جس چیز کو آدمی پاﺅں پر خراش سمجھتا رہا دراصل خطرناک کیڑا نکلا، جسم کے اندر کس غلیظ ترین طریقے سے گھُسا؟ جان کر کوئی بھی گھبراجائے

جس چیز کو آدمی پاﺅں پر خراش سمجھتا رہا دراصل خطرناک کیڑا نکلا، جسم کے اندر کس ...
جس چیز کو آدمی پاﺅں پر خراش سمجھتا رہا دراصل خطرناک کیڑا نکلا، جسم کے اندر کس غلیظ ترین طریقے سے گھُسا؟ جان کر کوئی بھی گھبراجائے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین میں ایک شخص کے پاﺅں پر سوزش آ گئی اور وہ سمجھتا رہا کہ شاید اسے کہیں سے خراش آ ئی ہے مگر کچھ دن بعد اسے احساس ہوا کہ یہ سوزش پاﺅں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت بھی کر رہی ہے، جس پر وہ پریشان ہو گیا اور ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ ڈاکٹروں نے اس کے پاﺅں کا معائنہ کرکے ایسا انکشاف کر دیا جسے جان کر آپ بھی یقینا حیران ہوں گے۔ بیجنگ کے پیکنگ یونین میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں نے اس 42سالہ شخص کو بتایا کہ یہ خراش نہیں ہے بلکہ اس کے پاﺅں میں ایک قسم کا کیڑا (Hookworm)گھس گیا ہے اور وہ ادھر ادھر حرکت کر رہا ہے۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اس شخص کو ایک ماہ سے یہ شکایت پیدا ہوئی تھی۔ یہ شخص نائیجیریا میں چھٹیاں گزارنے گیا تھا اور واپسی پر اس کے پاﺅں میں یہ کیڑا پیدا ہو گیا۔ ڈاکٹروں نے جب اسے بتایا کہ اس کیڑے کے انڈے جانوروں کے فضلے میں پائے جاتے ہیں اور وہاں سے انسان کے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ تب اس شخص کو خیال آیا کہ نائیجیریا میں اس کا سابقہ جانوروں کے فضلے سے رہاتھا۔ لہٰذا وہاں سے لاروا اس کے پاﺅں میں داخل ہوا اور ایک ماہ بعد مکمل کیڑا بن گیا۔ اس کیڑے کی لمبائی کچھ سینٹی میٹر تھی۔

سرجری کے دوران خاتون ریکارڈر چھپا کر آپریشن تھیٹر میں لے گئی، ڈاکٹرز کیا باتیں کرتے رہے؟ ایسی شرمناک تفصیلات کہ جان کر کوئی بھی گھبراجائے
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں نے یہ منفرد نوعیت کا کیس نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں بیان کیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ”یہ کیڑے جانوروں، بالخصوص کتوں اور بلیوں کی مقعد میں پائے جاتے ہیں اور وہاں انڈے دیتے ہیں جو ان کے فضلے کے ساتھ باہر آ جاتے ہیں اور باہر ان میں سے لاروا نکل آتے ہیں۔ یہ لاروا عموماً ساحل سمندر پر پڑے فضلے میں پائے جاتے ہیں اور جب کوئی ریت پر ننگے پاﺅں چلتا ہے تو یہ اس کے جسم میں سرایت کر جاتے ہیں۔ یہ کیڑے انسانی جلد کی بیرونی تہہ میں رہتے ہیں کیونکہ اگر یہ گوشت میں نیچے چلے جائیں تو مر جاتے ہیں۔ “

مزید :

ڈیلی بائیٹس -