جنید جمشید کے ساتھ سلوک

جنید جمشید کے ساتھ سلوک
جنید جمشید کے ساتھ سلوک

  

جنید جمشید کو ایک مرتبہ امریکہ میں میں نے بھی ’’لائن حاضر‘‘ کیا تھا لیکن اس پر حال ہی میں اسلام آباد ایئرپورٹ پر جو پرتشدد سلوک ہوا اس پر مجھے افسوس ہوا۔ اس وقت بہت سے اہم معاملات چل رہے ہیں جس پرمیں لکھنا چاہتا ہوں۔ موسم بہار پہلے ہی شروع ہوچکا ہے جس پر مجھے لکھنے کی روایت نبھانے کی بہت بے چینی ہے۔ یہ سب کچھ چھوڑ کر پہلے میں جنید جمشید کا معاملہ نمٹانا چاہتا ہوں۔ مجھے آپ سے اتفاق ہے کہ یہ معاملہ بہت معمولی ہے لیکن رائے عامہ کے اس طالب علم کے لئے یہ ایک دلچسپ Case Studyہے جس کا جائزہ لینا اس کے لئے ضروری ہوگیا ہے۔

تفصیل بیان کرنے سے پہلے میں واضح کردوں کہ جنید جمشید جس لاپرواہی اور غیرذمہ داری سے مذہبی معاملات پر اپنے ناقص علم کا جگہ جگہ اظہارکرتا پھررہا ہے وہ بہت سے لوگوں کی طرح مجھے بھی سخت ناپسند ہے لیکن میرا خیال ہے وہ یہ سب کچھ بدنیتی سے نہیں کررہا بلکہ وہ اپنے طورپرمذہب کی خدمت کررہا ہے اس لئے اس پر تشدد درست نہیں ہے البتہ اس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔

یہ جو ماضی قریب میں معاملہ ہواجس پر پاکستان میں ردعمل کا اظہار ہورہا ہے وہ تو آپ کے علم میں ہوگا لیکن امریکہ میں اس نے جو کچھ کیا وہ آپ نہیں جانتے ہوں گے اگرچہ میں نے اس پراس کی ’’کلاس ‘‘ لے لی تھی۔ لیکن پہلے یہ سب بیان ضروری ہے۔

واشنگٹن کے ایک نواحی ٹاؤن لارل کی ایک مسجد میں ہم لوگ اکثر جمعہ پڑھنے جاتے ہیں۔ شاید دوتین سال قبل وہاں جمعہ پڑھا تو اعلان ہواکہ جنید جمشید آخر میں تقریر کرے گا۔ اب وہ کہتا پھرتا ہے کہ وہ عالم دین نہیں ہے اس لئے اس سے غلطی ہوگئی لیکن میں نے مسجد میں جو منظر دیکھا تھا اس میں تو وہ امام مسجد سے بھی زیادہ پراعتماد عالم دین بن کر اسلامی اصولوں کی وضاحت کررہا تھا۔ اس نے بہت سی جنرل باتیں کیں، لیکن جس بات پر اس کا زور تھا وہ یہ تھی کہ عورت مردسے کم تر ذات ہے اسلامی نقطہ نظر سے عورت پر لازم ہے کہ وہ مرد کے تابع رہ کر زندگی گزارے اور خاوند کو اجازت ہے کہ اگر اس کی بیوی فرماں برداری نہ کرے تو وہ اس کی مارپٹائی بھی کرسکتا ہے۔

میرے پڑھنے والے خواتین کے حقوق کے بارے میں میرے نظریات سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ میں نے اپنے پیشے اور روزگار کے ساتھ ساتھ جس بات پر توجہ دی ہے وہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ میں نے ہمیشہ مقدور بھر اس سلسلے میں کنٹری بیوٹ کیا ہے۔ خصوصاً گزشتہ پندرہ سال میں اپنی تحریروں کے ذریعے خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ اب جنید جمشید میرے سامنے بیٹھ کر خواتین کے حقوق کے خلاف بات کرے میں بھلا اسے کیسے معاف کرسکتا تھا؟

جب جنید جمشید نے خواتین کی تذلیل والی بات کی میں نے ہاتھ کھڑا کیا۔ جنید ہر بار مجھے دیکھ کر نظرانداز کرتا رہا۔ تقریر ختم ہوئی تو میں نے جمشید کو پکڑ لیا اور اسے کہا کہ آپ کی تقریر کے بارے میں میرے کچھ سوال ہیں ان کا جواب چاہئے ۔ جنید نے بڑی محبت سے میرے کندھے پرہاتھ رکھ کر کہا۔ ابھی باہر نکلتے ہیں تو بات کرتے ہیں۔ میرے دوست اور بالٹی مور کے ممتاز تاجر شہباز خاں میرے ہمراہ تھے جو مذہبی امور میں کافی معلومات رکھتے ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ جنید جمشید جو کچھ کہہ رہا ہے ہمارے مذہب میں ایسا کوئی حوالہ موجود نہیں ہے ۔ باہر نکل کرپارکنگ میں چلتے ہوئے میں نے جنید جمشید سے دوبارہ پوچھا کہ مجھے تو مذہب کا زیادہ علم نہیں ہے۔ آپ میری معلومات میں جواضافہ کررہے ہیں مجھے فقط قرآن پاک اور مستند احادیث مبارکہ کے چند حوالے دے دیجئے تاکہ میں اپنی سوچ تبدیل کرلوں۔ آپ نے منبر پر جب بات کی تب بھی آپ نے کوئی حوالہ نہیں دیا۔ جنید جمشید کا کہنا تھا کہ حوالے تو بے شمار ہیں لیکن فی الحال میرے پاس وقت نہیں ہے اورمجھے جانے کی جلدی ہے۔ اس کا میزبان بھی اسے لے جانے کے لئے بے چین ہورہا تھا۔ میں نے جاتے جاتے اسے اتنا ضرور کہا کہ آپ کو مسجد کے منبر پرکھڑے ہوکر مذہب کی ایسی توضیح بیان کرنے کا حق حاصل نہیں ہے جس کے ثبوت کے لئے حوالے پیش نہ کئے جا سکیں۔ جنید جمشید کے پاس کوئی جواب نہیں تھااس لئے اس نے خاموشی سے نکل جانے میں ہی عافیت سمجھی ۔

بعدازاں کچھ عرصہ پہلے منبر پر وعظ کرتے ہوئے اس نے پھر وہی بداحتیاطی کا طریقہ اختیار کیا۔اس پر اتنا احتجاج ہوا کہ جنید جمشید چھپتا رہا اور معافی مانگتا رہا کہ اگر یہ گستاخی ہے تو بے دھیانی میں ہوئی ہے اور اس میں اس کی کوئی نیت شامل نہیں تھی۔ اب چونکہ جنید جمشید کا تعلق تبلیغی جماعت سے تھا اس لئے خاص طورپر اس جماعت کے مخالفین کا غم و غصہ بڑھا اور ایئرپورٹ پر جنید جمشید پر تشدد کرنے والے یہی افراد تھے۔

یہ واقعات بیان کرنے کے بعد اب میں اپنی بات کو آگے بڑھانا چاہتا ہوں۔ میں نے امریکہ میں ہونے والا جو پہلا واقعہ بیان کیا ہے جس کا میں عینی شاہد ہوں اس میں جنید جمشید نے بغیر کوئی ثبوت پیش کئے یہ بیان کیا کہ اسلام کے مطابق عورت مرد سے کم تر ذات ہے اور جب اس سے پوچھا گیا تو وہ اسے ثابت کرنے کے لئے قرآن یا حدیث کا کوئی حوالہ پیش نہ کرسکا۔ اب دوسرے واقعے میں اس نے اسی طرح ٹھوکر کھائی ۔

جنید خود اپنے آپ کو عالم دین نہیں کہتا لیکن بغیر کسی اختیار کے جو علم وہ آگے غلط طورپر پھیلا رہا ہے وہ شاید اسے تبلیغی جماعت کے ادارے سے ملا ہے۔ ایک جنید جمشید پر ہی موقوف نہیں، ہماری مساجد اور مذہبی اداروں میں پتہ نہیں کتنے نام نہاد عالم دین ناکافی اور ناقص علم کو بغیر کسی مستند دینی ڈگری کے نشر کرنے میں مصروف ہیں۔ لیکن مجھے ذاتی طور پر سب سے زیادہ یہ بات کھٹکتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح جنیدجمشید نے خواتین کے خلاف اپنے دل میں نفرت پال رکھی ہے اور وہ کسی نہ کسی بہانے سے اس کا اظہار کرتا رہتا ہے اگر معاملہ مذہب سے باہر ہو تو شاید قابلِ ہضم ہو جائے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ مذہبی تصورات میں اسے شامل کرتا ہے۔

اب کرنا کیا چاہئے ؟ جنید جمشید نے جس طرح اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے اورمعافی مانگی ہے اس کی معافی قبول کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے۔ لیکن اس طرح کے مسائل جن میں مذہب کا حوالہ آتا ہے ان کے مسلسل تدارک کے لئے ایک حکومتی اور قومی سطح پر بھرپور جائزہ لے کر ایک ہمہ گیر پالیسی وضع کرنی چاہئے جواتفاق رائے پر مبنی ہو تاکہ حساس مذہبی معاملات پر کسی کو عام مسلمانوں کے جذبات کو ابھارنے کا موقع ہی نہ ملے۔

پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہے لیکن اگر ایسا نہ بھی ہوتاتو معاملہ پھر بھی ویسا ہی رہتا۔ پاکستان کے آئین اور اسلامی تصور کے مطابق اس ریاست کے تمام شہریوں مرد خواتین، مسلم غیرمسلم بچے بوڑھے سب کو یکساں انسانی حقوق حاصل ہیں۔ آئین میں واضح ہے کہ تمام قوانین شریعت کے مطابق ہوں گے۔ آئینی طورپر اسلامی نظریاتی کونسل بھی موجود ہے جو ضرورت پڑنے پر اسلامی نظریے کی وضاحت کرسکتی ہے۔ اعلیٰ ترین سطح پر ایک وفاقی شرعی عدالت بھی موجود ہے جو شرعی فیصلے کرنے کی مجاز ہے۔ اس سارے اہتمام کے باوجود اس ’’چیک اینڈ بیلنس‘‘ کو صحیح طریقے سے متحرک کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ یہ نظام فعال اور متحرک ہو تو پھر مذہبی معاملات کو جذباتی طورپر ایکسپلائٹ کرکے غلط راہ پر چلانے کی گنجائش ہی باقی نہ رہتی۔ کم ازکم جماعت اسلامی کے اس مطالبے کے خلوص پر مجھے کبھی شبہ نہیں ہوا کہ ملکی قوانین کو اسلامی نظام کی اصل روح کے مطابق ڈھالنا چاہئے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک غلط تاثرپیدا ہوچکا ہے کہ اگر اسلامی شریعت کے تقاضوں کے مطابق سارا سسٹم ڈھال دیا جائے تو شاید ہم ترقی کے آگے بڑھتے ہوئے راستے سے ہٹ کر پتھر کے زمانے کی طرف لو ٹ جائیں اہل اسلام نے اپنے آغاز کے وقت اپنا پیغام پھیلانے کے لئے ہرقسم کی مشکلات کا سامنا کیا اور پھر مخالف قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی ضرورت کے تحت کچھ ضوابط طے کئے معروضی حالات کے تحت اپنی حیثیت منوانے، اپنا مقام بنانے اور مخالفین کا مقابلہ کرنے کے لئے جنگیں بھی لڑیں اور جب زندگی معمول پر آنا شروع ہوئی تو پھر باقی دنیا پر واضح کیا کہ اسلام تو اصل میں امن، محبت، بھائی چارے، انصاف اور عدل کے پیغام کا علم بردار ہے۔ لیکن اسلام کے اس اصل مشن کے ساتھ اندر اور باہر سے دوہری زیادتی ہوئی۔ باہر کے لوگوں نے اسلام کی اصل روح کو نظرانداز کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اسلام تو نام ہی تلوار چلاکر علاقے فتح کرنے اور لوگوں کو طاقت کے زورپر زیرکرنے کا ہے۔ دوسری طرف اندر کے کچھ لوگوں کو بھی اسلام کے عالمگیر انسانی فلاح کے مشن کو پیچھے دھکیلتے ہوئے جہاد کی خود ساختہ تعبیر کرتے ہوئے امن وامان کو تہہ بالا اور بالواسطہ طور پر مخالفین کو پروپیگنڈے کا موقع دیتے ہیں۔

اسلام کے اصل پیغام اور اس کی روح سے آگاہ اہل دانش پاکستان میں موجود ہیں جو ریاستی نظام کو شرعی تقاضوں کے مطابق اس طرح ڈھالنے کے لئے ٹھوس تجاویز دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ اسلام کا شرعی نظام جہاں ایک آئیڈیل فلاحی معاشرہ قائم کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے، وہاں ملک کو جدید ترقی کی طرف بڑھنے کے لئے بھی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ اسلامی سکالرز نے اسلام کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام پر پہلے ہی کافی تحقیقی کام کررکھا ہے۔ ترقی پسند حضرات کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اسلام تنگ نظر ہرگز نہیں ہے۔ تمام مذاہب سے زیادہ ترقی کا علم بردارہے وہ ناقص اور کم علم رکھنے والے غیر معتبر نام نہاد مذہبی رہنماؤں کی غلط تعبیروں سے گمراہ نہ ہوں۔ ایک دفعہ سب لوگ کھلے دل کے ساتھ اسلام کے اصل نظام کو اس کی اصل روح کے ساتھ نافذ کرنے کے لئے تہیہ کرلیں۔ آئین میں یہ وعدہ موجود ہے۔ صرف جرأت اور دلیری کے ساتھ اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ جنید جمشید جیسے کچا پکا علم نشرکرنے والے نئے نئے شوقین منظر سے خود ہی غائب ہو جائیں گے۔

مزید :

کالم -