داعش کے زیر قبضہ علاقے میں خواتین کیسے زندگی گزارتی ہیں، کیا پابندیاں ہیں اور کس چیز کی آزادی ؟ پہلی مرتبہ الرقہ کی خواتین نے حیران کن تفصیلات بیان کردیں‘

داعش کے زیر قبضہ علاقے میں خواتین کیسے زندگی گزارتی ہیں، کیا پابندیاں ہیں ...
داعش کے زیر قبضہ علاقے میں خواتین کیسے زندگی گزارتی ہیں، کیا پابندیاں ہیں اور کس چیز کی آزادی ؟ پہلی مرتبہ الرقہ کی خواتین نے حیران کن تفصیلات بیان کردیں‘

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) یہ اپنی جگہ بہت اہم سوال تھا کہ داعش کے زیرتسلط علاقے میں خواتین کس طرح اپنی زندگیاں گزار رہی ہیں؟ اب نیوز ویب سائٹ ڈی ڈبلیو(DW) نے اس سوال کا جواب فراہم کر دیا ہے۔ ویب سائٹ نے داعش کے گڑھ الرقہ شہر میں رہنے والی خواتین تک رسائی حاصل کی اور ان سے ان کے مسائل دریافت کیے۔ ویب سائٹ نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ ”الرقہ میں خواتین شدت پسندوں کے ظلم و جبر سہتے ہوئے زندگی گزار رہی ہیں۔ الراقہ میں خواتین کو سیاہ کے سواکسی اور رنگ کا لباس پہننے کی اجازت نہیں ہے۔ وہاں خواتین کے لیے پرفیوم استعمال کرنے اور بلند آواز میں بات کرناقابل سزاءجرم ہے۔ “
الرقہ کی رہائشی خواتین کا کہنا ہے کہ ”ہم مر چکی ہیں مگر پھر بھی سانس لے رہی ہیں۔ہماری وجود زندہ لاش کے سوا کچھ نہیں۔“ ایک 25سالہ لڑکی نے ویب سائٹ کو بتایا کہ ”میں نے اب تک کی اپنی ساری زندگی الرقہ میں ہی گزاری ہے اور یہیں یونیورسٹی میں پڑھتی رہی ہوں۔ میں اس شہر سے بہت پیار کرتی ہوں۔ میں بالکل بھی لبرل خیالات کی مالک نہیں تھی لیکن پہلے مجھے کافی آزادی حاصل تھی اور چند سماجی روایات کے علاوہ مجھ پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی تھی۔ میں سکارف بھی نہیں پہنتی تھی۔ لیکن اب سب کچھ تبدیل ہو گیا ہے۔اب ہم خواتین صرف سیاہ رنگ کا لباس پہننے پر مجبور کر دی گئی ہیں۔ گھر سے باہر نکلنا بھی انتہائی محدود ہو چکا ہے۔داعش نے خواتین کے سکول اور یونیورسٹیاں بند کر دی ہیں اور خواتین کے کسی محرم مرد کے بغیر شہر سے باہر جانے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ داعش نے خواتین ایک باقاعدہ فورس بنا رکھی ہے جو بازاروں، مارکیٹوں ، حتیٰ کہ گھروں کے اندر بیٹھی خواتین کی بھی نگرانی کرتی ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین کو گرفتار کرکے سزائیں دیتی ہے۔ اس فورس میں غیرملکی خواتین شامل ہیں جو داعش میں شامل ہونے کے لیے دیگر ممالک سے شام آئی ہیں۔ اس کے علاوہ بری شہرت کی حامل شامی خواتین اور داعش کے شدت پسند بھی اس فورس کا حصہ ہیں۔ “
لڑکی نے مزید بتایا کہ ”یہ فورس ہر وقت خواتین کی زندگیوں میں مداخلت کرتی رہتی ہے۔ میں نے کئی خواتین کو اس فورس کے ہاتھوں بازاروں اور مارکیٹوں میں پٹتے دیکھا ہے، ان پر مناسب لباس نہ پہننے یا باآواز بلند بات کرنے جیسے الزامات لگائے گئے تھے۔ داعش کے الراقہ پر قبضے کے بعد صورتحال کچھ یوں ہو چکی ہے کہ ہمارے گھر ہمارے لیے جیل خانے بن چکے ہیں۔ داعش نے شہر کی رسوم و روایات بھی تبدیل کر دی ہیں اور اپنی خودساختہ شریعت نافذ کر رکھی ہے۔ میں نے بھی دیگر عام لڑکیوں کی طرح کسی ایسے شخص سے شادی کا خواب دیکھ رکھا تھا جسے میں پسند کرتی ہوں۔ مگر اب سب کچھ بدل چکا ہے اور شادی کے لیے دولہا سے پہلے اس کی بہن یا ماں کا لڑکی کو پسند کرنا ضروری قرار دیا جا چکا ہے۔ اب میں اس سے کبھی بھی اکیلے میں بات نہیں کر سکوں نہیں، کبھی مل نہیں سکوں گی۔ جب اس کی ماں یا بہن مجھے پسند کرکے اس سے میری شادی کروا دیں گی تب ہی میرا اس سے بات کرنا ممکن ہو سکے گا۔ الراقہ کی اکثر لڑکیاں داعش کے شدت پسندوں کے ساتھ بیاہے جانے کے خوف سے پہلے ہی جیسے تیسے مردوں کے ساتھ شادیاں کر چکی ہیں۔ ویسے ہی میں نے بھی کر لی۔ ہماری زندگیوں میں دکھ اس قدر درآئے ہیں کہ اب ہم آئینے میں دیکھ کر اس لیے مسکراتی ہیں کہ کہیں ہم مسکرانا بھول ہی نہ جائیں۔“