلوں سے علم کی کرنیں پاکستان بھر کو روشن کر رہی ہیں۔ ورچوئل یونیورسٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے جدید ترین انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک میں تعلیمی نظام میں انقلاب برپا کر تے ہوئے فاصلاتی نظام تعلیم کے اک نئے دور کی بنیاد رکھی۔ورچوئل یونیورسٹی کے ذریعے آسان رسائی اور کم لاگت کی حامل عالمی معیار کی تعلیم کی فراہمی سے پاکستان میں تعلیم کا معیار بلند ہو رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجیز اور قومی انتظامی ڈھانچے کو بروئے کار لاتے ہوئے ورچوئل یونیورسٹی نے ملک بھر بشمول دیہی علاقہ جات کے طلباء کو ایک مثالی تعلیمی ماحول فراہم کیا ہے۔ ملک میں پہلی بار دور دراز کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کی رسائی مایہ ناز پروفیسرز تک ممکن ہوئی جو کہ پہلے صرف بڑے شہروں کے طلباء تک محدود تھی۔ ابتدائی نتائج سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہمارے دیہات اور دور دراز کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کی پوشیدہ صلاحیتیں اور ذہانت اب نکھر کر سامنے آ رہی ہے، جس سے ملک کے معاشی حالات کی بہتری میں مدد ملے گی۔ہمارے ہاں اکثر لوگ ای لرننگ سے استفادہ حاصل کرنے سے ناواقف ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ایک حالیہ تحقیق کے بعد کہا ہے کہ ای لرننگ کے ذریعے لاکھوں طالب علموں کو صحت کے حوالے سے تربیت فراہم کی جا سکتی ہے اور یہ فاصلاتی طریقہ تعلیم روایتی ٹریننگ کی طرح موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ امپیریل کالج لندن کے ڈاکٹر جوزف کار نے ای لرننگ کے حوالے سے یہ رپورٹ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے لئے تیار کی ہے۔ ڈاکٹر جوزف کار کے اِس تحقیقی جائزے نے ثابت کیا ہے کہ کمپیوٹر پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کی کارکردگی اُن طالب علموں سے بہتر تھی جو روایتی طریقے سے تعلیم حاصل کرتے تھے۔ دُنیا بھرکے ترقی یافتہ ممالک میں بھی روایتی تعلیم کے طریقہ کار کی جگہ ای لرننگ کو اپنایا جانے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دُنیا بھرکے تعلیمی ادارے تعلیم کے فروغ کے لئے اِس طریقہ تعلیم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ای لرننگ کے ذریعے نئے ڈگری پروگرامز متعارف کرانے سے ورچوئل یونیورسٹی ملک کی معاشی و سماجی فلاح و بہبود میں نہ صرف اہم کردار ادا کر رہی ہے، بلکہ مُلکی اور بین الاقوامی سطح کی یونیورسٹیز کے ساتھ معاہدات نے جدید اور معیاری تعلیم کی راہ ہموار کی ہے۔ ورچوئل یونیورسٹی کے طلباء گھر پر رہ کر یا ورچوئل کیمپسز کے ذریعے جو کہ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں،تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔یہ کیمپسز طلبا کو الیکٹرونیکلی لیکچرز اور کمپیوٹرز لیبارٹریز تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔نہ صرف یہ بلکہ طلبا اپنے اساتذہ کے ساتھ بھی رابطے میں رہتے ہیں ۔ ان کیمپسز کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ طلبا اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھی رابطے میں رہتے ہیں تاکہ گروپ سٹڈی ممکن ہو سکے۔اِس ادارے نے قلیل عرصے میں اپنے آپ کو جدید اور معیاری تعلیم کی فراہمی کے لئے ایک مستند ادارے کے طور پر منوایا ہے ۔ملک بھر کے 95 شہروں میں 170سے زائد کیمپسز کا قیام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے ۔ہر نئے سمسٹر میں طلبا کی بڑھتی ہوئی تعداد اس کامیابی کی روشن دلیل ہے کہ ورچوئل یونیورسٹی ملک کے ہر کونے میں علم کی شمع سے جہالت کے اندھیروں کو مات دینا چاہتی ہے۔پاکستان کا مستقبل ہماری باصلاحیت نوجوان نسل کے ہاتھوں میں ہے جو وسائل کی عدم دستیابی اورمسائل سے بھرے ماحول کے باوجود زندگی کے ہر شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھا رہے ہیں، مگر ٹیکنالوجی کے اِس دور میں ورچوئل یونیورسٹی کے جدید تعلیمی نظام اور پھیلے ہوئے نیٹ ورک سے استفادہ حاصل کر کے ’’معیاری تعلیم سب کے لئے‘‘ کے خواب کو عملی تعبیر دی جا سکتی ہے۔

مزید :

کالم -